کل جی ایس ٹی کونسل میں کئی اہم فیصلوں اور نظام کے اصلاح کی امید۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 12:45 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
کل جی ایس ٹی کونسل میں کئی اہم فیصلوں اور نظام کے اصلاح کی امید۔
جی ایس ٹی کونسل بدھ۷؍ اکتوبر کو ہونے والی اپنی میٹنگ میں ملک کے بالواسطہ ٹیکس نظام میں بڑی اصلاحات کی منظوری دے سکتی ہے۔ نئی تجویز کے تحت ٹیکس حکام سے براہ راست گرفتاری کا اختیار واپس لینے اور ٹیکس فراڈ کے مجرمانہ معاملات کی حد بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ستمبر۲۵ءمیں جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی کے بعد حکومت اب ’نیکسٹ جنریشن جی ایس ٹی‘ کے تحت ٹیکس انتظام اور ضوابط کو آسان بنانے اور تاجروں کو راحت دینے پر کام کر رہی ہے۔گرفتاری کے اختیار ات سے متعلق نئی تجویز کے تحت سی جی ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ۶۹؍ میں ترمیم کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اب تک کمشنر کی سطح سے منظوری ملنے کے بعد جی ایس ٹی افسر کسی شخص کو براہ راست گرفتار کر سکتے تھے۔
نئی تبدیلی کے بعد افسران سے یہ اختیار واپس لے لیا جائے گا۔ اب کسی بھی گرفتاری کیلئے عدالتی منظوری کا حکم لازمی ہوگا۔ اسی طرح فی الحال ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی ٹیکس چوری یا جعلی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے دعویٰ کے معاملوں میں مجرمانہ کارروائی اور گرفتاری کی گنجائش ہے۔ تجویز کے مطابق فوجداری کیس کی اس حد کو ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر براہ راست۵؍ کروڑ روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یعنی ۵؍ کروڑ روپے سے کم کے معاملات میں فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اس ماہ ریپو ریٹ میں ۲۵ء۰؍ پوائنٹس اضافے کا امکان
حکومت نے واضح کیا ہے کہ درجہ بندی، قیمت کے تعین یا ان پٹ ٹیکس کریڈٹ سے متعلق معمول کے تنازعات کو مجرمانہ کارروائی کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا۔ کئی بار کسی ایک لین دین کی تعریف کو لے کر کاروبار اور ٹیکس حکام کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔ ایسے معاملات کو اب جرم نہیں سمجھا جائے گا۔
تاجروں اور کاروباریوں کو راحت
گرفتاری کا اختیار چھننے سے امید ہے کہ افسران کی من مانی پر روک لگے گی۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد پر قانونی کارروائی کا بوجھ کم ہوگا اوران کیلئے کاروبار میں آسانی پیدا ہوگی۔ سرکار کو امید ہے کہ اس فیصلے سے حکومت اور کاروباری افراد کے درمیان اعتماد کا ماحول بہتر ہوگا، جس سے کاروبار کرنا آسان ہوگا۔
چھوٹ اور راحت
چھوٹے ٹیکس دہندگان کیلئے تاخیر سے فائلنگ کی فیس معاف کرنے اور جرمانے کو منطقی بنانے کی بھی تیاری ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہندوستان کے بالواسطہ ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلی ہے۔ اب ٹیکس کا نفاذ ’خوف اور گرفتاری‘ کے بجائے ’ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور شہری وصولی‘ پر مبنی ہوگا۔