مولانا عبدالحمید ازہریؒ کی وفات ملت اسلامیہ کیلئے بڑا خسارہ ہے

Updated: December 05, 2021, 7:55 AM IST | Mumbai

پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری نے مولانا کی سیاسی بصیرت اور بلند حوصلگی کو یاد کیا، مالیگاؤں میں غم واندوہ کی لہر، اہم شخصیات کا اظہار تعزیت

Malegaon Additional SP Chandra Kant Khandavi paying homage at Maulana`s funeral.
مالیگاؤں کے ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھنڈوی مولانا کے جنازہ پر گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے۔

معمر عالم دین مولانا عبدالحمید ازہری کی رحلت پر ایک طرف جہاں مالیگائوں سوگوار ہےتووہیں ملکی سطح پر علمائے کرام اور قائدین ملت نے ان کے انتقال پر افسردگی کا اظہار کیا ہے۔   آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے جنرل سیکریڑی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے   ان کی وفات پر تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ مولانا عبدالحمید ازہری صاحبؒ بلند پایہ عالم دین، صاحب نظر اور درمند قائد تھے۔ انہوں نے  نشاندہی کی کہ’’ اللہ تعالیٰ نے اُن کو سیاسی بصیرت کے ساتھ ساتھ بلند حوصلگی اور جرأت وہمت سے بھی نوازا تھا، سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے وقت انھوں نے طبقہ ٔ  علماء میں شاید سب سے بڑھ  چڑھ کر حصہ لیا اور بے خوف ہو کر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا فریضہ انجام دیا۔‘‘
   مالیگاؤں میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی (رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند )نےمولانا کے داغ مفارقت دے جانے پر افسردگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اُن کی شخصیت ملک وملّت کیلئے وقف رہی ۔ مولانا نے عمر بھر قومی ،ملّی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ان کا دائرہ کار قومی سطح تک پھیلا ہواہے ۔‘‘مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی (سیکریٹری جنرل آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ)نے کہا کہ ’’ پرسنل لابورڈ کے قیام کے وقت سے آپ نے بورڈ کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ۔معہدملت کے اول فارغین میں شامل مولانا ازہری تادم زیست ملّی کاموں میں منہمک رہے ۔حضرت مولانا محمد ولی رحمانی ؒ سے انہیں بے حد عقیدت تھی۔‘‘
 اطہر حسین اشرفی (رکن کل جماعتی تنظیم )نے کہا کہ ’’مولانا ازہری کے ملّی کاموں کی فہرست طویل ہے۔ مالیگائوں  میں جب بھی ناگہانی واقعات ہوئے مولانا نے شہر کی قیادت کرتے ہوئے اسے آگ وخون میں آلودہ ہونے سے روکے رکھنے میں حددرجہ محنت کی ۔‘‘افظ عنایت اللہ (جمعیۃاہلحدیث )نے کہا کہ ’’قومی سطح کے اکابرین وعلماء کرام مولاناولی رحمانی ؒ،مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی اور مولانا رابع حسنی ندوی سے آپ کے گہرے مراسم رہے ۔  انہوں نے بے قصوروں ، محروس مسلم نوجوانوں اور سنگین مقدمات میں ماخوذ نوجوانوں کی رہائی کیلئے نمائندگی کی ۔‘‘مولانا شفیق القاسمی (جمعیۃعلمائے ہند)نے کہا کہ ’’مولانا عبدالحمید ازہری کا انتقال ملک وملت کیلئے عظیم خسارہ ہے۔حصول انصاف کی جنگ میں وہ ببانگ دہل بولتے تھے۔سونیا گاندھی ، شرد پوار ، شیوراج پاٹل کے سامنے مالیگائوں  کے مسائل وانصاف کے معاملات میں بہترین ترجمانی کی۔وہ کبھی دبے نہیں بلکہ انصاف کیلئے ہراول دستے میں شامل رہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK