Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ ٹیرف غیر آئینی، اربوں ڈالر کے ری فنڈ کا عمل شروع

Updated: April 21, 2026, 8:04 PM IST | Washington

ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں لگائے گئے ہنگامی ٹیرف کو امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے غیر آئینی قرار دینے کے بعد اب ۱۶۶؍ بلین ڈالر سے زائد ری فنڈز کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے CAPE پورٹل لانچ کیا ہے۔ تاہم ہندوستانی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ نہیں بلکہ امریکی درآمد کنندگان کے ذریعے حصہ ملے گا۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد اب اربوں ڈالر کے ری فنڈ کا دروازہ کھل گیا ہے۔ یہ ٹیرف کانگریس کی مکمل منظوری کے بغیر نافذ کیے گئے تھے، جس پر عدالت نے سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں کالعدم کر دیا۔ اس فیصلے کے فوری بعد یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے ۲۰؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو CAPE (Consolidated Administration and Processing of Entries) نامی ایک نیا آن لائن پورٹل لانچ کیا، جس کے ذریعے متاثرہ کاروبار اپنی ادا کی گئی ڈیوٹیز کی واپسی کے لیے دعوے جمع کرا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’مجھے ان سے ملنے میں کوئی اعتراض نہیں‘ ٹرمپ کی ایرانی لیڈروں سے ملاقات کی پیشکش

ابتدائی اندازوں کے مطابق، کل ممکنہ ری فنڈز ۱۶۶؍ بلین ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں، جن میں سے تقریباً ۱۰؍ سے ۱۲؍ بلین ڈالر ہندوستانی برآمدات سے منسلک ہیں۔ یہ رقم خاص طور پر ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اور کیمیکل سیکٹرز میں مرکوز ہے، جنہوں نے سب سے زیادہ ٹیرف کا بوجھ برداشت کیا تھا۔ تاہم، یہاں ایک اہم پیچیدگی یہ ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں براہ راست ری فنڈ کا دعویٰ نہیں کر سکتیں۔ قانونی طور پر یہ حق صرف امریکی درآمد کنندگان یا کسٹم بروکرز کے پاس ہے جنہوں نے اصل میں ڈیوٹی ادا کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اربوں ڈالر کی واپسی پہلے امریکی کمپنیوں کو ملے گی، اور ہندوستانی برآمد کنندگان کو اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے علیحدہ مذاکرات کرنے ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق ہندوستانی کمپنیوں کے لیے تین ممکنہ راستے ہیں:
(۱) امریکی خریداروں کے ساتھ ری فنڈ شیئرنگ معاہدے
(۲) پرانی قیمتوں پر دوبارہ گفت و شنید
(۳) مستقبل کے آرڈرز میں مسابقتی قیمتوں کا فائدہ اٹھانا

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ بازار میں اتار چڑھائو کیلئے بیان دیتے ہیں؟

ٹیکس ماہر سہراب براریا کے مطابق CAPE پلیٹ فارم ری فنڈ پروسیسنگ کو تیز کرے گا اور کاروباری اداروں کے لیے نقد بہاؤ بہتر بنانے میں مدد دے گا، لیکن اس کے ساتھ ہی درست ڈیٹا اور دستاویزات کی فوری تیاری کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ اب تک ۵۶؍ ہزار سے زائد درآمد کنندگان تقریباً ۱۲۷؍ بلین ڈالر کے ری فنڈ کلیمز کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق منظور شدہ دعووں کی ادائیگی ۶۰؍ سے ۹۰؍ دن کے اندر کی جائے گی، تاہم تکنیکی مسائل اور پیچیدہ دستاویزی تقاضے عمل کو سست کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ہندوستان جیسے برآمدی معیشت کے لیے ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ اگر ہندوستانی کمپنیاں مؤثر طریقے سے اپنے امریکی شراکت داروں سے مذاکرات کر لیتی ہیں، تو یہ اربوں ڈالر کی ممکنہ واپسی نہ صرف نقصانات کی تلافی کر سکتی ہے بلکہ مستقبل میں عالمی مسابقت کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK