شیو سینا کے انتخابی نشان کیلئے الیکشن کمیشن کو اجازت دینے کا فیصلہ ۲۷؍ ستمبر کو متوقع

Updated: September 08, 2022, 9:29 AM IST | new Delhi

سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نےمختصرسماعت کے بعد تمام فریقوں کو ’بریف نوٹ ‘ داخل کرنے کا حکم دیا اور شنوائی ملتوی کردی ۔ شندے گروپ کا دعویٰ : انتخابی نشان ہمیں ہی ملے گا

Uddhav Thackeray and Eknath Shinde
ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے

: مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے بنام ادھو ٹھاکرے گروپ کے درمیان شیوسینا کو لے کر معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور پانچ ججوں کی آئینی بنچ میں بدھ کو اس پر سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ۲۷؍ ستمبر کو غور کرے گا کہ انتخابی کمیشن یہ طے کرنے کے لئے آگے بڑھے کہ شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کے درمیان کس گروپ کو ’حقیقی شیوسینا‘ کی شکل میں منظوری دی جائے اور ’  تیر کمان ‘ کا نشان الاٹ کیا جائے۔
 واضح رہے کہ سماعت کے دوران شندے گروپ نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی پر لگی روک ہٹانےکا حکم جاری کیا جائے جبکہ ٹھاکرے گروپ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ فی الحال الیکشن کمیشن کو کارروائی نہیں کرنے کی ہدایت  برقرار رہے گی جو چیف جسٹس آف انڈیا کی بنچ نے جاری کی تھی۔سپریم کورٹ اب  اس معاملے کی آئندہ سماعت ۲۷؍ستمبر کو کرے گا۔ تب تک الیکشن کمیشن سمیت سبھی فریقوں کو عدالت میں بریف نوٹ داخل کرنا ہوگا۔
 واضح رہے کہ جسٹس ڈی وائی چندرچڈ، جسٹس ایم آر شاہ، جسٹس کرشنا مراری، جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس پی ایم نرسمہا کی بنچ معاملے پر سماعت کر رہی ہے۔ادھو ٹھاکرے گروپ کی طرف سے وکیل کپل سبل نے کہا کہ یہ سوال ہے کہ جب پارٹی میں تقسیم ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن کے اختیارات کیا ہوتے ہیں؟ جسٹس چندرچڈ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اس معاملے میں الیکشن کمیشن کا دائرہ طے کیا جائے گا، لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کو آگے بڑھنا چاہئے ؟، تو ایسے میں ہم درخواست طے کر سکتے ہیں۔ اس پر سبل نے کہا کہ دسویں شیڈیول کے مدنظر پارٹی میں کسی گروپ میں پھوٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کیسے کر سکتا ہے، یہ ایک اور سوال ہے۔ وہ الیکشن کمیشن کے پاس کس بنیاد پر گئے ہیں؟ اس پر سینئر وکیل نیرج کشن کول نے شندے گروپ کی طرف سے کہا کہ الیکشن کمیشن فیصلہ کرنے کے لئے آزاد ہے اور اسے فیصلہ کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
 یاد رہے کہ شندے کی قیادت والے گروپ نے خود کے حقیقی شیوسینا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔   اس دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اروند داتار نے کہا کہ الیکشن سمبل ایکٹ کے تحت اگر کوئی شکایت موصول ہوتی ہے تو تمام فریقین کو نوٹس جاری کرنا ہوتا ہے۔  اس طرح کے عمل میں کافی وقت لگتا ہے۔ 
  ادھر ریاست کے کابینی وزیر شمبھوراج دیسائی ،جنہیں وزیر اعلیٰ شندے کا معتمد خاص بھی کہا جاتا ہے ، نے یہ دعویٰ کیا کہ شیو سینا کا انتخابی نشان ہمیں ہی ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تیر کمان انہیں نہیں ملتاہے تو اسکے لئے بھی انہوں نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے کیونکہ مستقبل کے لائحہ عمل کے  لئے پوری طرح تیار ہیں۔

shiv sena Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK