ناسک اور اورنگ آبادپولیس کی مشترکہ کارروائی، ایک بنگلے میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ مقیم تھی، ۱۱؍مئی تک پولیس تحویل میں بھیجا گیا
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 1:52 AM IST | Aurangabad
ناسک اور اورنگ آبادپولیس کی مشترکہ کارروائی، ایک بنگلے میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ مقیم تھی، ۱۱؍مئی تک پولیس تحویل میں بھیجا گیا
ناسک کی ٹاٹا کنسلٹنسی سروس میں پیش آئے مبینہ جنسی زیادتی اور تبدیلیٔ مذہب کے معاملے میں واحد خاتون ملزم ندا خان کو پولیس نے اورنگ آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔ نداخان کو پولیس گزشتہ ۱۰؍ اپریل سے تلاش کر رہی تھی۔ اطلاع کے مطابق پولیس نے اورنگ آباد کے نرے گائوں علاقےمیںواقع ایک بنگلہ سے ندا خان کو حراست میں لیا جہاں وہ اپنے چار رشتے داروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ یاد رہے کہ ٹی سی ایس کمپنی کی ایک ۲۳؍ سالہ لڑکی نے الزام لگایا تھا کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے دانش خان نامی شخص نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی اور اس کا مذہب تبدیل کروانے کی کوشش کی تھی۔ دانش کے علاوہ مزید ۷؍ لوگوں کو اس معاملے میں ملزم بنایا گیا تھا جن پر تبدیلی مذہب کا ریکیٹ چلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔۷؍ لوگ پہلے گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ ندا خان جسے پہلے ایچ آر ہیڈ بتایا جا رہا تھا، فرار تھی۔
گزشتہ ہفتے ناسک سیشن کورٹ نے ندا خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد ناسک سٹی پولیس اور اورنگ آباد پولیس نے مشترکہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کی دیر رات نداخان کو اورنگ آباد کے نرے گائوں علاقے واقع کوثر پارک نامی مقام سے ڈھونڈ نکالا جہاں وہ اپنی ماں، خالہ اور ۲؍ مرد رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ یہ بنگلہ دیگر عمارتوں سے الگ تھلگ واقع ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ندا خان کو ڈھونڈنے کیلئے تکنیکی وسائل کا استعمال کیا اور اس کے فون کو ٹریس کرنے سے اس کے لوکیشن (مقام) کا پتہ چلا۔ پولیس ندا خان کو رات ہی میں ناسک لے آئی تھی جہاں جمعہ کے روز اسے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔
پولیس نے عدالت سے ندا خان کی ۷؍ دنوں کی تحویل مانگی تھی مگر عدالت نے ۱۱؍ مئی تک یعنی ۳؍ دنوں کی پولیس تحویل دی۔ ندا خان کے وکیل راہول کسلیوال نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’’ اسی عدالت نے پہلے ندا خان کی پیشگی ضمانت درخواست مسترد کی تھی، اسلئے پولیس تحویل ملنے کا امکان پہلے سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ نے برقع سے متعلق ایک مسئلہ اٹھایا، لیکن برقع کہاں سے لایا گیا اس سے کیا تعلق بنتا ہے؟ کیونکہ وہ کوئی ممنوعہ چیز نہیں ہے اور کہیں سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ندا خان پر موبائل میں کچھ ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے اور لنک بھیجنے کے الزامات لگائے گئے ہیں، جبکہ کسی لنک کو بھیجنا یا وصول کرنا کوئی مشکل یا غیر معمولی بات نہیں۔ ان کے مطابق تمام معلومات پہلے ہی موبائل فون میں موجود ہیں اور موبائل پولیس نے پہلے ہی ضبط کر لیا ہے۔ راہل کسلیوال نے کہا کہ اس وقت صرف زبانی پوچھ تاچھ جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک حاملہ خاتون کو کتنے دنوں کی پولیس تحویل دی جانی چاہئے، اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہر شخص کو قانون کے تحت دستیاب دفعات اور حقوق استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، اسلئے ندا خان نے پیشگی ضمانت کی درخواست دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صرف مقدمہ درج ہونے سے کسی شخص کا فوراً حاضر ہونا لازمی نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بے قصور بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ندا خان حاملہ ہیں اور انہیں دوا اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ان کی والدہ کو بطور نگہداشت کرنے والی خاتون ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ عدالت نے میڈیکل اسسٹنٹ فراہم کرنے کی اجازت بھی منظور کی ہے۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ندا خان کا تعلق ملیشیا اور مالیگائوں سے جوڑنے کی کوشش کی تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے ندا کو ۱۱؍ مئی تک پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم سنایا۔