مچھندر ناتھ کی سمادھی قرار دینے کےمقدمہ کو دوبارہ بحال کرنے سے ڈسٹرکٹ کورٹ کا انکار۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 10:58 AM IST | Mumbai
مچھندر ناتھ کی سمادھی قرار دینے کےمقدمہ کو دوبارہ بحال کرنے سے ڈسٹرکٹ کورٹ کا انکار۔
حضرت عبدالرحمن شاہ المعروف حاجی ملنگ بابا کے مزار کومچھندر ناتھ مندرقرار دیتے ہوئے ملکیت و مذہبی شناخت سے متعلق گزشتہ ۴؍ دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ملک کااہم ترین قانونی تنازع بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ تھانے ڈسٹرکٹ کورٹ نے ۱۹۸۲ء سے زیر ِ التوا دیوانی مقدمہ (سول سوٹ نمبر۱/۱۹۸۲) اور اس سے متعلق دائر تمام متفرق درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کو حتمی طور پر ختم قرار دیا ہے۔ عدالت نے اپنے تفصیلی حکم میں کہا ہے کہ اصل مدعیان کی وفات کے بعد مقررہ قانونی مدت میں ان کے قانونی ورثاء یا نمائندوں کی جانب سے مقدمے کی مؤثر پیروی نہیں کی گئی اور برسوں کی غیر معمولی تاخیر کا کوئی قابل قبول قانونی جواز بھی پیش نہیں کیاگیا اس لئے یہ مقدمہ قانوناً ساقط ہو چکا ہے۔ کورٹ نے ساتھ ہی کہا کہ اسے دوبارہ زندہ کرنے کی تمام کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی تقریباً ۴۴ برس سے جاری یہ حساس اور تاریخی قانونی لڑائی عدالتی سطح پر اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
۱۹۸۲ء میں موہن آنند گوکھلے اور پانڈورنگ ماروتی سالونکے نے حاجی ملنگ بابا کے مزار کو مچھندر ناتھ کی سمادھی قرار دیتے ہوئے تھانے ڈسٹرکٹ کورٹ میں دعوی پیش کیا تھا۔ مقدمہ میں کہاگیاتھا کہ متنازع جائیداد ہندو عقیدے اور ناتھ پنتھ سے تعلق رکھنے والے مچھندر ناتھ، گورکھ ناتھ اور دیگر نو ناتھوں کا سمادھی مندر ہے ،یہ حاجی ملنگ بابا کا آستانہ نہیں ہے۔طویل سماعت کے دوران مقدمے کے دونوں بنیادی مدعیان فوت ہوگئے۔
مدعی نمبر ایک موہن گوکھلے جولائی ۱۹۹۸ءمیں جبکہ مدعی نمبر ۲؍ پانڈورنگ سالونکے مئی ۲۰۰۸ میں رخصت ہو گئے۔ دیوانی مقدمات کے ضابطہ کے تحت مدعی کی وفات کے بعد ۹۰ ؍دنوں کے اندر قانونی ورثاء کو عدالت میں پیش ہو کرکارروائی آگے بڑھانی ہوتی ہے۔۲۰۰۸ء میں دوسرے مدعی کے انتقال کے بعد ۸ ؍سال تک کوئی بھی شخص بطور نمائندہ سامنے نہیں آیا جس سے مقدمہ خود بخود ساقط ہو گیا۔ بامبے ہائی کورٹ نے بھی ۲۰۱۷ ءمیں ایک رٹ پٹیشن کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمہ ساقط ہونے کی وجہ سے رِٹ پٹیشن کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔
۲۰۱۶ء میں یعنی ۸ ؍سال کی طویل خاموشی کے بعدمدن سداشیو بل کاوڑے نے ناتھ پنتھی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ۱۹۹۸ ءکا ایک مختار نامہ پیش کیا اور نئے مدعی کے طورپر مقدمہ کا حصہ بننے کی استدعا کی تھی ۔انل سالونکے جو متوفی مدعی پانڈورنگ سالونکے کے بیٹے ہیں، نے ۸ ؍سال کی تاخیر کو معاف کرنے اور مقدمہ بحال کرنے کی تھانے ڈسٹرکٹ کورٹ سے درخواست کی تھی۔انہوں نے اس کیلئے اپنی بیماری کا جواز پیش کیاتھا تاہم ڈسٹرکٹ کورٹ نےفریقین کے دلائل کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا کہ ۲۸۹۵؍ دنوں کی تاخیر کیلئے جو میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا ہے وہ صرف ۶؍ دن اسپتال داخل رہنے کو ظاہر کرتا ہے، اس لئے یہ ۸؍سال کی تاخیر کا معقول جواز نہیں بن سکتا۔ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اصل مدعی کی وفات کے ساتھ ہی اس کا دیا ہوا مختار نامہ بھی قانوناً ختم ہو جاتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نرمی کے رویے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حدِ سماعت کے قوانین اور دوسرے فریق کے حقوق کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے۔اس تفصیلی فیصلے کے بعد ۱۹۸۲ء سے چلا آ رہا یہ تاریخی دیوانی مقدمہ حتمی طور پر ختم ہو گیا ہے۔
حاجی ملنگ صاحب درگاہ ٹرسٹ کے چیئرمین ناصر خان نے فیصلے پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عبدالرحمٰن شاہ المعروف حاجی ملنگ بابا کی درگاہ تقریباً ۸؍ سو سال قدیم ہے اور مہاراشٹر وقف بورڈ میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔
اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ چند شرپسند عناصر نے جان بوجھ کر بابا کے مزار کو مچھندر ناتھ کی سمادھی قرار دے کر قانونی تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی تاہم درگاہ ٹرسٹ کے پاس تمام مستند قانونی اور تاریخی دستاویزات موجود ہیں جو اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ یہ مقدس آستانہ حاجی ملنگ بابا ہی کا مزار مبارک ہے۔