میرٹھ میں کی گئی سیلنگ کارروائی پر اکھلیش کی تنقید، کہا: ۱۸۵۷ء کی تاریخی تحریک کی طرح ملک میں ایک نئی’معاشی آزادی کی تحریک‘ کا آغاز میرٹھ سے ہو سکتا ہے
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 8:51 AM IST | Lucknow
میرٹھ میں کی گئی سیلنگ کارروائی پر اکھلیش کی تنقید، کہا: ۱۸۵۷ء کی تاریخی تحریک کی طرح ملک میں ایک نئی’معاشی آزادی کی تحریک‘ کا آغاز میرٹھ سے ہو سکتا ہے
حال ہی میں سپریم کورٹ کے حکم پر میرٹھ کی سینٹرل مارکیٹ میں کی گئی سیلنگ کی کارروائی کے سلسلے میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے ریاست کی یوگی اور مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک نئی’معاشی آزادی کی تحریک‘ کی شروعات میرٹھ سے ہو سکتی ہے۔
پیر کواکھلیش یادو نے۱۸۵۷ء کی تاریخی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح میرٹھ نے آزادی کی لڑائی میں اہم رول ادا کیا تھا، اسی طرح اب یہ شہر معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی تحریک کا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کی پالیسیاں کسانوں، چھوٹے تاجروں اور بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے ی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمین کے حصول، کچھ قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے حکومت روایتی تجارت اور کھیتی باڑی کو کمزور کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کی ان پالیسیوں کا فائدہ بڑے صنعت کاروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مل رہا ہے جبکہ چھوٹے کاروباری حاشیے پر جا رہے ہیں۔ ایس پی سربراہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اب تاجر طبقے میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے اور آہستہ آہستہ یہ طبقہ حکومت کے خلاف متحد ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بڑے تاجر ابھی تک حکومت کی حمایت کر رہے ہیں، وہ بھی مستقبل میں ان پالیسیوں سے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ چندہ اور کمیشن کے ذریعے کچھ منتخب سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے، جس سے معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔
اکھلیش یادو نے’بلڈوزر سیاست‘ پر بھی نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر صرف مکانوں اور دکانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی خود کفیل معیشت پر بھی پڑ رہا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو ملک معاشی غلامی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹھ کبھی ناانصافی کے سامنے نہیں جھکا ہے اور نہ ہی آگے جھکے گا۔ تاجر، کسان اور صنعت کار مل کر اس مبینہ معاشی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور ایک بڑی تحریک کی شکل لے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس کارروائی نے تاجروں کے ساتھ ہی وہاں رہنے والوں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ بلڈوزر کارروائی کے بعد خواتین آہ و بکا کرتی ہوئی دکھائی دیںجبکہ گھر کے افراد اِدھر اُدھر بھاگتے پھرتے نظر آئےتاکہ کہیں سے کوئی مدد مل جائے۔ اس معاملے میں کانگریس نے بھی بی جے پی حکومت پر عوام کو بے بس و مجبور چھوڑ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس تعلق سے کانگریس نے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے، جس میں ایک تاجر نہ صرف اپنی پریشانی بیان کر رہا ہے بلکہ عوام سے یہ اپیل بھی کر رہا ہے کہ وہ کبھی بی جے پی کو ووٹ نہ کریں۔ وہ شخص ’’وزیراعظم مودی، وزیر اعلیٰ یوگی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے راج میں،کٹورا ہاتھ میں‘‘ آنے کی بات کہتا دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’مودی تیرے راج میں، کٹورا آ گیا ہاتھ میں۔ یہ نعرہ میرٹھ کے تاجر لگا رہے ہیں، کیونکہ سینٹرل مارکیٹ میں ان کی جمع پونجی تباہ کردی گئی ہے۔‘‘ اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر عوام میں زبردست برہمی دکھائی دے رہی ہے۔