اسلفا علاقے کے اسکول کی ۴۵؍سالہ ٹیچر نے نیند کی گولیاں کھالیں ،اسپتال میں زیرعلاج ، تعلیمی تنظیموں کاشدیدردعمل
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 7:32 AM IST | Mumbai
اسلفا علاقے کے اسکول کی ۴۵؍سالہ ٹیچر نے نیند کی گولیاں کھالیں ،اسپتال میں زیرعلاج ، تعلیمی تنظیموں کاشدیدردعمل
بی ایل او کی ڈیوٹی سے اساتذہ کو ہونےو الی سخت پریشانیوں کی جانب توجہ دلائی جا رہی ہے لیکن اس جانب جیسی توجہ دینی چاہئے، ویسی نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے اساتذہ دن بہ دن ذہنی تناؤ کا شکار ہورہے ہیں جس نے سنگین صورت اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔ تھانے کی ۴۵؍ سالہ ٹیچر نے ایس آئی آر اور اسکول کی ڈیوٹی سے پریشان ہوکر نیند کی کئی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔ انہیں بے ہوشی کے عالم میں اسپتال داخل کرایا گیا ہے جہاں اب ان کی طبیعت بہتر ہے ۔ بیشتر خاتون ٹیچرجنہیں ایس آئی آر کی ڈیوٹی پر مامور کیا گیاہے ،بے وقت موصول ہونے والے ٹیلی فون کالز اور گھرگھر جاکر ڈیوٹی کرنے کے دوران لوگوں کے رویہ سےان میں عدم تحفظ کا احساس پایا جا رہا ہے ۔ پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں مذکورہ ٹیچر نے کہا کہ ایس آئی آر کے کام کے بڑھتے بوجھ، مسلسل فون کالز اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے اسے یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا ۔
اطلاع کے مطابق تھانے سے تعلق رکھنے والی ٹیچر اُما مہیش ترلوٹکر نے اتوار کی رات دیر تک گھاٹ کوپر علاقے میں کام کیا اور پیر کی صبح گھاٹ کوپر میں واقع اسلفا شری سائی ناتھ شکشکن سنستھا شالہ میں نیند کی گولیاں کھاکر خودکشی کی کوشش کی ۔ نیند کی گولیاں کھانے کے بعد انہوں نے پرنسپل ، طلبہ اور والدین سے بات چیت بھی کی ۔اسی دوران وہ بے ہوش ہوگئیں ۔ ساتھی اساتذہ انہیں فوری طور پر اسپتال لے گئے جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔
اُما مہیش ترلوٹکر نے اسپتال سے ایک ویڈیو جاری کیاہے جس میں انہوں نے اپنی پریشانیاں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے پاس ملازمت ترک کرنے یا خودکشی کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا اس لئے میں نے یہ انتہائی قدم اُٹھایا۔ گزشتہ ۴؍مہینے سے بی ایل او کی ڈیوٹی کر رہی ہوں ۔ اس دوران مجھے انتہائی خوفناک اور تلخ تجربہ ہوا ۔ اپنی استعداد اور قوت کے مطابق کام کرنے کے باوجود محکمہ تعلیم اور محکمہ الیکشن افسران کے علاوہ سیاسی اور سماجی کارکنوں کے دبائو سے میں بہت پریشان تھی ۔ اس کے علاوہ طلبہ کےوالدین نے بھی دبائو ڈال رکھا تھا ۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس قدرذہنی دبائو کا کیسے مقابلہ کیا جائے۔ پوری کوشش کے باوجود لوگ اعلیٰ افسران سے میری شکایت کر رہے تھے جس کی وجہ سے مجھے کبھی ایف آئی آر تو کبھی تنخواہ روک لینے کی دھمکی دی جا رہی تھی جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوگئی تھی۔ لوگ ساتھ دینے کےبجائے پریشانی بڑھا رہے تھے جس کی وجہ سے میں نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ملازمت چھوڑ دینے کےباوجود ایسا گمان ہو رہا تھاکہ میرا موبائل نمبر عام لوگوں کے پاس پہنچ گیاہے ، وہ مجھے پریشان کرنا نہیں چھوڑیں گے اس لئے میں نے خودکشی کو ترجیح دی۔‘‘ انہوںنے یہ بھی بتایاکہ ’’مجھےانومریشن کے ۱۵۰۰؍ فارم دیئے گئے ہیں۔ جن علاقوں میں میری ڈیوٹی لگائی گئی ہے ، وہ ۵۰؍چالوں پر مشتمل ہے جہاں سے میں نابلد ہوں۔ ایسے میں ایک ایک گھر جاکر فارم تقسیم کرنا دقت طلب کام ہے، اس کے باوجود ۳؍ دن میں ،میں نے ۱۶۴؍فارم تقسیم کئے ، اس کے باوجود وہاں کے سیاسی ،سماجی اور مقامی کارکن میرے کام نہ کرنے کی شکایت کر رہے تھے۔ میں نے ان لوگوں سے ملاقات کر کے ان کی غلط فہمی دور کرنے کی بھی کوشش کی اور ان سے کہاکہ اگر میری مدد نہیں کرسکتے توکم ازکم شکایت بھی نہ کریںلیکن کسی نے بھی میری درخواست پر توجہ نہیں دی جس سے مجھے کافی تکلیف پہنچی ۔‘‘
اُما مہیش ترلوٹکر کےمطابق ’’ ان ۴؍مہینوں میں بی ایل او کے کام کے دبائو سے میری صحت خراب ہوگئی ہے ۔اس دوران مجھے ڈینگو کی شکایت اور میرے شوہر کے سڑک حادثہ میں زخمی ہونے پر بھی چھٹی نہیں دی گئی ۔ان سبھی مسائل کو جھیلتے ہوئے میں نے بی ایل او کی ڈیوٹی پابندی سے کی۔ حالانکہ میں نے اپنے سینئر افسران سے متعدد مرتبہ کہاکہ مجھے بی ایل او کی ڈیوٹی سےمستثنیٰ کر دیا جائے تاکہ میں اپنے اسکول کے بچوں کی پڑھائی پر توجہ دےسکوں لیکن اس کے بجائے ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکی دی گئی۔ بیماری کے عالم میں بھی کام کرنے کیلئے کہا گیا۔بی ایل او کا کام انتہائی دقت اور وقت طلب ہے ۔ گزشتہ جمعہ کوتیز بخار آنے سے میں ڈیوٹی پر نہیں جاسکی تھی، اسی روز رات میں اتنے کالز آئے کےمجبوراً بیمار ہوتے ہوئے سنیچر کو مجھے ڈیوٹی پر جانا پڑا، اتوا ر کوبھی دیر رات تک ڈیوٹی کی۔ اس دوران لوگوں کے رویوں اور ذہنی دبائو سے پریشان ہوگئی۔‘‘
اس واقعہ پرمہاراشٹر اسٹیٹ شکشک بھارتی کے کارگزار صد ر جالندر سرودے نے انقلا ب کو بتایاکہ ’’اساتذہ بالخصوص خواتین پر اضافی کام کے بوجھ کو فوری طور پر کم کیا جانا چاہئے۔ ‘‘ اسی ادارہ سے وابستہ سبھاش مورے نے الزام لگایا کہ اس کام کی وجہ سے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے میں خودکشی کارجحان پیدا ہورہا ہے ۔‘‘