باؤنڈری وال گرنے سے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مقامی رکن اسمبلی کا دورہ، ٹھیکیدار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 2:34 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli
باؤنڈری وال گرنے سے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مقامی رکن اسمبلی کا دورہ، ٹھیکیدار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ۔
یہاں کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے زیر تعمیر سرکاری کینسر اسپتال کی کھدائی نے ۲؍ عمارتوں کو خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جس کے باعث تقریباً۵۰ ؍خاندانوں کو احتیاطاً اپنے مکانات خالی کرکے عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا جبکہ بعض متاثرہ خاندانوں کے قیام کا انتظام ہوٹلوں میں کیا گیا ہے۔ اس واقعہ نے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے اور مشتعل مکینوں نے تعمیراتی کام میں مبینہ لاپروائی برتنے والے ٹھیکیدار اور ذمہ دار افسران کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لئے حفاظتی اقدامات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ تلک روڈ پر کینسر اسپتال کی تعمیر کیلئے ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تقریباً ۴۰ ؍فٹ گہری کھدائی کی گئی تھی۔ مقامی مکینوں کا الزام ہے کہ اتنی بڑی کھدائی کے دوران ارد گرد کی عمارتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے کوئی لازمی حفاظتی اقدامات نہیں کئے گئے۔ اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ جمعرات کو پہلی عمارت کی حفاظتی دیوار (باؤنڈری وال) گر گئی اور سنیچر کی دوپہر دوسری عمارت کی حفاظتی دیوار بھی منہدم ہو گئی جس سے دونوں عمارتوں کے زمین بوس ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا اور صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت کی طرف سے ساجد پٹھان کو وائی پلس سیکوریٹی فراہم کرنے کا حکم
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کے ڈی ایم سی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کو روکنے کیلئے دونوں عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔ اس اچانک افتاد پر متاثرہ مکینوں نے میونسپل کارپوریشن کیخلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک برہم شہری نے بتایا کہ پچھلے ۶؍ ماہ سے یہ کام جاری تھا۔ ہم نے کئی بار ٹھیکیدار اور کارپوریشن کے افسران کو خبردار کیا تھا کہ اس کھدائی سے ہماری عمارتوں کو خطرہ ہے لیکن کسی نے ہماری ایک نہ سنی۔
اتوار کومقامی ایم ایل اے اور بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرہ عمارتوں کے مکینوں سے گفتگو کی اور ان کے مسائل جاننے کی کوشش کی۔ اس کے بعد کے ڈی ایم سی حکام اور کینسر اسپتال کے ٹھیکیداروں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرکے ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایات بھی دی۔