رضا منصور اور مصطفی پورمند مجموعی طور پر ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنی محبوب ٹیم ایران کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹیڈیم جا چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 11, 2026, 3:57 PM IST | New York
رضا منصور اور مصطفی پورمند مجموعی طور پر ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنی محبوب ٹیم ایران کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹیڈیم جا چکے ہیں۔
رضا منصور اور مصطفی پورمند مجموعی طور پر ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنی محبوب ٹیم ایران کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹیڈیم جا چکے ہیں۔ اس بار بھی، ایران اور میزبان ملک امریکہ کے درمیان جاری شدید جنگی کشیدگی ان کے جوش و خروش کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ درحقیقت، خود کو ایران کے ’’سپر فینز‘‘ کہلانے والے یہ دونوں دوست کچھ اور نہیں بلکہ فٹ بال کے میدان میں دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا مقابلہ دیکھنا چاہتے ہیں۔تاہم، اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ایران کو وہ کارنامہ انجام دینا ہوگا جو اس نے تاریخ میں کبھی نہیں کیا- یعنی فٹ بال کے اس سب سے بڑے ٹورنامنٹ کے گروپ اسٹیج سے آگے نکلنا۔
رضا منصور نے کہا’’ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایران کو اب تک کا سب سے آسان گروپ ملا ہے۔ نیوزی لینڈ، مصر اوربلجیم کی موجودگی میں ہمارے اگلے مرحلے میں پہنچنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور یہ ہمارے پاس اب تک کا بہترین موقع ہے۔’’گزشتہ ۵۰؍برسوں سے سان ڈیاگو، کیلیفورنیا میں مقیم ان دونوں مہم جو دوستوں کا اعتماد اس حد تک بلند ہے کہ انہوں نے اگلے مرحلے کے میچوں کے ٹکٹ ابھی سے خرید لیے ہیں تاکہ ایران اور امریکہ کے ممکنہ ٹاکرے کو دیکھنے سے محروم نہ رہ جائیں۔
خلیج اومان اور آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان ڈرونز اور میزائلوں کی گھمسان کی جنگ جاری ہے، جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے باوجود، ۶۴ سالہ رضا منصور کا ماننا ہے کہ فٹ بال کا ایک میچ فوجی حساب کتاب کو بدل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میرا خیال ہے کہ ہر کوئی اس میچ کو پسند کرے گا اور یہ مقابلہ دراصل امن کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بہت سی چیزوں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔‘‘ منصور اپنی ٹیم کی محبت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ وہ میکسیکو کی سرحد پار کر کے ٹیخوانا کے اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں جہاں ایرانی کھلاڑی قیام پذیر ہیں۔
یہ رضا منصور کا چھٹا ورلڈ کپ ہوگا۔ ان کی سب سے خوبصورت یاد ۱۹۹۸ء میں فرانس کے ورلڈ کپ میں امریکہ کے خلاف ایران کی۱۔۲؍گول سے تاریخی فتح ہے۔ فیفا نے اس میچ کو ’’برادری اور بھائی چارے‘‘ کا میچ قرار دیا تھا، جس نے ۱۹۷۹ء کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں روایتی حریفوں کے درمیان دوریاں کم کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ میچ سے قبل دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو پھول پیش کیے اور مشترکہ تصویر کھنچوائی تھی۔
منصور کے دوست، ۷۰؍سالہ مصطفی پورمند نے سال ۲۰۰۰ء میں لاس اینجلس (جسے بڑی ایرانی آبادی کی وجہ سے تہرانجلس بھی کہا جاتا ہے) میں کھیلے گئے ۱۔۱؍ سے برابر دوستانہ میچ کو یاد کرتے ہوئے مسکرا کر کہا’’وہ بھی کیا اچھے دن تھے۔ پورا اسٹیڈیم دونوں ٹیموں کو سپورٹ کر رہا تھا۔یہ اب تک کا بدترین ورلڈ کپ ہےلیکن اس بار حالات بالکل مختلف ہیں۔ رواں سال فروری کے آخر میں اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت پر بھی شکوک و شبہات کے بادل منڈلا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ویزا دینے سے انکار ورلڈ کپ میں کشیدگی پیدا کر رہا ہے: طارمی
اگرچہ ایرانی کھلاڑیوں کو امریکہ کے ویزے مل گئے ہیں، جہاں ان کے گروپ اسٹیج کے تینوں میچز ہونے ہیں، لیکن سپورٹ اسٹاف اور انتظامیہ کے کئی ارکان کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث ایرانی ٹیم کو اپنا تربیتی کیمپ ٹوسان سے منتقل کر کے میکسیکو کے شہر ٹیخوانا میں لگانا پڑا۔
منصور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ایران کی ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ اب تک کا بدترین ورلڈ کپ ہے۔دونوں دوست اس بات سے بھی واقف ہیں کہ قومی فٹ بال ٹیم ایرانی تارکینِ وطن کے درمیان تقسیم کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بعض لوگ اسے ایرانی حکومت کا پروپیگنڈا ٹول سمجھتے ہیں۔ ۲۰۲۲ء کے قطر ورلڈ کپ میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پس منظر میں ایرانی شائقین نے خود اپنی ٹیم کو بو کیا تھا اور امریکہ کے خلاف۰۔۱؍گول کی شکست پر ایران کی سڑکوں پر جشن منایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:انوبھو سنہا کو امتیاز علی کی فلم ’’ میں واپس آؤں گا‘‘ پسند آئی
یہ تناؤ اس بار لاس اینجلس میں بھی محسوس کیے جانے کا امکان ہے جہاں جنوری میں تازہ عوامی تحریک کو کچلنے کے خلاف بڑے مظاہرے ہوئے تھے۔ پورمند کا کہنا ہے کہ انہیں لاس اینجلس کے میچوں کے دوران شدید مخالفت کی توقع ہے۔تاہم، وہ پرامید ہیں کہ جیسے ہی میدان میں پہلی کک لگے گی، یہ دشمنی ہوا ہو جائے گی۔ انہوں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا’’مجھ جیسے اور میرے دوست جیسے سچے شائقین اس وقت سیاست کو پسِ پشت ڈال کر صرف کھیل پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ سیاست کی بات ہم میچ کے بعد کر لیں گے۔‘‘