انتظامیہ کی اساتذہ کو ہدایت، ٹیچرس یونین نے تصدیق کی۔ ایس آئی آر کے تعلق سے چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر کو اے پی سی آرکا مکتوب۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 2:37 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
انتظامیہ کی اساتذہ کو ہدایت، ٹیچرس یونین نے تصدیق کی۔ ایس آئی آر کے تعلق سے چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر کو اے پی سی آرکا مکتوب۔
بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) اب تدریس کے ساتھ جمعہ، سنیچر اور اتوار کو ایس آئی آر کا کام کریں گے اور پیر تا جمعرات پڑھائیں گے۔ بی ایل او کے طور پر ہر روز ان کو۱۰؍ فیصد کام کرنا ہے۔ بی ایم سی کی جانب سے زبانی طور پر تمام اساتذہ کو یہ ہدایت دی گئی ہے اور ٹیچرس یونین نے اس کی تصدیق کی ہے۔
اس تعلق سے ٹیچرس یونین کا کہنا ہے کہ ۲۷؍ اپریل کو ڈپٹی سیکریٹری اینڈ جوائنٹ چیف الیکٹورل آفیسر منوہر پارکر کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ اس میں ۲۰۰۷ء کے سپریم کورٹ کے ایک حکم نامے کے حوالے کے ساتھ ۲۰۲۱ء کے راجستھان ہائی کورٹ ایک فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا کہ ٹیچرس سے تعلیم کے ایام میں غیر تدریسی کام نہ لیا جائے مگر اس میں الیکشن ڈیوٹی کو شامل رکھا گیا ہے۔ اسی طرح مردم شُماری اور قدرتی آفات میں بھی اساتذہ کی خدمات لی جاسکتی ہیں۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ نکتہ بھی نکالا گیا کہ کورٹ کے حکم میں بی ایل او کی ڈیوٹی کرنے کی کہیں ممانعت نہیں ہے جبکہ وضاحت بھی نہیں ہے کہ یہ کام اساتذہ سے لیا جائے۔
اس ہدایت پر ٹیچرس یونین نے اعتراض جتاتے ہوئے شہری انتظامیہ کو مکتوب روانہ کیا کہ یہ ضابطے کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سینٹرل، اسٹیٹ اور بی ایم سی کے رول کے مطابق ٹیچرس سے بیک وقت دو کام نہیں کرایا جاسکتا، اس کا بھی مکتوب میں حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سوال وجواب پر شہری انتظامیہ نے اپنے طور پر بیچ کا راستہ نکالا اور ڈپٹی میونسپل کمشنر نے میٹنگ کی اور ہر وارڈ کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر کے ذریعے تمام اسکولوں تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ میونسپل کمشنر اس الیکشن عمل(بی ایل او ) کے گویا سربراہ ہیں اس لئے بی ایل او کے طور پر اساتذہ کو کام کرنا ہوگا۔ اتوار کو کام کے عوض اساتذہ کو متبادل چھٹی دی جائے گی مگر یہ یقین دہانیاں تحریری طور پر نہیں زبانی کرائی گئی ہیں جبکہ اساتذہ کا مطالبہ تھا کہ تحریری طور پر آرڈر دیا جائے۔ یہ تفصیلات اردو ٹیچرس یونین کے صدر جاوید انصاری سے استفسار کرنے پر حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: موسلادھار بارش سے سبزیوں کی قیمتوں میں ۳۰؍فیصد کمی آئی ہے
اس سلسلے میں یونین کے صدر نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک طرح سے زور زبردستی کا معاملہ ہے۔ اصولاً ہر کام ضابطے کے مطابق تحریری طور پر کیا جانا چاہئے مگر بی ایم سی نے اس معاملے میں اسے نظر انداز کیا ہے اور اساتذہ کی دشواریوں کو بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
اے پی سی آر نے الیکشن کمیشن کو لکھے خط میں کیا کہا؟
اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے ذریعے چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر کو بذریعہ ای میل ایک خط بھیج کر جاری ایس آئی آر کے تعلق سے موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں کئی اہم نکات پر توجہ دلائی ہے۔ شکایتی خط میں لکھا گیا ہے کہ یہ ایک ایک ایک ووٹر کے جمہوری حق کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح ایس آئی آر میں بے ضابطگی، ضابطے میں کمی اور واضح ہدایات کا فقدان، رائے دہندگان کو نوٹس نہ ملنا اور اطلاعات کا فقدان، ڈیٹا ملانے میں خامیاں، رائے دہندگان کے رائے دہی کے حق پر لاحق سنگین خطرہ اور جمہوری طریقہ کار اور شفافیت پر اثر وغیرہ کی جانب خاص توجہ دلائی گئی ہے۔
اے پی سی آر کے سیکریٹری شاکر شیخ نے یہ تفصیلات بتائیں ۔ انہوں نے کہا کہ فہرست رائے دہندگان کی نظرثانی کے اس عمل میں جس طرح کی شکایات مل رہی ہیں وہ حیران کن ہیں ۔ اس طریقے سے بہت سے رائے دہندگان کی حق رائے خطرے میں نظر آرہی ہے، اس لئے اس جانب توجہ دی جائے۔