Updated: June 11, 2026, 3:59 PM IST
| Tehran
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری بحران گزشتہ ۱۲؍ گھنٹوں کے دوران مزید شدت اختیار کر گیا۔ امریکی فضائی حملوں، ایرانی جوابی کارروائیوں، خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی خطرات اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ واشنگٹن نے ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ فوجی دباؤ کے تحت مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں معمولی غلط اندازہ بھی وسیع علاقائی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ گزشتہ ۱۲؍ گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ اسرائیل سے جڑی محاذ آرائیاں بھی جاری رہیں۔ اس تازہ صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست، توانائی اور معیشت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی فوج نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف، فضائی دفاعی نظاموں اور عسکری مواصلاتی تنصیبات پر حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا اور امریکی مفادات کے خلاف حملوں کو روکنا تھا۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے تھے اور ان کا مقصد جنگ کو پھیلانا نہیں بلکہ ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
ایران کا موقف
دوسری جانب تہران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مسلسل جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور حالیہ حملے بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ بعض شہری علاقوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو جوابی اقدامات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے ۱۷؍ ہزار فلسطینیوں کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے سے روک دیا
پاسداران انقلاب کا بیان
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ انہوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق کویت، بحرین اور اردن میں واقع امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ امریکی حکام نے بعض حملوں کی اطلاعات کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر خطرات کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
ٹرمپ کا انتباہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ایران کسی امن معاہدے یا سیاسی سمجھوتے کی طرف پیش رفت نہیں کرتا تو امریکہ ’’بہت سخت‘‘ کارروائی کرے گا۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ ایران نے اس بیان کے جواب میں واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے فوجی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بغیر پائیدار حل ممکن نہیں۔
اسرائیلی کردار
بحران کا تیسرا اور نہایت اہم پہلو اسرائیل ہے۔ اگرچہ چند روز قبل ایران اور اسرائیل نے حملوں میں عارضی کمی پر آمادگی ظاہر کی تھی، لیکن لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں اور حزب اللہ کے ساتھ جاری جھڑپیں صورتحال کو مسلسل پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ایرانی قیادت اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی کارروائیاں پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فیفاورلڈ کپ: کھلاڑی حراست میں، ریفریز ملک بدر، امریکی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید
آبنائے ہرمز کا حال
اس تمام صورتحال کے دوران آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف فوجی دباؤ جاری رہا تو وہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی محدود کر سکتا ہے۔ اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز اب بھی گزر رہے ہیں، لیکن صرف اس خطرے نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
خام تیل کی قیمتیں
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ ایشیائی اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بے چینی دیکھی گئی۔ توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہوئی تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے کیونکہ دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انسانی سرگرمیوں کے سبب سمندر کی سطح میں ایک دہائی میں دگنا اضافہ: رپورٹ
عالمی طاقتوں کا ردعمل
اقوام متحدہ، یورپی ممالک اور متعدد علاقائی طاقتوں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں جانب عسکری تیاریوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ بحران صرف ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع نہیں رہا بلکہ اس میں اسرائیل، لبنان، خلیجی ریاستیں اور عالمی توانائی کی سلامتی بھی براہِ راست شامل ہو چکی ہیں۔
گزشتہ ۱۲؍ گھنٹوں کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ بندی کا جو ڈھانچہ گزشتہ مہینوں میں تشکیل پایا تھا، وہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ فوجی طاقت کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے جبکہ ایران یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ اسرائیل کی لبنان اور خطے میں جاری کارروائیاں اس کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ نتیجتاً خطے میں طاقت کا توازن ایک بار پھر تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تہران کا استدلال ہے کہ اس کے خلاف کارروائیوں نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کو علاقائی خطرے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران اب صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں بلکہ توانائی، عالمی تجارت، سفارت کاری اور علاقائی اتحادوں کی آزمائش بھی بن چکا ہے۔
اگر آئندہ چند دنوں میں سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو خطرہ موجود ہے کہ محدود فوجی کارروائیاں ایک وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائیں، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے بہت آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پروجیکٹ کی تشہیر پر ہالی ووڈ اداکارہ گوئنتھ پیلٹرو تنقید کی زد پر
گزشتہ ۱۲؍ گھنٹوں کے اہم واقعات
(۱) امریکہ نے ایران کے اندر فوجی اور فضائی دفاعی اہداف پر نئے حملے کیے۔
(۲) ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
(۳) صدر ٹرمپ نے ایران کو مزید سخت کارروائی کی دھمکی دی۔
(۴) تہران نے اعلان کیا کہ وہ دباؤ کے تحت مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
(۵) آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
(۶) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں۔
(۷) اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔
(۸) عالمی طاقتوں نے فوری سفارتی مداخلت اور تحمل کی اپیل کی۔