Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایندھن کی قلت کی افواہ، پیٹرول پمپ پر قطاریں

Updated: March 06, 2026, 8:38 AM IST | Ratnagiri

خبر پھیل گئی کہ ملک میں صرف ۴؍ یا؍ ۵؍ دن کا ایندھن باقی رہ گیا ہے، رتناگیری ، اورنگ آباد ، جالنہ میں لوگ ’ٹینک فل‘ کروانے نکل پڑے

Crowd gathered at a petrol pump in Aurangabad (Agency)
اورنگ آباد کے ایک پیٹرول پر جمع بھیڑ( ایجنسی)

عوام کے ذہنوں میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ ایران ۔ اسرائیل جنگ کے سبب پیٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے ، یا ان کے دام بڑھ سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ اس وقت سامنے آیا جب بدھ اور جمعرات کو مہاراشٹر کے کچھ اضلاع میں اچانک پیٹرول پمپ پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ خاص کر رتنا گیری اور اورنگ آباد میں گاڑیوں میں ایندھن بھروانے کیلئے لوگوں کو پیٹرول پمپ پر کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ اطلاع کے مطابق ان لوگوں کو کسی نے بتا دیا تھا کہ ملک میںاس وقت پیٹرول کا اتنا ہی ذخیرہ ہے کہ۴؍ یا ۵؍ دن کام آ سکے۔ حالانکہ ضلع انتظامیہ نے اور پیٹرول پمپ مالکان نے اس بات کی تردید کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: ۲۰۲۶ء میں تنخواہوں میں ۱۰؍ فیصد اضافہ متوقع: رپورٹ

 اطلاع کےمطابق جمعرات کو کوکن کے ضلع رتنا گیری کے کئی علاقوں میں پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ لوگوں میں کسی نے افواہ پھیلا دی تھی کہ ہندوستانی تیل کمپنیوں کے پاس پیٹرول اور ڈیزل کا صرف ۴؍ یا ۵؍ دنوں تک کا اسٹاک باقی رہ گیا ہے۔ لوگوں اپنی گاڑیوں کے ٹینک فل کروانے شروع کر دیئے۔ پیٹرول پمپ پر بھیڑ کو قابو کرنا مشکل ہونے لگا۔ یہ اطلاع ضلع انتظامیہ تک پہنچی۔رتنا گیری کے ضلع کلکٹر منوج جندل نے مہاراشٹر میں تیل سپلائی کرنے والی ہندوستان پیٹرولیم، بھارت پیٹرولیم اور انڈین آئل ان تینوں کمپنیوں کے مقامی نمائندوں سے براہ راست رابطہ کیا اور ایندھن کے اسٹاک کی تفصیلات معلوم کیں۔ انہیںبتایا گیا کہ رتنا گیری اور دیگر علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔ نیز کمپنی کی طرف سے آئندہ کیلئے بھی کوئی ہدایت یا الرٹ جاری نہیں کیا گیا ہے ۔
 اسکے بعد منوج جندل نے اپیل جاری کی کہ عوام بلاوجہ پریشان نہ ہوں ۔ تیل کمپنیوں کے پاس ایندھن کا خاطر خواہ اسٹاک موجود ہے۔ اب تک نہ حکومت کی جانب سے نہ ہی تیل کمپنیوں کی جانب سے تیل کی کمی کے تعلق سے کوئی اشارہ دیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز بحران: ہندوستان میں ایل پی جی سپلائی متاثر، صرف ۳۰؍ دنوں کا اسٹاک

 کچھ ایسی ہی صورتحال بدھ کی شام اورنگ آباد شہر میںبھی دکھائی دی تھی۔ اطلاع کے مطابق اورنگ آباد میں منگل ہی سے سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک کم ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ ہی دنوں میں یہ اسٹاک بھی ختم ہونے والا ہے۔ دوپہر ہونے تک کئی پیٹرول پمپوںکے آگے گاڑیوں کی قطار لگ گئی۔ لوگ اپنی گاڑیوں کے ٹینک فل کروانے لگے۔ جیسے جیسے وقت بڑھتا گیا، پیٹرول پمپ پر قطار بھی بڑھتی گئی ، حتیٰ کہ بعض مقامات پر افراتفری کا عالم پیدا ہو گیا۔ قطاروں کو کنٹرول کرنے اور پیٹرول پمپ گاڑیوں کی آمدورفت کو معمول پر لانے کیلئے ٹریفک پولیس کا سہارا لینا پڑا۔ کئی پیٹرول پمپ پر ان کا اپنا اسٹاک ختم ہو گیا اور انہیں ’نو اسٹاک‘ کا بورڈ لگانا پڑا، تو بعض مقامات پر انہوں نے پیٹرول کی حد مقرر کر دی۔ پیٹرول پمپ کے باہر سڑک پر گاڑیوں کی قطاریں دکھائی دینے لگیں۔ اورنگ آباد پیٹرول پمپ ڈیلرس ایسوسی ایشن کے سربراہ عتیق عباس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں کیونکہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کا خاطر خواہ اسٹاک موجود ہے۔ اب تک حکومت نے اس تعلق سے کوئی بھی الرٹ جاری نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو شہر میں بعض پیٹرول پمپ پر ایندھن ختم ہوا ہے تو اس کی وجہ پیٹرول یا ڈیزل کی کمی نہیں بلکہ لوگوں کا ضرورت سے زیادہ پیٹرول بھروالینا ہے۔ انہوں نے گزارش کی کہ لوگ صرف ضرورت کے مطابق پیٹرول بھروائیں بلاوجہ ٹینک فل نہ کروائیں تاکہ اس افراتفری کے عالم سے بچا جا سکے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہولی کی چھٹی کے سبب پیٹرول پمپ پر تھوڑی بھیڑ زیادہ دکھائی دی جس سے یہ افواہ پھیل گئی کہ ایندھن ختم ہو رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK