بدھ بھومی فاؤنڈیشن کے کارکنان کارروائی کو یکطرفہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے سڑکوں پر اترے،،شہری انتظامیہ کاکہنا ہےکہ کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق ہے۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی کا منظر۔تصویر:آئی این این
پریم آٹو سے وٹھل واڑی تک مجوزہ چار لین فلائی اوور کی راہ ہموار کرنے کیلئے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کی جانب سے شروع کی گئی تجاوزات مخالف مہم والدھونی میں شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گئی۔ بدھ بھومی فاؤنڈیشن کے کارکنان اور عہدیداران نے کارروائی کو یکطرفہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا جبکہ شہری انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تمام اقدامات قانونی تقاضوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز والدھونی میں ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب کے ڈی ایم سی کے انہدامی دستہ نے بدھ بھومی فاؤنڈیشن کی حدود میں قائم تعمیرات کو مسمار کرنا شروع کیا۔ فاؤنڈیشن کے کارکنان اور مقامی بدھ مت برادری کے لوگوں نے اس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کارپوریشن نے انہیں سنبھلنے کا موقع دیے بغیر یہ کارروائی کی ہے جس سے مقامی امن و امان کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر کے ڈی ایم سی کے میونسپل کمشنر ابھینو گوئل نے ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کر کے انتظامیہ کا موقف کھل کر سامنے رکھا۔کمشنر ابھینو گوئل کا کہنا تھا کہ جس زمین پر کارروائی کی گئی ہے وہ سرکاری اراضی کے ریکارڈ کے مطابق مکمل طور پر میونسپل کارپوریشن کی ملکیت ہے۔فلائی اوور کے مفادِ عامہ کے منصوبے کے لیے اس جگہ کو خالی کروانا ناگزیر تھا۔کارروائی سے قبل فاؤنڈیشن کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
کمشنر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے مذہبی جذبات کا پورا احترام کیا ہے اور کارروائی کے دوران وہاں موجود گوتم بدھ کے چاروں مجسموں دیگر سامان کو انتہائی احترام اور محفوظ طریقےسے فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا گیا تھا۔دوسری جانب بدھ بھومی فاؤنڈیشن نے میونسپل کمشنر کے ان دعووں کو یکسر جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ فاؤنڈ یشن کی قیادت کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے کسی بھی قانونی ضابطے کو پورا کیے بغیر بدھ مت کے تین مجسمے، تاریخی بھیما کوریگاؤں کی یادگار کا ماڈل، پنچ شیل دھمّہ پرچم، بھکشو دھرم شالہ اور بدھ وہار جیسی انتہائی مقدس مذہبی و سماجی املاک کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس کارروائی میں وہاں موجود درختوں اور زراعتی اراضی کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔جس سے پورے ملک کی بدھ مت برادری کے مذہبی جذبات کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ پورے علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں انتظامیہ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے کیا سیاسی یا قانونی حکمتِ عملی اپناتی ہے۔