اُردو میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی کم ہوتی تعداد سے اساتذہ فکرمند

Updated: June 20, 2022, 11:17 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

شہرومضافات کے اردو اسکولوں کے اساتذہ کی جانب سے طلبہ کو تلاش کرنے کی مہم، تعلیمی لوازمات بھی مفت فراہم کرنے کے باوجود والدین نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا

Urdu medium as well as other medium schools are also facing problems..Picture:INN
اردو میڈیم کے ساتھ ساتھ دیگر میڈیم کے اسکولوں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔۔ تصویر: آئی این این

کووڈ کے تناظرمیں معمول کے مطابق اسکول شروع ہونے کی جہاں ایک طرف خوشی ہے وہیں اسکولوں میں طلبہ کی کم ہوتی تعداد سے اسکول انتظامیہ ،ہیڈماسٹر اور اساتذہ پریشان ہیں جس کی واضح مثال یہ ہےکہ اسکول شروع ہوتے ہی طلبہ کی کم تعداد سے وہ فکر مندنظر آرہے  ہے ۔  طلبہ کی کم کی وجہ سے شہر ومضافات کے اسکولوں نے طلبہ کو تلاش کرنے کی مہم شروع کردی ہے ۔ جبکہ والدین اور سرپرست غیرانگریز ی میڈیم اسکول میں اپنے بچوںکا داخلہ نہیں کروانا چاہتے ہیں ۔ اُردومیڈیم اسکول کے اساتذہ کے مطابق بیشتر سرپرست کہتےہیںکہ ان کےبچے انگریزی میڈیم   میں پڑھ رہے ہیں اور جن بچوںکا داخلہ نہیں ہواہے ،ان کاداخلہ بھی وہ انگریزی میڈیم اسکول میں کروانا چاہتےہیں۔ ایک اُردو میڈیم اسکول کے انچارج نے بتایاکہ ساری تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کےباوجود ہمارے اسکول میں  ۸؍ویں تا ۱۰؍ ویں جماعت میں کُل ۳۰؍ طلبہ ہیں۔اسی طرح دیگر اسکولوں کے ہیڈماسٹر کا کہناہےکہ اگر بچے نہیں ملے تو اسکول بند کرنےکی نوبت آجائےگی۔  اس تعلق سے مدنپورہ میں واقع انجمن خیرالاسلام اُردو ہائی اسکول کے ہیڈماسٹر محمد عارف نے بتایاکہ ’’ مدنپورہ اور اطراف کے علاقوں میں مفت انگریزی میڈیم اسکول شروع ہونے سے یہاں کے اُردومیڈیم اسکولوں کیلئے مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔  والدین اور سرپرست اپنےبچوں کو انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس سے اُردو میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے۔ اس لئےہم طلبہ کو تلاش کرنےکی مہم چلارہےہیں لیکن مہم سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ سرپرست اپنےبچوںکو انگریزی میڈیم میں پڑھاناچاہتےہیں۔جب اپنے علاقے میں ہی انگریزی میڈیم اسکول کی سہولت ہو۔ وہ بھی مفت  اور ساری تعلیمی اشیاء مفت فراہم کی جارہی ہوتو والدین انگریزی کےبجائے اُردو میڈیم اسکول میں بچوںکو کیوں پڑھائیں گے۔ اس طرح کے انگریزی میڈیم اسکول سے کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔اس کےباوجود ہم بچوںکو  اُردومیڈیم اسکول سے جوڑنےکی کوشش کررہےہیں۔‘‘  ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ’’ہمارے  اسکول میں پانچویں جماعت کے ۲؍ ڈویژن ہیں۔ ایک ڈویژن میں ۳۰۔۳۲؍ بچے ہوتے ہیں۔ چوتھی جماعت سے پاس ہوکر ۳۰۔۳۵؍  بچے پانچویں جماعت میں آئے ہیں جبکہ ہمیں تقریباً ۶۵؍بچوںکی ضرورت ہے۔ مہم کے دوران ۵؍ بچے ملے ہیں۔ اس طرح مجموعی طورپر ۴۰؍ بچے ہیں۔ اگر مزید ۲۵؍بچوںکا انتظام نہیں ہواتو ایک ڈویژن کو بند کرنے کی نوبت آجائے گی ۔یہی حال رہاتو اسکول کو جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ ‘‘  محمدعارف کےمطابق ’’ مذکورہ مہم کےدوران تلخ تجربات ہورہےہیں۔ والدین اورسرپرست اُردو اسکول کانام سن کرسردمہری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ ہمارے بچے انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھ رہےہیں۔ ان اسکول میں مفت پڑھائی کےساتھ انہیں تعلیمی لوازمات بھی مفت  فراہم کئے جارہےہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے بچوںکانام انگریزی میڈیم اسکول میں لکھوا رہے ہیں۔ جن بچوںکا داخلہ نہیں ہواہے  ان کانام بھی ہم انگریزی میڈیم اسکول میں لکھوائیں گے۔ اس طرح کی باتیں سن کر ہمارے اساتذہ مایوس ہوکر واپس آرہےہیں۔ ‘‘  بھنڈی بازار پر واقع محمد یہ سیکنڈری اُردو میڈیم اسکول کے ٹرسٹی شعیب خطیب نے بتایاکہ ’’اُردو میڈیم اسکولوںمیں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس لئے ہم نے اپنے اسکول میں انگریزی میڈیم اسکول بھی شروع کیا ہے۔ اسکول میں فی الحال تقریباً ۶۰۰؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ ہمارے سیکنڈری اُردو میڈیم اسکول میں ۸؍ویں تا ۱۰؍ جماعت میں صرف ۳۰؍ طلبہ پڑھائی کر رہے ہیں۔ حالانکہ اُردو میڈیم اسکول کےطلبہ کو ہرطرح کی سہولت دی گئی ہے ۔ حتیٰ کہ اسکول آنے جانے کیلئے مفت بس سروس بھی فراہم کی ہے ۔ اس کے باوجود والدین اپنےبچوںکو اُردومیڈیم اسکول میں پڑھانےمیں دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔ ‘‘انہوںنےیہ بھی کہاکہ ’’صرف اُردو میڈیم نہیں بلکہ ہندی، مراٹھی اور گجراتی میڈیم اسکولوں کا بھی یہی حال ہے۔ بیشتر سرپرست اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم میں پڑھاناچاہتے ہیں۔ جس طرح کا ماحول ہے ایسےمیں ، میں خود بھی اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم میں پڑھانے کو ترجیح دوں گا  حالانکہ میں نے اُردو سے تعلیم حاصل کی ہے۔‘‘ اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے بتایاکہ ’’ تمام غیر انگریزی میڈیم اسکولوںکا یہی حال ہے۔ جس میں اُردو میڈیم کے اسکول بھی شامل ہیں۔ یہ بات درست ہےکہ اُردو میڈیم اسکول میں طلبہ کی تعداد کم ہورہی ہے جس کی وجہ سے اسکول انتظامیہ پریشان ہے۔ طلبہ کی کم ہوتی تعدادکو بڑھانے کی متعدد کوششیں جاری ہیں۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK