• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اعضاء کی پیوندکاری میں تھانے سرکل مہاراشٹرکیلئےمثالی ماڈل بنتا جارہا ہے

Updated: February 15, 2026, 10:31 AM IST | Mumbai

ہیرا نندانی فورٹس اسپتال میں ۷۰؍ سالہ عضودہندہ کی جانب سے ڈونیشن کامیاب رہا جبکہ ایم ایس اسپتال میں ۳۶؍ سالہ دہندہ کےدل، جگر اور کورنیا کامیابی سے حاصل کئے گئے۔

Heart and liver transplant facilities have been made available in hospitals in Thane Circle. Photo: INN
تھانے سرکل کے اسپتالوں میں دل اور جگرکی پیوندکاری کی کا فی سہولت ہوگئی ہے۔ تصویر: آئی این این

تھانے ضلع میں اعضاء عطیہ کی تحریک کے باعث کامیاب ٹرانسپلانٹ (پیوندکاری) کا سلسلہ جاری ہے۔ بہتر انتظامی تعاون، ٹرانسپلانٹ سینٹر اور کوآرڈی نیشن سسٹم کی مؤثر کارکردگی کے نتیجے میں حالیہ دنوں ایک۳؍ سالہ بچے اور۶۰؍سالہ مریض کو جگر کی پیوند کاری کے ذریعے نئی زندگی ملی ہے۔ اس طرح تھانے سرکل مہاراشٹر کیلئے ایک مثالی ماڈل بنتا جا رہا ہے۔ 
نان ٹرانس پلانٹ آرگن ریٹریول سینٹرس (این ٹی او آر سی) اور ٹرانسپلانٹ سینٹر کے درمیان مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں برین ڈیتھ کے اعلان کے بعد کے عمل، اعضاء کی دستیابی میں فرق، اسپتالوں کے درمیان کوآرڈی نیشن اور عوامی بیداری کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسیز ممبئی بورڈ ڈاکٹر اشوک نند پورکار کی رہنمائی میں منعقدہ اجلاس میں ڈاکٹر سچن جادھو، ڈاکٹر ابھجیت فرنویس، ڈاکٹر ایس کے ماتھر اور ڈاکٹر بھرت شاہ سمیت دیگر ذمہ داران شریک ہوئے۔ اس موقع پر آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر سہولیات رکھنے والے اسپتالوں کو این ٹی او آر سی کے طور پر رجسٹر کرنے کی ہدایت دی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں ملک کے پہلے کلائمیٹ ویک کے انعقادکی تیاری

مثبت اقدامات کے فوری نتائج سامنے آ رہے ہیں ۔ ۸؍فروری کو ہیرا نندانی فورٹس اسپتال میں ۷۰؍ سالہ انگ دان کنندہ کا کامیاب کیڈیور ڈونیشن ہوا جبکہ۹؍ فروری کو ایم ایس اسپتال میں ۳۶؍ سالہ اعضا دہندہ کےدل، جگر اور کرنیا کامیابی سے حاصل کیے گئے۔ نڈل آفیسر ڈاکٹر نیلش سپکالے نے پورے عمل میں فوری انتظامی تعاون فراہم کیا۔ نئے سال میں اب تک تھانے سرکل میں ۴؍ کیڈیور عضوعطیہ مکمل ہو چکے ہیں جن میں ہورایزن پرائم اسپتال(ایک)، ہیرا نندانی فورٹس اسپتال(۲) اور ایم ایس اسپتال(ایک) شامل ہیں ۔ ڈاکٹر اشوک نند پورکار نے کہا کہ عطیہ دہندگی صرف طبی عمل نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک ہے۔ ان کے مطابق ہر شہری کو برین ڈیتھ کے بعد انگ دان کے بارے میں مثبت فیصلہ کرنا چاہیے کیونکہ ایک خاندان کا حوصلہ مند قدم کئی افراد کی زندگی بچا سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK