چیف جسٹس نے گفت وشنید کے فروغ پر زور دیا

Updated: November 27, 2021, 8:10 AM IST | new Delhi

یوم آئین پر جسٹس رمنا نےوکیلوں کو بھی ان کی ذمہ داریاں یاددلائیں،ضرورتمندوں کے تعاون کا مشورہ، احساس دلایا کہ آئین کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے

A man wearing a Dr. Ambedkar`s mask at a Constitution Day rally in Bangalore.
بنگلور میں یوم آئین کے موقع پر نکالی گئی ریلی میں ایک شخص ڈاکٹر امبیڈکر کا ماسک پہنے ہوئے ہے۔

 جمعہ کویوم آئین  کے موقع پرچیف جسٹس آف انڈیا  این وی رمنا نے ملک میں  مثبت گفت وشنید کے ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وکیلوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایاکہ وہ نہ صرف قانون کے ماہرین ہیں بلکہ انہیں  قانونی لحاظ سے عوام کو باشعور بنانے میں اپنا رول ادا کرنا چاہئے اور ضرورت مندوں کی مدد کیلئے آگے آنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے ساتھ  ہی وکیلوںسے اپیل کی کہ وہ عدلیہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں سے اس کی حفاظت کریں۔ 
مثبت گفت وشنید کو فروغ دینے کی نصیحت
  چیف جسٹس نے ۷۲؍ ویں یوم آئین  کے موقع پر سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کی جانب سےمنعقدہ تقریب  سے خطاب  میں معاشرہ میں مثبت گفت وشنید کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے بحث ومباحثہ سے ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے اور عوامی فلاح کے اُونچے درجے تک پہنچ پاتا ہے۔  چیف جسٹس نے اس  میں ججوں  اور وکیلوں کے رول پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’اس معاملے میں سب سے اہم اور واضح رول بلا شبہ  ملک کےوکیلوں اور ججوں کا ہے۔ ‘‘
 چیف جسٹس نے یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ عدالتوں میں ہونے والے بحث ومباحثہ نے ملک کے آئین کو مزید متنوع بنایا ہے۔ ان کے مطابق کمرہ ٔ عدالت کے اندر اور باہر ہونےوالے مباحثوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آئین  ہندزیادہ بہتر اور متنوع ہے بہ نسبت اس وقت کے جب وہ اپنا یا گیاتھا۔  
وکیلوں اور ججوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا
  چیف جسٹس  نے وکیلوں سے خطاب کرتے ہوئے آئین  سے متعلق انہیں ان کی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلایا۔ جسٹس رمنا نے کہا کہ ’’آپ ان عظیم  لوگوں  کے جانشین ہیں جنہوں نے  اس ملک کیلئے یہ دانشمندانہ دستاویز مرتب کیا ہے۔ اس کی نئی تشریحات میں بھی آپ ہی کا سب سے اہم رول ہے۔ اس ملک کی تاریخ  ، حال اور مستقبل آپ کے کاندھوں پر ہے۔‘‘
وکلاء کو ضرورت مندوں کی مدد کی تلقین
 چیف جسٹس نے وکیلوں کو یہ احساس بھی دلایا کہ سماج میں آئین اور قانون سے متعلق بیداری پیدا کرنے کیلئے انہیں اپنا رول اداکرنا ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو سماج  میں قائد کی ذمہ داری ادا کرنی ہے،  اس لئے ضرورت مندوں کیلئے آگے آئیں۔ جہاں بھی ضرورت ہو عوامی مفاد میں مقدمات لیں۔ عوام نے آپ پر جو اعتماد کیا ہے اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ 
قانون توڑنے والوں کو قانون سازی کا موقع نہ ملے
 اس دوران بار اسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’قانون توڑنے والوں کو قانون ساز نہیں بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کااظہار کیا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ایسے اراکین کی تعداد بڑھ رہی ہے جو سنگین جرائم  کے معاملات  میں  ماخوذ  ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۰۰۴ء میں ایسے اراکین  کی تعداد ۲۳؍ فیصد تھی جو اب بڑھ کر ۴۳؍ فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ملک کے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ آئین کو جس تناظر میں مرتب کیاگیاتھا اسے اسی تناظر میں دیکھا جائے اور ویسا ہی رہنے دیا جائے۔
نوآبادیاتی ذہنیت کے حامل افراد ملک کی ترقی 
کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں: وزیراعظم مودی 
 اُدھر یوم آئین سے متعلق سپریم کورٹ   کے پروگرام  سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی   نے  الزام لگایاکہ نوآبادیاتی ذہنیت کی حامل طاقتیں ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ  نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کو سالہاسال گزر جانے  کے بعد یہ ذہنیت آج بھی موجود ہے۔  ان کے مطابق’’ہم واحد ملک ہیں جو پیرس معاہدہ  کے اہداف کو وقت سے پہلے حاصل کرنے جارہے ہیں مگر ماحولیات کے نام پر ملک پر دباؤ بنایا جا رہا ہے۔  یہ سب نوآبادیاتی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK