Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئین نے خود اپنا تحفظ کیا، ۲۹۸؍ پر ۲۳۰ ؍کی فتح

Updated: April 17, 2026, 11:26 PM IST | New Delhi

مودی حکومت لوک سبھا کی سیٹو ں کو بڑھا کر۸۵۰؍ کرنے کیلئے دوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی،اپوزیشن کا مثالی اتحاد ،آئینی ترمیمی بل ناکام

Who will be blamed for the failure of the Constitutional Amendment Bill now? (Photo: PTI)
آئینی ترمیمی بل کی ناکامی کا ٹھیکرا اب کس کے سر پھوڑا جائے گا ؟(تصویر: پی ٹی آئی )

خواتین ریزرویشن بل کے قالب میں حد بندی کی کوششوں پر اپوزیشن پارٹیوں کے زبردست اتحاد نے لگام لگادی۔  خواتین ریزرویشن بل کو جمعہ کو دو دن کی گرما گرم بحث کے باوجود  لوک سبھا میں بری طرح  شکست ہوگئی کیونکہ آئینی ترمیم کے حامل اس بل کی حمایت میں حکومت دوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ بل کے حق میں ۲۹۸؍ووٹ پڑے اور اس کے خلاف ۲۳۰؍ ووٹ ڈالے گئے۔ اس کے بعد حکومت نے اسی میں عافیت جانی کہ حد بندی سے متعلق بل کو بھی واپس لے لیا جائے۔ ایک طرف جہاں حکومت کی دلیل تھی کہ وہ لوک سبھا کی سیٹوں  میں  ۵۰؍فیصد اضافے کے ذریعہ خواتین کیلئے مقننہ میں  ۳۳؍فیصد ریزرویشن کو لاگو کرنا چاہتی ہے  وہیں  اپوزیشن نے اس کو ملک کے انتخابی نقشہ کو تبدیل کرنے کی کوشش قراردیتے ہوئے اس  پرسخت تنقیدیں کیں اور بل کی مخالفت میں پوری طرح سے متحد ہوکر ووٹ دیا۔ 
 بل کی ناکامی کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بل کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کو خواتین مخالف قرار دیا۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بل کو ’ملک مخالف‘ بتایا۔ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی دیگر اپوزیشن لیڈروں نے بھی  اس بل پر سخت اعتراض کیا تھا۔ گزشتہ روز بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیراعظم مودی نےاپنی تقریر میں ممبران پارلیمنٹ سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بل پر سیاست نہ کریں بلکہ حکومت پر بھروسہ کریں۔ وہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دے گی لیکن اپوزیشن نے ان کے وعدے پر اعتبار نہیں کیا۔  بل پر ووٹنگ سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے خواتین ریزرویشن بل کی آڑ میں ہندوستان کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنے پر حکومت کی سخت تنقید کی۔انہوںنے اس کوملک مخالف حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے کانگریس کسی بھی قیمت پر پاس نہیں ہونے دے گی۔ لوک سبھا میں حکمراں  محاذ کی طرف سے بار بار رکاوٹوں کے باوجودراہل گاندھی نے زور دے کر کہاکہ یہ خواتین  کے ریزرویشن کا  بل نہیں ہے،اس کا خواتین کو بااختیار بنانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ بل ملک کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش ہے، ہندوستان کی خواتین کو استعمال کرنا اور ان کے نام پریہ قانون لانا دراصل شرمناک ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK