ودھان پریشد الیکشن میں نام واپس لینے کی آخری تاریخ پر مہا وکاس اگھاڑی کے متعدد امیدواروں نے اپنا پرچہ اچانک واپس لے لیا۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 10:10 AM IST | Pune
ودھان پریشد الیکشن میں نام واپس لینے کی آخری تاریخ پر مہا وکاس اگھاڑی کے متعدد امیدواروں نے اپنا پرچہ اچانک واپس لے لیا۔
میونسپل الیکشن کی طرح ودھان پریشد الیکشن میں بھی مہایوتی زیادہ سے زیادہ سیٹیں بلا مقابلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اطلاع کے مطابق ودھان پریشد الیکشن کی جن ۱۷؍ سیٹوں پر۱۸؍ جون کو الیکشن ہونے والے تھے ان میں سے ۸؍ سیٹیں بلا مقابلہ مہایوتی کے حصے میں آ گئی ہیں۔ اب صرف ۹؍ سیٹوں پر پولنگ ہوگی۔ یاد رہے کہ ۴؍ جون ( جمعرات) پرچہ ٔ نامزدگی واپس لینے کا آخری دن تھا ۔ مہا وکاس اگھاڑی کے امیدواروں نے اعلیٰ کمان سے پوچھے بغیر پرچے واپس لے لئے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کو پارٹی سے نکالا بھی گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ماہرین ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کہ اس مرتبہ معمول سے کم بارش کے امکانات ہیں؟
جمعرات کا دن مہا وکاس اگھاڑی کیلئے کافی جدوجہد والا رہا کیونکہ اس کے کئی امیدواروں نے اپنے اپنے پرچے واپس لے لئے اور مہایوتی کے امیدواروں کو براہ راست منتخب ہونے میں مدد کی۔ تھانے میں شیوسینا (شندے) کے رویندر پھاٹک نے بلامقابلہ کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ رائے گڑھ۔ رتناگیری ۔ سندھو درگ سیٹ پر سنیل تٹکرے کے بیٹے انکیت تٹکرے کو بغیر لڑے کامیابی ملی ہے۔ پونے میں بھی این سی پی (اجیت) نے ہی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہاں پارٹی کے امیدوار وکر م کاکڑے بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے دلچسپ سیٹ وردھا۔ چندر پور گڈ چرولی کی تھی جس پر بی جے پی امیدوار ارون لکھانی بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں جوکہ این سی پی (شرد) کی کار گزار صدر سپریہ سلے کے سمدھی ہیں۔ ان کی جیت طے سمجھی جا رہی تھی کیونکہ مہا وکاس اگھاڑی ہی کی طر ف سے ان کیلئے نرم گوشہ دکھائی دے رہا تھا۔
ان کے علاوہ ایوت محل سےدشینت چترویدی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ودھان پریشد کا پروانہ ملا ہے۔ انہوں نے شیوسینا (شندے) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ احمد نگر سیٹ پر بی جے پی کے پراجکت تانپورے کامیاب ہوئے ہیں۔ اس طرح مہایوتی کو حاصل ہونے والی ۶؍ سیٹوں میں بی جے پی، شیوسینا(شندے) اور این سی پی (اجیت) تینوں کے حصے میں دو دو سیٹیں آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کاکروچ جنتا پارٹی کے غصے کو جمہوری جدوجہد میں بدلیں:ششی تھرور کا جین زی کو مشورہ
ادھر مہا وکاس اگھاڑی میں اس طرح اچانک اپنے امیدواروں کے پرچہ واپس لینے پر کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ شیوسینا (ادھو) نے آناً فاناً کارروائی کرتے ہوئے کوکن میں رائے گڑھ۔ رتنا گیری۔ سندھو درگ سیٹ سے نام واپس لینے والے بال مانے کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ بال مانے نارائن رانے کے قریبی سمجھے جاتے ہیں ۔ وہ بی جے پی چھوڑ کر شیوسینا (ادھو) میں شامل ہوئے تھے۔ انہیںادھو ٹھاکرے نے ودھان پریشد کا ٹکٹ دیا مگر انہوں نے عین موقع پر اپنا فارم واپس لے کر مہایوتی کا راستہ صاف کیا اور انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نتیش رانے کے کہنے پر اپنا فارم واپس لیا۔ کوکن کے علاوہ اورنگ آباد۔ جالنہ سیٹ پر بھی شیوسینا ( ادھو) کی خاتون لیڈر دیویانی ڈونگائونکر نے اپنا نام واپس لیا ہے ۔ انہیں بھی پارٹی نے نکال دیا ہے۔ جبکہ ان کے شوہر کرشنا ڈونگائونکر کو بھی پارٹی نے برخاست کر دیا ہے۔ فی الحال کانگریس کی جانب سے کسی کو نکالنے کی خبر نہیں آئی ہے ۔ ایوت محل میں کانگریس امیدوار نے نام واپس لیا ہے۔ خبر لکھے جانے تک ۶؍ سیٹوں پر مہایوتی کی جیت کی تصدیق ہو چکی تھی۔