جنوب مشرقی ممالک نے امریکہ اور ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے جوتنازع کے مستقل خاتمے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کا باعث بنیں گے۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi
جنوب مشرقی ممالک نے امریکہ اور ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے جوتنازع کے مستقل خاتمے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کا باعث بنیں گے۔
جنوب مشرقی ممالک نے امریکہ اور ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے جوتنازع کے مستقل خاتمے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کا باعث بنیں گے۔جنوب مشرقی ایشیائی ممالک نے پیر کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں اور طیاروں کی محفوظ، بلا رکاوٹ اور مسلسل آمدورفت کی بحالی ہونی چاہیے، اور ’’تمام فریقین‘‘ سے کہا کہ وہ ملاحوں اور بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان (ASEAN) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک بیان میں امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں جو ’’تنازع کے مستقل خاتمے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام‘‘ کا سبب بنیں۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور دیگر متعلقہ فریقین کو اس مفاہمتی عمل میں تعاون پر سراہا۔
یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سٹی کی چیلسی پر جیت: پریمیئر لیگ خطاب کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل
امریکہ اور ایران کے درمیان ۸؍ اپریل سے نافذ دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزرائے خارجہ نے اس نازک معاہدے کے ’’مکمل اور مؤثر‘‘ نفاذ کا مطالبہ کیا۔بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے مکمل اور مؤثر نفاذ کے لیے سازگار حالات برقرار رکھیں، بشمول اس کی شرائط کی سختی سے پابندی، انتہائی تحمل کا مظاہرہ، تمام دشمنیوں کا خاتمہ، ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا، کسی بھی ایسے اقدام سے گریز جو صورتحال کو مزید خراب کرے، اور بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جامع اور دیرپا حل کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:فاتح چنئی کے سامنے کولکاتا کا سخت امتحان؛ پہلی کامیابی کے لیے کے کے آر بے چین
ایک لندن میں قائم بحری انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز سے شپنگ فوری طور پر روک دی گئی ہے، جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا جو پیر کو۲؍بجے سے نافذ ہوگئی۔