اسکولوں میں دی جانے والی ’نشٹھا‘ ٹریننگ سے ٹیچروں میں ناراضگی

Updated: January 15, 2020, 3:23 pm IST | Kazim Shaikh | Kurla

میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں ٹیچروں کو دی جانے والی ’ نشٹھا‘ ٹریننگ سے ٹیچروں میں ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ اس ٹریننگ سے جہاں بی ایم سی ایجوکیشن انتظامیہ کا مالی نقصان ہورہا ہے وہیں ٹریننگ کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم کے نقصانات کے علاوہ ٹیچروں کو کافی دشواریوں کا سامنا بھی کرناپڑرہا ہے ۔

 اسکولوں میں دی جانے والی ’نشٹھا‘ ٹریننگ سے ٹیچروں میں ناراضگی
اساتذہ کو دی جانے والی ٹریننگ کا ایک منظر ۔ تصویر : انقلاب

کرلا : میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں ٹیچروں کو دی جانے والی ’ نشٹھا‘ ٹریننگ سے ٹیچروں میں ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ اس ٹریننگ سے جہاں بی ایم سی ایجوکیشن انتظامیہ کا مالی نقصان ہورہا ہے وہیں ٹریننگ کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم کے نقصانات کے علاوہ ٹیچروں کو کافی دشواریوں کا سامنا بھی کرناپڑرہا ہے ۔ 
  کرلا ’ایل‘ وارڈ کے ایک معلم نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پہلی جماعت سے ۸؍ویں جماعت تک کے تمام ٹیچروں کو ٹریننگ لیناضروری ہے۔بڑے اسکولوں سے ایک ساتھ ۵؍ اور چھوٹے اسکولوں سے ایک ساتھ ۲؍ ٹیچروں کو لگاتار ۵؍ دنوں کی ٹریننگ کیلئے بھیجاجاتا ہے ۔ ان دنوں ٹریننگ والے ٹیچروں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا، جو انھیں تعلیم دے سکے۔یہ ٹریننگ ۱۸؍ دسمبر سے شروع کی گئی ہے اور فی الحال جاری ہے ۔ یہ ٹریننگ صبح ساڑھے ۹؍بجے سے شام ساڑھے ۵؍ بجے تک ہوتی ہے ۔ 
 ایک ٹیچر کا الزام ہے کہ ٹریننگ دینے والوں کو اس کا معاوضہ تو دیا ہی جائے گا ۔ ٹریننگ لینے والے ٹیچروں کو بھی ایک دن کا کنوینس کے نام پر ۱۵۰؍ روپے معاوضہ دینے کی بات کی گئی ہے لیکن ابھی تک کسی ٹیچر کے اکاؤنٹ میں پیسہ نہیں آیا ہے ۔ٹیچروں کو اس ٹریننگ سے کوئی فائدہ تو نہیں پہنچ رہا ہےکیوں کہ ٹریننگ میں وہ تمام پرانی باتیں بتائی جارہی ہیں جوپہلے سے تعلیم دینے والوں کو بتائی جاچکی ہیں یا پھر ان کو معلوم ہیں ۔ 
  ان کا الزام ہے کہ ٹریننگ دینے والوں میں زیادہ تر بی ایم سی اسکولوں میں کلرک کا کام کرنے والےملازمین شامل ہیں جنہیں صحیح طرح سے گفتگو تک کرنی نہیں آ تی ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرینر لکھ کر لاتے ہیں اور ٹریننگ کے دوران پڑھ کر سنادیتے ہیں ۔ ایک دوسری خاتون ٹیچر کا کہنا ہے کہ ۱۸؍ دسمبر کو شروع ہونے والی نشٹھا ٹریننگ ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ۱۳؍ دسمبر سے سی ایم سی ایم نامی ٹریننگ ٹیچروں کیلئے شروع کردی گئی ہے اور ہر ٹیچرکو ۲؍دنوں کی ٹریننگ لینا لازمی ہے ۔ 
  اس ضمن میں بی ایم سی اسکولوںکے ایک بیٹ افسر نے بتایا کہ ایک اسکول میںجائزہ لینے پہنچے تو پتہ چلا کہ اسکول کی ۶؍ ٹیچروں میں سے صرف ۲؍ ٹیچر اسکول میں موجود تھیں ۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ۲؍ ٹیچر نشٹھا اور ایک سی ایم سی ایم ٹریننگ میں گئی ہیں جبکہ ایک ٹیچر نے چھٹی لی ہے ۔ انھوں نے اقرار کیا کہ ٹریننگ سے ٹیچروں کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے اور طلبہ کا نقصان ہے۔ بقول آفیسر ٹریننگ میں پیسے کی بربادی اور اس سے ذاتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس سلسلے میں ایجوکیشن افسر مہیش پالکر سے گفتگو کرنے کی کوشش کی مگر رابطہ نہیں ہوسکا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK