کشمیر میں تیندوؤں کی دہشت،۳؍ دن میں۶؍ تیندوے پکڑےگئے

Updated: June 11, 2021, 7:48 AM IST | srinagar

محکمہ وائلڈ لائف کشمیر کے مطابق بڈگام ،پٹن کھریو اور پانپور میں پچھلے ایک ہفتے میں۱۶؍ تیندوے دیکھے جا چکے ہیں

16 leopards have been spotted in Kashmir in a week.Picture:PTI
کشمیر میں ایک ہفتے کے دوران ۱۶؍ تیندوے دیکھے گئے ہیں تصویرپی ٹی آئی

کشمیر میں اِن دنوں انسانی بستیوں میں تیندوؤں کی دہشت ہے۔اوم پورہ بڈگام میں حال ہی معصوم بچی ادا یاسر کو تیندوےنے اپنا شکار بنایا اور اس کے بعد گزشتہ شام ٹنگ مرگ میں ایک بچے کو مقامی لوگوں نے تیندوے کے پنجے سے چھڑا لیا لیکن بچہ زخمی ہوگیا۔ محکمہ وائلڈ لائف کشمیر کے مطابق بڈگام، پٹن کھریو اور پانپور میں پچھلے ایک ہفتے میں کم وبیش۱۶؍ تیندوے بستیوں میں یا ان کے قریب دیکھے گئے ہیں جن میں سے۶؍تیندوے صرف پچھلے۳؍دن میں ہی پکڑے گئے۔ایک دن پہلے ایک تیندوا بڈگام ڈی سی آفس تک پہنچ گیا تھا جس کے بعد دفتر کے آس پاس جھاڑیوں کو کاٹنے کا کام شروع کردیاگیا۔
 ریجنل وائلڈ لائف وارڈن کشمیر راشد نقاش کا کہنا ہےکہ اتنی تعداد میں تیندوے پہلے کبھی نہیں پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تیندوے اکثر غذا کی تلاش میں سرما میں ہی انسانی بستیوں کا رُخ کرتے تھے لیکن اس بار گرمیوں میں اتنی بڑی تعداد میں انسانی بستیوں کے قریب ان کی موجودگی محکمہ کے لئےایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیندوے اکثر آسان شکار کی تلاش میں انسانی بستیوں کا رُخ کرتے ہیں اور انہیں چھپنے کے لئے بڑے جنگل کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ جھاڑیوں میں بھی گزارا کرلیتے ہیں اور مرغوں اور دیگر چھوٹے جانوروں سے لے کر کتوں کا شکار بھی کرتے ہیں ۔
 نیوز ۱۸؍ کی ایک رپورٹ کے مطابق شیر کشمیر زرعی یونیوسٹی کے شعبہ جنگلی حیات کے صدر ڈاکٹر خورشید کا کہنا ہے کہ محکمہ سوشل فارسٹری کی طرف سے قائم کی گئی نرسریاں تیندوے کی آماجگاہ بن گئی ہیں اور انسانی بستیوں کے قریب یہ بے ہنگم نرسیاں تیندوے کی افزائش نسل کا بڑا مرکز بن گئی ہیں اور یہی تیندوے انسانی بستیوں میںگھس رہے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ تیندوا بڑی تیزی سے افزائش نسل کرتا ہے اور ان علاقوں میں انسانی جان اور مال لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔جنگلی حیات کے کچھ ماہر ان تیندوؤں کو قابو میں کرنے کیلئے ان کو مارنے کی وکالت کرتے ہیں لیکن ایسا کرنے کیلئے جنگلی حیات سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی کیونکہ تیندوا بھی شیر کی طرح شیڈول وَن میں شامل  ہے اور اسے کو تحفظ حاصل ہے۔
 ڈاکٹر خورشید اس  بارے میں کہتے ہیں کہ بستیوں کے آس پاس پائے جانے والے یہ تیندوے قدرتی ماحولیاتی نظام کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ یہ جنگلوں میں پائے جانے والے تیندوے سے مختلف ہیں لہٰذاانکو مارنے سے قدرتی ماحولیاتی نظام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

kashmir Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK