امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی عروج پر

Updated: April 17, 2021, 11:55 AM IST | Agency | Washington

واشنگٹن نے ماسکو کے ۱۰؍ سفارتکاروں کو واپس بھیج دیا، روس شدید برہم

Russian Embassy in Washington.Picture:INN
واشنگٹن میں روسی سفارتخانہ۔تصویر :آئی این این

  جوبائیڈن  انتظامیہ نے  روس  کی ۶ ؍کمپنیوں اور۳۲؍ افراد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جبکہ روس کے۱۰؍ سفارتکاروں کو واپس بھیج دیا ہے۔ یہ کارروائی روس کی جانب سے گزشتہ سال ہوئے امریکی الیکشن میں مداخلت کے پاداش میں ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے امریکی انٹیلی جنس نے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ روس اور ایران نے سائبر ہیکنک کے ذریعے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔  اسی وقت جو بائیڈن نے کہہ دیا تھا کہ روس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ اب بائیڈن انتظامیہ نے صدر کے ان الفاظ پر عمل شروع کر دیا ہے۔ہائٹ ہائوس کاکہنا ہے کہ جن ۱۰؍ سفارتکاروں کو واپس بھیجا گیا ہے ان کا تعلق روسی انٹیلی جنس سے تھااور جن کمپنیوں اور افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے  انہوں نے سائبر ہیکنگ میں روس کی مدد کی تھی۔   واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال میں انٹیلی جنس کی جانب سے روس پر کئی الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ روس نے طالبان کو امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کیلئے رقم فراہم کی تھی۔ اس کی وجہ سے ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقیدیں بھی ہوئی تھیں کیونکہ انہیں معاملے کا علم ہی نہیں تھا۔ انٹیلی جنس کا بھی کہنا تھا کہ  انہوں نے ٹرمپ کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ اس وقت جو بائیڈن طالبان کے ساتھ زور آزمائی  کے  لئے پر تول رہے ہیں جبکہ روس اس حلقے سے تعلق رکھتا ہے جو طالبان کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ چین ، روس، ایران اور پاکستان نے جو بلاک تیار کیا ہے اس  نے طالبان کو پہلے ہی  دوستی  کی پیش کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بائیڈن روس سے سخت ناراض ہیں۔ 
  روس کا سخت جواب
 ادھر روس نےبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد ہی امریکی اقدام کا جواب دے گا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان  ماریا زاخارو نے کہا کہ ’’امریکہ دو نیوکلیائی طاقتوں کے درمیان خطرناک حد تک کشیدگی بڑھا رہا ہے۔‘‘ روسی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کو طلب کر لیا ہے اور ماریا کے مطابق ان سے ہونے والی گفتگو انتہائی پیچیدہ ہوگی۔  اتنی پیچیدہ کہ اس سے پہلے کبھی کسی سفیر کے ساتھ نہ ہوئی ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK