ڈرافٹ لسٹ کے مقابلے ووٹروں کی تعداد میں ۸۴؍لاکھ سے زیادہ کا اضافہ ہوا ، اپوزیشن کےسنگین الزامات ، ریاست میں کل ووٹرس ۱۳؍ کروڑ سے زائد
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 9:36 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow
ڈرافٹ لسٹ کے مقابلے ووٹروں کی تعداد میں ۸۴؍لاکھ سے زیادہ کا اضافہ ہوا ، اپوزیشن کےسنگین الزامات ، ریاست میں کل ووٹرس ۱۳؍ کروڑ سے زائد
اتر پردیش میں خصوصی جامع نظرثانی مہم کے بعد حتمی ووٹر لسٹ جمعہ کو جاری کر دی گئی۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رِنوا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اب ریاست میں کل ووٹرس کی تعداد ۱۳؍ کروڑ ۳۹؍ لاکھ ۸۴؍ ہزار ۷۹۲؍ رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران ۸۴؍ لاکھ ۲۸؍ ہزار۷۶۷؍ نئے ووٹرز شامل کئے گئے، لیکن ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں تقریباً ۲؍کروڑ۶؍ لاکھ ووٹرز کے نام فہرست سے حذف کر دیے گئے۔ اس طرح کل ووٹرز کی تعداد میں تقریباً ۱۳ء۲۴؍ فیصد کی کمی آئی ہے۔ اس سے پہلے ریاست میں ووٹرس کی تعداد۱۵ء۴۴؍ کروڑ تھی جو اب کم ہو کر ۱۳ء۴۰؍کروڑ رہ گئی ہے۔یوپی میں ایس آئی آر ووٹر لسٹ پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے ۔اپوزیشن جماعتوں نے ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر حذف کئے جانے کوجمہوریت کے ساتھ دھوکہ اور عوامی حق رائے دہی کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔
یوپی کے چیف الیکٹورل آفیسرنو دیپ رِنوا کے مطابق یہ نظرثانی مہم ۱۶۶؍ دن تک جاری رہی۔ اس دوران ۳ء۲۶؍ کروڑ افراد کو نوٹس جاری کئے گئے جن میں سے تقریباً ۳ء۵۰؍ لاکھ افراد مناسب دستاویزات پیش نہیں کر سکے، جس کے باعث ان کے نام کاٹ دیے گئے۔ اضلاع کی سطح پر لکھنؤ میں سب سے زیادہ ۲۲ء۸۹؍ فیصد ووٹرز کی کمی درج کی گئی۔ جبکہ پریاگ راج، لکھنؤ اور جونپور جیسے اضلاع میں ووٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔ خواتین ووٹرز کی تعداد میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اب ہر ۱۰۰۰؍ مرد ووٹرز کے مقابلے میں خواتین کی تعداد ۸۳۴؍ رہ گئی ہے، جبکہ پہلے یہ تعداد ۸۷۷؍ تھی۔ ریاست میں اس وقت ۶؍کروڑ سے زیادہ خواتین ووٹرز موجود ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے بتایا کہ اگر کوئی شخص اپنے نام کے حذف ہونے سے مطمئن نہیں ہے تو وہ ۱۵؍ دن کے اندر ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پہلی اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اس کے بعد بھی عدم اطمینان کی صورت میں ۳۰؍ دن کے اندر چیف الیکٹورل آفیسر کے پاس دوسری اپیل کی جا سکتی ہے۔