جنوبی ہند کی ریاست میں بی جےپی کا کھاتہ کھلنا بھی مشکل ، بنگال میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیا، امیت شاہ نے مورچہ سنبھالامگرممتا پرعزم، کہا:ٹی ایم سی اقتدار میں لوٹے گی
EPAPER
Updated: April 21, 2026, 11:21 PM IST | Chennai
جنوبی ہند کی ریاست میں بی جےپی کا کھاتہ کھلنا بھی مشکل ، بنگال میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیا، امیت شاہ نے مورچہ سنبھالامگرممتا پرعزم، کہا:ٹی ایم سی اقتدار میں لوٹے گی
تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں موسم کی تمازت کے ساتھ ہی سیاسی درجہ ٔ حرارت بھی منگل کو بلندی پر پہنچ گیا۔ تمل ناڈو جہاں ایک ہی مرحلہ میں جمعرات، ۲۳؍ اپریل کو ووٹنگ ہوگی، میں انتخابی مہم کے اختتام سے قبل ڈی ایم کے، کانگریس اور معروف اداکار وجے کی پارٹی ٹی وی کے نے اپنی پوری طاقت جھونک دی جبکہ بی جےپی نے بھی اپنی اتحادی پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ مل کر ووٹرس کو رِجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ مغربی بنگال میں ۲۳؍ اپریل کو پہلے مرحلے کی پولنگ ہوگی۔ بی جے پی جسے تمل ناڈو میں کوئی بڑی کامیابی ملنے کی امید نہیں ہے، نےمغربی بنگال میں ٹی ایم سی سے اقتدار چھینے کیلئے پوری قوت لگادی ہے۔
تمل ناڈو میںڈی ایم کے کو بالادستی
تمل ناڈو جہاں حلقہ بندی، بدعنوانی اور ریاستی سیاست دانوں پربی جےپی کی مرکزی قیادت کے مبینہ کنٹرول جیسے مسائل انتخابی مہم کا مرکزی موضوع رہے، سے بی جےپی کیلئے کوئی اچھی خبر کی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ برسر اقتدار ڈی ایم کے نے کامیابی کے ساتھ اس الیکشن کوتمل ناڈو اور ’’دہلی- این ڈی اے‘‘ کے درمیان جنگ بنا کر آل انڈیا انا ڈی ایم کی امیدوں کو بھی معدوم کردیا۔ معروف اداکار وجے جو ریاست میں اپنی پارٹی ’ٹی وی کے ‘ کے ساتھ نئی سیاسی طاقت بن کر ابھرے ہیں، نے انتخابی مہم میں بی جےپی اور ڈی ایم کے سے یکساں دوری اختیار کرنے کی کوشش کی ۔
وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن، اے آئی اے ڈی ایم کے کے جنرل سیکریٹری کے پلانی سوامی، وزیر اعظم نریندر مودی اور ٹی وی کے کے سربراہ وجے سمیت دیگر لیڈروں نے ایک مہینے کے دوران ۲۳۴؍ اسمبلی حلقوں میں بھرپور مہم چلائی اور ووٹروں سے رابطہ کیا۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بھی تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی حمایت میں مہم چلائی۔
منگل کو انتخابی مہم کے آخری دن کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی جےپی کو آڑے ہاتھوں لیا اور اے آئی اے ڈی ایم کے کو اس کے ساتھ اتحاد کرنے پر ملامت کا نشانہ بنایا۔
مودی پراپوزیشن کو دہشت زدہ کرنے کا الزام
منگل کو کانگریس صدر نے تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور کانگریس اتحاد کے حق میں انتخابی مہم چلائی اور وزیراعظم نریندر مودی کو براہ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے مودی کو ’’جھوٹوں کا سردار‘‘ قرار دیتے ہوئے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ تمل ناڈو کی آل انڈیا انا ڈی ایم کے نے زعفرانی پارٹی سے اتحاد کررکھا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندرمو دی اپوزیشن کو دہشت زدہ کرتے ہیں۔ مہم کے آخری مرحلے میں حلقہ بندی، خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ اور آئینی ترمیمی بل کی شکست بڑے موضوعات بن کر سامنے آئے۔
مغربی بنگال میں امیت شاہ خیمہ زن
مغربی بنگال جہاں بی جےپی نے پوری طاقت جھونک دی ہے، میں الیکشن اس طرح ہو رہا ہے کہ چپے چپے پر مرکزی سیکوریٹی دستے تعینات ہیں۔ ٹی ایم سی نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ووٹنگ سے قبل بنگال میں کوئی بڑی گڑ بڑی ہوسکتی ہے۔ یہاں پہلے مرحلے میں۱۵۲؍ اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہوگی جن میں مجموعی طور پر ایک ہزار ۴۷۸؍ امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ یہاں بی جےپی کی مہم کی کمان وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، اور کئی مرکزی وزراء نے سنبھالی۔ شوبھندوادھیکاری اور شامک بھٹاچاریہ جیسے مقامی لیڈروں نے بھی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا۔انتخابی مہم میں متھن چکرورتی بھی پیش پیش رہے۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی نے محاذ سنبھالا۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بھی ٹی ایم سی کے حق میں کئی ریلیاں کیں۔ منگل کو بھی ممتا بنرجی نے پورے یقین کے ساتھ اعلان کیا کہ بنگال میں ٹی ایم سی ہی اقتدار میں لوٹے گی۔
بنگال میں پہلے مرحلے میں کہاں کہاں ووٹنگ
مغربی بنگال کے جن علاقوں میں پہلے مرحلے میں ووٹنگ ہوگی، ان میں شمالی بنگال، جنوبی بنگال اور جنگل محل کے متعدد اضلاع شامل ہیں۔ ان اضلاع میں مرشد آباد، کوچ بہار، جلپائی گڑی، علی پور دوار، کالیمپونگ، دارجلنگ، اتر دیناجپور، دکشن دیناجپور، مالدہ، بیر بھوم، مغربی بردھمان، پورب میدنی پور، پشچم میدنی پور، جھارگرام، پرولیا اور بانکوڑا شامل ہیں، جہاں انتخابی سرگرمیاں عروج پر رہی ہیں۔