• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

غزہ میں ملبے کے ڈھیر پر فلسطینی بچوں کو پڑھاتا ٹیچر طارق النبی

Updated: December 02, 2023, 10:59 AM IST | Agency | Gaza

اقوام متحدہ کے قائم کردہ اسکول میں پڑھانے والے طارق کواس وقت اسکول چھوڑنا پڑا تھا جب اسرائیلی ٹینکوں نے اس عمارت کو گھیر لیا تھا۔

Where children`s survival is a challenge, how far will it be possible for them to study? Photo: INN
جہاں بچوں کا زندہ رہنا ایک چیلنج ہے وہاں ان کا پڑھنا کہاں تک ممکن ہوگا؟۔ تصویر : آئی این این

اسرائیلی حملے میں تاراج ہو چکے غزہ شہر میں ایک ٹوٹا پھوٹا احاطہ ہے جہاں مختلف عمر کے بچے چاک اور سلیٹ لئے بیٹھے ہیں اور مشتاق نظروں سے اپنے ٹیچر کو دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک ایسے شہر کیلئے اجنبی سا منظر ہے جہاں ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں ، ایک بڑی تعداد ملبے میں دفن ہے اور شہر نے ایک کھنڈر کی صورت اختیار کرلی ہے۔ ۲۵؍ سالہ طارق النبی اپنے شاگردوں کی کرسیوں کو ایک دائرے میں ترتیب دیتے ہیں ، سلیٹ اور چاک جگہ پر رکھتے ہیں ، اور اپنے سبق کی تیاری کرتے ہیں ، جو حب الو طنی سے متعلق ہے۔اور وہ بچوں کو اسے انگریزی میں بولنا سکھاتےہیں ۔ غزہ کے بیشتر اسکول یا تو ڈھیر ہو چکے ہیں یا ویران ہیں۔انگلش ٹیچر طارق النبی غزہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول کو چھوڑنے پر اس وقت مجبور ہو گئے، جب اسرائیلی ٹینکوں نےاس کا محاصرہ کر لیا ۔لیکن ہفتوں کی لڑائی کے بعد ، طارق النبی غزہ پٹی کے جنوب میں رفح میں بے گھر بچوں کو پڑھانے کیلئے واپس آ گئے ۔ان کا کلاس روم ایک مقامی اسکول کے صحن میں ہے جسے ایک عارضی کیمپ بنایا گیا ہے۔ یہاں کئی بے گھر خاندان میزوں کے نیچے گدوں پر سوتے ہیں ۔ کچھ برآمدوں میں سوتے ہیں جہاں انہیں کم از کم رات کی سردی سے پناہ ملتی ہے۔طارق مختلف عمر کے ۴۰؍ لڑکوں اور لڑکیوں کو ، سلیٹ اور چاک کے ذریعے پڑھاتے ہیں ۔ یہ چیزیں انہوں نے چھوٹےموٹےعطیات سے حاصل کی ہیں ۔جینز اور سرمئی رنگ کا سویٹر پہنے ہوئے صاف ستھرے طارق اپنے شاگردوں کی کوششوں پر نظر رکھتے ہیں جب وہ عربی اور انگریزی دونوں میں لکھنا سیکھ رہے ہیں ۔۱۰؍ برس کی لیان، گلابی تتلیوں سے سجا سرمئی رنگ کا کوٹ پہنے ہوئے، اپنے کام پر پوری توجہ دیتی ہے، لیکن ایک لمحے کیلئے رک کر یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ان کے گھر پر بمباری ہوئی اور وہ غزہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔اب ہم اس اسکول میں سوتے ہیں ۔ چچا طارق ہمیں انگریزی پڑھاتے ہیں ، وہ خوش دلی سے کہتی ہے کہ جب وہ بڑی ہوں گی تو وہ بھی انگلش ٹیچر بنے گی۔ طارق بچوں کو ایک آواز دینا چاہتے ہیں تاکہ دنیا ان کی بات سنے حالانکہ جنگ کے وقت انگریزی پڑھانا بذات خود ایک طرح کی حکم عدولی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ہم بچوں کو ان کی مسکراہٹ واپس دیتے ہیں پھر انہیں ا ن کا سبق دیتے ہیں ۔نوجوان ٹیچر نےبتایا کہ فی الحال وہ اکیلے پڑھارہے ہیں ، صبح کے وقت ۴۰؍ اور دوپہر میں ۴۰؍ طلبہ پڑھتے ہیں ، لیکن انہیں امید ہے کہ دیگر رضاکاربھی سامنے آئیں گے۔ غزہ میں اسکولوں کی صورتحال کیا ہے؟
 اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ میں ، جوغربت سے تباہ حال ایک چھوٹاسا گنجان آباد علاقہ ہے ۸۱ء۵؍ فیصد لوگ غریب اور ۶۴ء۶؍فیصد بے روزگار ہیں ۔تقریباً نصف آبادی کی عمر ۱۵؍ سال سے کم ہے۔ لیکن بار بار کی کشیدگی نے اسکولوں کو تباہ کر دیا ہے، اور تعمیراتی ساز وسامان پر ۱۷؍ سال کی اسرائیلی ناکہ بندی نے بچوں  کوتعلیم سے محروم کر رکھا ہے۔امن کے زمانے میں بھی، اقوام متحدہ، اپنے ۱۸۰؍ اسکولوں کو چلانے کیلئے پیچیدہ ٹائم ٹیبل کا سہارا لینے پر مجبور تھی۔حماس کے مطابق، موجودہ جنگ میں اسرائیل نے ۲۶۶؍ اسکولوں کو جزوی طور پر جبکہ ۶۷؍کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ بچوں کا پڑھنا ایک طرف ان زندہ رہنا خود ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK