• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تھائی لینڈ انتخابات: بھوم جے تھائی پارٹی کو فیصلہ کن فتح، نیا حکومتی دور متوقع

Updated: February 09, 2026, 6:02 PM IST | Bangkok

تھائی لینڈ میں ۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ہونے والے عام انتخابات میں وزیراعظم انوتن چرنویراکل کی بھوم جے تھائی پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، جو ۵۰۰؍ رکنی ایوان نمائندگان میں تقریباً ۱۹۲-۱۹۴ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ اگرچہ اسے اکثریت نہیں ملی، لیکن ممکنہ کوئلشن حکومت کے ذریعے نئی حکومت جلد قائم ہو جائے گی۔ اسی روز آئینی ریفرنڈم میں ووٹرز نے موجودہ فوجی ڈرافٹ آئین میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا، جو آئینی اصلاحات کی راہ ہموار کرتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

تھائی لینڈ میں ۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو کرائے گئے عام انتخابات میں وزیراعظم انوتن چرنویراکل کی قیادت والی بھوم جے تھائی پارٹی (Bhumjaithai Party) نے سب سے زیادہ نشستیں جیت کر نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کر دی ہے۔ غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج کے مطابق پارٹی کو ۵۰۰؍ ممبران کے ایوان نمائندگان میں تقریباً ۱۹۲-۱۹۴ نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جو اسے سب سے بڑی پارٹی بناتی ہیں، تاہم ۲۵۱؍ نشستوں کی مکمل اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ انتخابات کے بعد حکومت بنانے کیلئے کوئلشن کی ضرورت ہے، اور بھوم جے تھائی پارٹی اپنے اتحادی کلا تھام پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ طور پر حکومت قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیر اعظم انوتن نے اپنی فتح کو ’’تمام تھائی عوام کی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے عوام کے اعتماد کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک کی خدمت اور استحکام کیلئے بھرپور کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: اٹلی پیس بورڈ میں شامل نہیں ہوگا: وزیر خارجہ

یہ انتخابات تھائی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر سامنے آئے ہیں، کیونکہ گزشتہ تین سالوں میں پارلیمنٹ بار بار تحلیل ہوتی رہی ہے اور حکومتیں مسلسل بدلتی رہیں، جس سے سیاسی استحکام کو چیلنج کا سامنا رہا۔ ۲۰۲۵ء میں بھوم جے تھائی پارٹی نے سابق حکومت سے علیحدگی اختیار کی تھی اور پارلیمنٹ تحلیل کے بعد نئے انتخابات کا اعلان ہوا تھا۔ انتخابات میں حصہ لینے والی دیگر بڑی جماعت پیپلز پارٹی (people`s party) نے بھی مضبوط کارکردگی دکھائی، اور اسے تقریبا ۱۱۶-۱۱۸ نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ پیو تھائی پارٹی، جو کبھی ملک کی سب سے طاقتور جماعت رہی، کمزور کارکردگی کے ساتھ صرف ۷۴-۸۰  نشستیں حاصل کر رہی ہے، جو ماضی کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ انتخابات کا ایک اہم پہلو آئینی ریفرنڈم بھی تھا جس میں ووٹرز نے موجودہ ۲۰۱۷ء کے آئین میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا، جس سے آئندہ آئین سازی کا عمل شروع ہو سکے گا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق تقریباً ۶۰؍ فیصد ووٹرز نے تبدیلی کی حمایت کی، جس سے سیاسی اصلاحات کے امکانات کے دروازے کھل گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین جیسے چہرے نے رفعت اوزدمیر کو سماجی دباؤ میں مبتلا کر دیا

تھائی عوام نے تقریباً ۶۵؍ فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیا، جو کہ پچھلے انتخابات سے کم تھا، مگر سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ نتیجے نے قدامت پسند اور روایتی سیاسی قوتوں کو مضبوط رکھا ہے، جو شاہی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے قریبی روابط رکھتے ہیں، جبکہ ترقی پسند اور جمہوری اصلاح پسند قوتوں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ تھائی سیاست میں ماضی میں کوئلشن حکومتوں کی تشکیل ایک عام روایت رہی ہے، اور بھوم جے تھائی پارٹی کو بھی مکمل اکثریت نہ ملنے پر اخلاص اور شراکت داری کے ساتھ دیگر جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھوم جے تھائی پارٹی کامیابی سے اتحادی حکومت بنا لیتی ہے تو وزیر اعظم انوتن تقریباً دس سال کے اندر دو بار ووٹ جیتنے والے پہلے تھائی وزیراعظم بن سکتے ہیں، جس سے سیاسی استحکام میں اضافہ متوقع ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ان انتخابات نے شاہی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حامی حلقوں کو مضبوطی فراہم کی ہے، جبکہ ترقی پسند اور شہری ووٹرز نے پارٹی کی حمایت کرکے آئینی اصلاحات کے حق میں مثبت پیغام بھی دیا ہے، جو مستقبل میں تھائی سیاست کی سمت کو متاثر کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK