طالبان اور امریکہ دوحہ معاہدے پر قائم، مگر معاملات کا ازسرنو تعین

Updated: October 18, 2020, 12:18 PM IST | Agency | Doha

زلمے خلیل زاد نے ٹویٹ کرکے افغانستان میں تشدد کم کرنے کیلئے ضروری اقدامات پر طالبان سے امریکی کمانڈر کی ملاقات کی اطلاع دی

Zalmay Khalilzad - Pic : INN
زلمے خلیل زاد ۔ تصویر : آئی این این

امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان نے رواں سال فروری میںہوئے معاہدے پر سختی سے قائم رہتے ہوئے اقدامات کا از سر نو تعین کرنے پر اتفاق کیا ہے۔زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ  افغانستان میں جاری تشدد میں کمی ہو سکے۔خلیل زاد کے مطابق اس بات پر اتفاق ان کی اور افغانستان میں امریکی فورس کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر کی طالبان لیڈروں سے دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران کیا گیا۔
 خلیل زاد نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں گے اور دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے رہیں گے۔ان کے بقول تمام فریقین کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ 
 خلیل زاد نے اگرچہ ان اقدامات کی وضاحت نہیں کی۔ تاہم ان کے بقول ان اقدامات کا مقصد افغانستان میں پر تشدد کارروائیوں میں کمی لانا ہے۔ان کے بقول پر تشدد کارروائیوں میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور ان اقدامات کے دوبارہ تعین سے ہلاکتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف قطر میں واقع طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے امریکی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فریقین نے دوحہ معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا  گیا کہ اس پر بہتر طور پر کس طرح عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔ان کے بقول دونوں فریقین اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ معاہدے پر پوری طرح عمل درآمد کیا جائے۔
 یاد رہے کہ اس سال ۲۹؍ فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق امریکہ مئی ۲۰۲۱ء تک افغانستان سے اپنی باقی ماندہ فورس کا انخلا کر لے گا۔ جبکہطالبان  افغان سر زمین کو بیرونِ ملک حملوں کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں دیگر افغان فریقین سے مذاکرات کریں گے۔ مذکورہ مذاکرات اس وقت دوحہ میں جاری  ہیں لیکن بات  اس پر رکی ہوئی ہے کہ طالبان چاہتے ہیں کہ افغانستان میں شرعی حکومت قائم کی جائے جبکہ  اشرف غنی حکومت کا موقف ہے کہ وہاں جمہوری حکومت قائم کی جائے گی۔ حالانکہ امریکہ کے ساتھ ہوئے معاہدے میں بھی شریعت کے نفاذ کا تذکرہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK