Updated: April 13, 2026, 7:02 PM IST
| Mumbai
ہندوستانی فلمی موسیقی کی عظیم آواز آشا بھوسلے کی آخری رسومات ممبئی کے شیواجی پارک شمشان گھاٹ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ہزاروں مداحوں، سیاسی رہنماؤں اور فلمی شخصیات کی موجودگی میں ادا کی گئیں۔ شام ۴؍ بجے ہونے والی اس آخری رسم کے ساتھ ہی آٹھ دہائیوں پر محیط ایک عظیم موسیقی کا سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
آشا بھوسلے کی آخری رسومات۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی فلمی موسیقی کی عظیم آواز آشا بھوسلے کی آخری رسومات پیر کے روز ممبئی کے شیواجی پارک شمشان گھاٹ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ہزاروں مداحوں، سیاسی رہنماؤں اور فلمی شخصیات کی موجودگی میں ادا کی گئیں۔ شام ۴؍ بجے ہونے والی اس آخری رسم کے ساتھ ہی آٹھ دہائیوں پر محیط ایک عظیم موسیقی کا سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
آخری رسومات کے موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس، نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سنیترا پوار سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔ فلمی دنیا سے عامر خان، انو ملک، وکی کوشل اور شان سمیت کئی فنکاروں نے شرکت کی۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان غمزدہ مداحوں کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔
آشا بھوسلے کا انتقال ۱۲؍ اپریل ۲۰۲۶ءکو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں ہوا، جہاں وہ ۱۱؍ اپریل سے زیر علاج تھیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق وہ سینے کے انفیکشن، شدید کمزوری اور ملٹی آرگن فیلئر کے باعث انتقال کر گئیں۔ ڈاکٹر پرتیت سمدانی نے ان کی موت کی وجوہات کی تصدیق کی۔ ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے آخری رسومات کی تفصیلات جاری کیں۔ اس سے قبل ان کا جسدِ خاکی لوئر پریل میں واقع ان کی رہائش کاسا گرانڈے میں صبح ۱۱؍ بجے سے دوپہر ڈھائی بجے تک عوام کے دیدار کے لیے رکھا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے انہیں آخری خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں ان کا جسدِ خاکی ایک سوگوار جلوس کی صورت میں دادَر کے شیواجی پارک شمشان گھاٹ منتقل کیا گیا، جہاں راستے بھر لوگوں نے پھول نچھاور کر کے عقیدت کا اظہار کیا۔
آشا بھوسلے کی پیدائش ۸؍ ستمبر ۱۹۳۳ء کو مہاراشٹر کے سانگلی میں ہوئی تھی۔ وہ عظیم کلاسیکی گلوکار پنڈت دیناناتھ منگیشکر کی بیٹی تھیں۔ انہوں نے ۱۹۴۰ء کی دہائی میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور اپنے کیریئر میں ۲۰؍ سے زائد زبانوں میں ۱۲؍ ہزار سے زیادہ گیت گائے، جس کے باعث انہیں دنیا میں سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرنے والی گلوکارہ کے طور پر بھی پہچان ملی۔ ان کی گائیکی میں بے مثال تنوع پایا جاتا تھا، جس میں پیا تو اب تو آجا ، دم مارو دم جیسے نغموں سے لے کر غزلوں اور بھجن تک ہر صنف شامل تھی۔ انہوں نے ہندوستانی فلمی موسیقی میں خواتین پلے بیک سنگنگ کے دائرے کو نئی وسعت دی۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: فیفا نے ایران کی میچز منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اپنے شاندار کیریئر کے دوران انہیں پدم وبھوشن، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ (۲۰۰۰ء)، دو نیشنل فلم ایوارڈز، سات فلم فیئر ایوارڈز، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور مہاراشٹر اسٹیٹ فلم ایوارڈز سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ گریمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی پہلی ہندوستانی گلوکارہ بھی تھیں۔ ملک بھر سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جہاں گلوکار سونو نگم نے انہیں ہندوستانی موسیقی کے سنہرے دور کی آخری عظیم آواز قرار دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر دروپدی مرمو سمیت کئی اہم شخصیات نے بھی انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
یہ بھی پڑھئے:جنید خان کی ’’ایک دن‘‘ کی ایڈوانس بکنگ ۳۹؍ دن پہلے شروع
ان کے انتقال کے ساتھ ہی ہندوستانی موسیقی کی تاریخ کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے۔ منگیشکر خاندان، جس نے دہائیوں تک ہندوستانی سنیما کی موسیقی کو شکل دی، اب ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ آشا بھوسلے کی آواز اگرچہ ہمیشہ ان کے گیتوں میں زندہ رہے گی، لیکن ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۶ء ہمیشہ اس بات کی یاد دلاتا رہے گا کہ ایک سنہرا عہد واقعی ختم ہو گیا۔