Inquilab Logo Happiest Places to Work

حاجی ملنگ کی مزار پربھگوا عناصر کا دعویٰ خارج

Updated: August 05, 2026, 7:41 AM IST | Mumbai

مچھندر ناتھ کی سمادھی قرار دینے کےمقدمہ کو دوبارہ بحال کرنے سے ڈسٹرکٹ کورٹ کا انکار

Haji Malang Dargah
حاجی ملنگ درگاہ

حضرت عبدالرحمن شاہ المعروف حاجی ملنگ بابا کے مزار کومچھندر ناتھ مندرقرار دیتے ہوئے ملکیت و مذہبی شناخت سے متعلق گزشتہ ۴؍ دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ملک کااہم ترین قانونی تنازع بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ تھانے ڈسٹرکٹ کورٹ نے ۱۹۸۲ء سے زیر ِ التوا دیوانی مقدمہ (سول سوٹ نمبر۱/۱۹۸۲) اور اس سے متعلق دائر تمام متفرق درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کو حتمی طور پر ختم قرار   دیا ہے۔ عدالت نے اپنے تفصیلی حکم میں کہا ہے کہ اصل مدعیان کی وفات کے بعد مقررہ قانونی مدت میں ان کے قانونی ورثاء یا نمائندوں کی جانب سے مقدمے کی مؤثر پیروی نہیں کی گئی  اور برسوں کی غیر معمولی تاخیر کا کوئی قابل قبول قانونی جواز بھی  پیش نہیں کیاگیا اس لئے  یہ مقدمہ قانوناً ساقط ہو چکا  ہے۔ کورٹ نے ساتھ ہی کہا کہ اسے دوبارہ زندہ کرنے کی تمام کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی تقریباً ۴۴ برس سے جاری یہ حساس اور تاریخی قانونی لڑائی  عدالتی سطح پر اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
  ۱۹۸۲ء میں موہن آنند گوکھلے اور پانڈورنگ ماروتی سالونکے نے حاجی ملنگ بابا کے مزار کو مچھندر ناتھ کی سمادھی قرار دیتے ہوئے تھانے ڈسٹرکٹ کورٹ میں دعوی پیش کیا تھا۔ مقدمہ میں کہاگیاتھا کہ متنازع جائیداد ہندو عقیدے اور ناتھ پنتھ سے تعلق رکھنے والے مچھندر ناتھ، گورکھ ناتھ اور دیگر نو ناتھوں کا سمادھی مندر ہے ،یہ حاجی ملنگ بابا کا آستانہ نہیں  ہے۔طویل سماعت کے دوران مقدمے کے دونوں بنیادی مدعیان فوت ہوگئے

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK