ونچت بہوجن اگھاڑی کے کارکنان نے وزیر اعظم کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا، سڑک پر بیٹھ کر ٹریفک جام کیا۔
ونچت بہوجن اگھاڑی کے کارکنان احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
پرکاش امبیڈر کی پارٹی ونچت بہوجن اگھاڑی نے ان دنوں ’مودی ہٹائو دیش بچائو ‘ مہم چھیڑ رکھی ہے۔ اسی سلسلے میں بدھ کو پارٹی کارکنان نے اورنگ آباد میں راستہ روکو آندولن کیا۔
پارٹی کارکنان نے شہر کے کرانتی چوک میں جمع ہو کر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگائے اور راستے پر بیٹھ کر ٹریفک بلاک کر دیا۔ اس موقع پر کارکنان نے ’مودی ہٹاؤ، دیش بچاؤ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ ساتھ ہی مظاہرین نے ’’مُدرا مودی سے مجرا مودی‘‘کی آوازیں بھی لگائیں ۔احتجاج کے دوران کارکنان نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور کچھ مرکزی وزراء کے نام ایپسٹن فائل میں آئے ہیں۔ اسی لئے امریکہ کے صدرڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مودی کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث امریکہ کے ساتھ یکطرفہ تجارتی معاہدہ کیا گیا جبکہ فرانس کے ساتھ رافیل معاہدہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے یکطرفہ معاہدوں کی وجہ سے ملک کی خودمختاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ کارکنان نے الزام لگایا کہ مودی حکومت ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، اسی کے خلاف احتجاج درج کروانے کیلئے راستہ روکو تحریک چلائی گئی۔ اس دوران مظاہرین کا ارادہ تھا کہ وہ وزیر اعظم کے پتلے کو نذر آتش کریںلیکن وہاں موجود پولیس اہلکار نریندر مودی کا پتلا ان سے چھین کر اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔
مظاہرین نے اس موقع پر عوام سے اپیل کی کہ ملک کو بچانے کیلئے مودی کو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہے اسلئے وہ اس مہم میں شامل ہوں۔ اس احتجاج میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی رکن و کارپوریٹر امیت بھوئیگل، ضلع انسپکٹر (مشرقی) یوگیش بن، ضلع صدر (مشرقی) رامیشور تایدے، ضلع صدر (مغربی) روپ چند گاڈیکر، یوتھ ضلع صدر ستیش گائیکواڑ، خواتین ضلع صدر کومل ہیورالے، شہر صدر پنکج بنسوڑے، یوتھ شہر صدر (مرکزی) سندیپ جادھو اور یوتھ شہر صدر (مغربی) راہل مکاسرے سمیت دیگر عہدیداران اور کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔یاد رہے کہ اس سے قبل پارٹی کارکنان ناندیڑ میں بھی احتجاج کر کر چکے ہیں۔