بھیونڈی بس اسٹینڈ کی حالت خستہ، مسافرپریشان

Updated: October 01, 2022, 9:46 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

بسوں تک پہنچے اور باہر نکلنے کیلئے گندے پانی سے بھرےگڑھوں اور کیچڑ سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے

The condition of the Bhiwandi ST stand can be estimated from the picture below.
زیرنظرتصویر سے بھیونڈی ایس ٹی اسٹینڈ کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔(تصویر:انقلاب)

:  یہاں انتظامیہ کی لاپروائی کے سبب  ایس ٹی اسٹینڈ کی حالت انتہائی خستہ  ہوچکی ہے۔ ایک جانب جہاں بس ڈپوکی عمارت خستہ حال  ہے وہیں  احاطے کے اندر کی پوری سڑک گڑھوں میں تبدیل ہوچکی ہے۔چند منٹوں کی بارش کے دوران ہی یہ گڑھے چھوٹے چھوٹے تالاب میں تبدیل ہوجاتے ہیںجس کے باعث مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔   بس ڈرائیور، کنڈکٹر، ایس ٹی ڈپو کے عملے  اور مسافروں کو بس تک پہنچنے اور بس سے اتر کر ایس ٹی اسٹینڈ سے باہر نکلنے میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
  صنعتی شہرسے ممبئی، تھانے، بوریولی، واڑہ، ناسک اور ریاست کے دیگر شہروں تک سفر کرنے کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کے  نام پرواحد ذریعہ ایس ٹی بس ہے۔بالخصوص عروس البلاد ممبئی سے بھیونڈی کا صرف کاروباری تعلق نہیں ہے بلکہ ادبی،دینی،سماجی،سیاسی اور تعلیمی بھی ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد بھیونڈی سے ممبئی  سفر کرتے ہیں ، جن میں بڑی تعداد طلبہ کی ہوتی ہے جوممبئی ،تھانے اور کلیان کے ساتھ دیگر شہروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔بس اسٹینڈ میں بسوں میں سوار ہونے کیلئے قطار کا کوئی نظم نہ ہونے کے سبب مسافر ادھر اُدھر بھٹکتے رہتے ہیں، بالخصوص بزرگ شہریوں اور خواتین کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بس آتے ہی سیٹ حاصل کرنے کی کوشش میں بھگدڑ جیسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسے حالات میں بس ڈپوکے اندر جگہ جگہ چھوٹے بڑے گڑھوں میں جمع گندے پانی سے بس ڈرائیور، کنڈکٹر، ایس ٹی ڈپو کے عملے ، طلبہ  ،نوکری پیشہ افراد  کے کپڑے خراب ہوجاتے ہیں۔ گڑھوں  میں پانی کے سبب مسافروں کو بسوں میں چڑھنے اُترنے میں شدید دشواری پیش آتی ہے۔ 
 روزانہ سفر کرنے والے افراد نے بتایا کہ گزشتہ۱۰؍برس سے ایس ٹی اسٹینڈ کا بیشتر حصہ برسات کے پانی میں ڈوب جاتا ہےلیکن ایس ٹی مہامنڈل کی جانب سے مسافروں کی حفاظت اور گندے پانی اور کیچڑ سے نجات دلانے کا کوئی خاص انتظام نہیں کیا گیا ہے۔شکایت کے بعد گڑھوں کو بھرنے کے نام پر خانہ پری کی جاتی ہے لیکن یہ  کام اس قدر ناقص ہوتا ہے کہ چند دنوں کے بعد ہی حالات جوں کے توں ہوجاتے ہیں جس کے سبب  مسافروں کو بسوں میں سوار ہونے کے لئے ان گڑھوں کےگندے پانی اور کیچڑ سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK