Inquilab Logo Happiest Places to Work

کسانوں کے بہانے فرنویس پرنشانہ، ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ، یہ چپقلش ہے یا کوئی دائو

Updated: June 11, 2026, 7:21 AM IST | Mumbai

بچو کڑو سمیت شیوسینا (شندے) کے کئی کارکنان کسانوں کی قرض معافی کے تعلق سے اپنی ہی حکومت پر تنقید کر چکے ہیں ، ساتھ ہی وہ قرض معافی کیلئے شندے کو وزیر اعلیٰ بنانے کی فرمائش کر رہے ہیں

Has Eknath Shinde made Bachu Kadu an MLC for this very purpose? (File photo)
کیا ایکناتھ شندے نے بچو کڑو کا اسی کام کیلئے ایم ایل سی بنایا ہے؟(فائل فوٹو)

نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کچھ عرصہ پہلے ودربھ میں جدوجہد اور احتجاج کی بنا پر اپنی شناخت رکھنے والے بچو کڑو کو اپنی پارٹی شیوسینا (شندے) میں شامل کروایا اور انہیں ودھان پریشد کی رکنیت دلوائی۔کہا گیا کہ ودربھ میں شیوسینا (شندے) کی توسیع کیلئے ایکناتھ شندے نے یہ دائو کھیلا ہے کیونکہ بچو کڑو کی زمینی سطح پر کسانوں اور پسماندہ طبقات میں پکڑ ہے۔ بچو کڑو نے بھی اپنی پارٹی پرہار جن شکتی کو سیاسی پارٹی سے سماجی تنظیم میں تبدیل کر دیا اور کود شیوسینا (شندے) میں شامل ہو گئے۔ 
 اب انہی بچو کڑو نے ودربھ کے مختلف اضلاع کا دورہ شروع کیا ہے اور کسانوں کی قرض معافی کے تعلق سے لگائی گئی فرنویس حکومت کی شرائط پر تنقیدیں کر رہےہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر کسانوں کے ساتھ نا انصافی ہوئی تو وہ اپنی ہی( مہایوتی) حکومت کے خلاف احتجاج کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ بچو کڑو کا کسانوں کے حق میں احتجاج کرنے اور بھیڑ اکٹھا کرنے کے تعلق سے اپنا ایک ریکارڈ رہا ہے۔ جس حکومت میں وہ شامل ہوں اسی کو تنقید کا نشانہ بنانا بھی ان کی عادت رہی ہے لیکن سب کی بھنویں اس وقت تن گئیں جب اگلے ہی روز بچو کڑو نے مطالبہ کر دیا کہ ایکناتھ شندے کو مہاراشٹر کا وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ انہوں نے اس مطالبے کو کسانوں کے جدوجہد سے بھی جوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ ۱۵؍ یا ۲۰؍ دنوں سے ودربھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ خود میں نے ۴؍ دنوں میں ۲۰؍ جلسوں سے خطاب کیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہی ودربھ اب ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ بنائے گا۔ انہوں نے کہا ’’ اب شیوسینکوں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا، اب انہیں جدوجہد شروع کرنی ہوگی اور خدمت گزار اور خاموش مزاج ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ بنانا ہوگا۔ ‘‘ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اپنے دم پر ( مہایوتی سے باہر نکل کر ) یا کسی اور طریقے سے یہ ابھی طے نہیں ہے لیکن ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ بنانا ہی ہے۔  
 بہت ممکن ہے کہ بچو کڑو کے اس بیان کو اس پس منظر میں دیکھا جائے کہ ایکناتھ شندے نے انہیں ودربھ میں پارٹی کو بڑھانے کا ذمہ سونپا ہے اس لئے وہ الگ الگ علاقوں کا دورہ کرکے اس طرح کی مہم چلا رہے ہوں لیکن بچو کڑو کے اس بیان کے سرخیوں میں آنے کے دوسرے ہی دن احمد نگر میں شیوسینا (شندے) نے حکومت کی جانب سے کسانوں کی قرض معافی کیلئے عائد کی گئی شرائط کے خلاف احتجاج کیا ۔ اس موقع پر شیوسینکوں نے براہ راست مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کا قرض بلا کسی شرط مکمل طور پر معاف کرے اور جو شرائط وضوابط عائد کی گئی ہیں انہیں ختم کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسانوں پر عائد شرائط کو ختم کروانا ہے تو شیوسینکوں کو راستوں پر اترنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ براہ راست ایکناتھ شندے سے مطالبہ کریں وہ وزیر اعلیٰ سے بات کرکے ان شرائط کو ختم کروا دیں گے۔ اس سوال کا جواب اسی احتجاج کے دوران کئے گئے اگلے مطالبے میں پوشیدہ ہے۔ 
 احتجاج کر رہے رویندر مورے کا کہنا تھا ’’ ۲۰۲۴ء کے الیکشن میں دیویندر فرنویس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسانوں کا سات بارہ پوری طرح کورا کر دیں گے یعنی مکمل قرض معاف کر یں گے لیکن اب کسانوں کی قرض معافی پر کئی طرح کی شرائد عائد کر دی گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے ۱۰؍ فیصد کسانوں کو بھی قرض معافی کا فائدہ نہیں ملے گا۔‘‘  انہوں نے کہا ’’اگر ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ ہوتے تو وہ اس طرح کی کوئی بھی شرط عائد نہیں کرتے کیونکہ وہ ایک کسان کے بیٹے ہیں۔‘‘ مورکے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کسانوں کیلئے احتجاج کے بہانے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو نشانہ بنایا جا  رہا ہے۔  
 تو کیا ایکناتھ شندے واقعی اب دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کیلئے کوئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں؟ یا وہ صرف وزیر اعلیٰ پر دبائو بنانے کیلئے یہ سب کروا رہے ہیں؟  یاد رہے کہ مہایوتی کے اندر سے چھن چھن کر اختلافات کی خبریں آ رہی ہیں لیکن ہر بار دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے کی ملاقات کے بعد یہ خبریں بے بنیاد بتائی جانے لگتی ہیں یا پھر ایکناتھ شندے کے دہلی جا کر آنے کے بعد کہہ دیا جاتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ لیکن یوں باقاعدہ وزیر اعلیٰ کو نشانہ بناکر شندے کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ پہلی بار ہو رہا ہے۔ ایکناتھ شندے کے قریبی ساتھی اور ریاستی وزیر اودئے سامنت سے جب بچو کڑو کے بیان پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا’’میرا بھی مطالبہ ہے کہ ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ بچو بھائو نے کچھ غلط نہیں کہا ہے۔ جس طرح   بی جے پی والوں کی خواہش رہتی ہے کہ دیویندر فرنویس ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوں اسی طرح ہماری خواہش ہے کہ ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ بنیں۔‘‘ 
 سب سے اہم بات تو تب ہوئی جب دہلی میں صحافیوں نے براہ راست ایکناتھ شندے سے یہ سوال کیا کہ بچو کڑو نے آپ کو وزیر اعلیٰ بنانے کی بات کہی ہے ، اس پر شندے نے مسکراتے ہوئے کہا ’’ میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے کیا بیان دیا ہے، اس کے بعد ہی میں کچھ کہوں گا۔‘‘ یعنی انہوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے خواہشمند ہیں۔  فی الحال دیویندر فرنویس کا ان پر ہونے والی تنقیدوں پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔     

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK