روس کی روبل میں کاروبار کی شرط کے سبب ڈالر کمزور ہو سکتا ہے

Updated: April 08, 2022, 10:36 AM IST | Agency | Washington

ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر اس شرط کو دہرایا کہ جن ممالک کو گیس خریدنی ہو انہیں ڈالر کے بجائے روبل میں ادائیگی کرنی ہوگی، اس کی وجہ سے ڈالر کی اہمیت کم ہو جائے گی

Vladimir Putin is trying to strengthen the ruble.Picture:INN
ولادیمیر پوتن کی کوشش ہے کہ روبل کو مضبوط کریں۔ تصویر: آئی این این

   یوکرین جنگ کے سبب امریکہ اور یورپی ممالک نے روس پر کئی طرح کی معاشی پابندیاں عائد کیںتاکہ روس پرقدغن لگایا جا سکے لیکن اب تک ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں کہ روس پر اس کا کوئی اثر ہوا ہو بلکہ اس نے اپنی معیشت کو بچانے کیلئے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے خود امریکہ کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔   روسی صدر ولادیمیر پوتن نے متعدد مرتبہ یہ بات دہرائی ہے کہ اب وہ انہی ممالک کو گیس فراہم کریں گے جو اس کی ادائیگی ڈالر کے بجائے روبل میں کریں گے۔  یاد رہے کہ امریکہ نے روس  کے مغربی ممالک میں موجود اثاثوں کو منجمد کر دیا ہے۔  اس کا خاص مقصد یہ تھا کہیں ان ممالک میں ڈالر کی قیمت نہ گر جائے۔  یاد رہے کہ روسی صدر نے سب سے پہلے ۲۳؍ مارچ کو یہ اعلان کیا تھا کہ اب وہ گیس کے دام روبل میں وصول کریں گے۔ گزشتہ دنوں روسی وزیر خارجہ سرگئی لارئوف بھی ہندوستان آئے تھے تو انہوں نے یہاں یہی کہا تھا کہ دونوں ممالک روبل یا روپے میں کاروبار میں کریں گے۔ اگر ایسا ہوا تو روس ہندوستان کو ہرچیز جو وہ دستیاب کر سکتا ہے سستے میں فراہم کرے گا۔ اطلاع  کے مطابق حکومت ہندکی جانب سے سرگئی لارئوف کا اس کا جواب مثبت ملا تھا۔ یعنی  مودی حکومت روبل میں کاروبار کرنے کیلئے تیار ہے۔     یاد رہے کہ روس دنیا بھر کو ۴۰؍ فیصد ایندھن فراہم کرنے والا ملک ہے۔ یہ بات مشکل ہے کہ اس کے اس اعلان کی کوئی ملک مخالفت کرے۔ ایسی صورت میں ڈالر کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور لوگ اس کی جگہ روبل کا ذخیرہ کرنا شروع کریں گے۔  حالانکہ روس نے  اپنا ایسا کوئی منشا ظاہر نہیں کیا ہے۔ روس نےاپنے خریداروں کو معاہدہ شدہ کرنسی میں ادائیگی کرنے کی اجازت دی ہے جسے گیزروم بینک کے ذریعے روبیل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے  کہا کہ یہ نظام کا اصل نمونہ ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسے سامان کے نئے گروپوں تک بڑھایا جائے گا، تاہم انہوں نے اس عمل کیلئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔دمتری پیسکوف نے کہا کہ مغرب کا مرکزی بینک کے ۳۰؍  ارب ڈالر کے ذخائر کو  منجمد کرنے کا فیصلہ ایک ڈکیتی ہے جس نے پہلے ہی عالمی ریزرو کرنسیوں کے طور پر امریکی ڈالر اور یورو پر انحصار سے دوریاں بڑھانے پر مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کریملن ۱۹۴۴ء میں مغربی طاقتوں کے ذریعے قائم کئے  گئے بریٹن وُوڈز کے مالیاتی ڈھانچے کی شکل بدلنے کیلئے ایک نیا نظام چاہتا ہے۔کریملن کے ترجمان نے کہا کہ گو کہ اس مالیاتی نظام کے اطلاق میں وقت ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ہم ایک نئے نظام کی طرف آئیں گے جو بریٹن وُوڈز سسٹم سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس پر مغرب کی پابندیوں نے ڈالر اور یورو پر اعتماد کے فقدان کو مزید تقویت دی ہے۔روسی حکام نے بارہا کہا ہے کہ دنیا کے قدرتی وسائل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک کو تنہا کرنے کی مغرب کی کوشش ایک غیر معقول عمل ہے جو صارفین کیلئے قیمتوں میں اضافے اور یورپ اور امریکہ کو کساد بازاری کی طرف لے جائے گا۔روس طویل عرصے سے امریکی کرنسی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ اس کی اہم برآمدات تیل، گیس اور دھاتوں کی قیمت عالمی منڈیوں میں ڈالر میں ہیں، عالمی سطح پر ڈالر تجارت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسی ہے، اس کے بعد یورو، ین اور برطانوی پاؤنڈ ہیں۔
ڈالر کی اہمیت 
 دنیا بھر میں ڈالر کو سب سے مضبوط کرنسی اس لئے کہا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر کاروبار کرنے کیلئے ڈالر کا استعمال ہوتا ہے۔ جیسے اگر کسی ملک کو دیگر کسی ملک سے ایندھن وغیرہ خریدناہو تو وہ اس کا ڈالر میں کیا جاتا ہے، نہ کہ اس ملک کی کرنسی   میں۔  اسلئے بیشتر ممالک کو  اپنے خزانے میں ڈالرکا ذخیرہ بھی رکھنا ہوتا ہے۔   اگر روس کے کہنے پر دنیا کے اہم ممالک نے ڈالر کے بجائے روبل کا ذخیرہ کرنا شروع کر یا تو کسی نہ کسی سطح پر ڈالر کی اہمیت کم ہوگی اور وہ خود بخود کمزور ہو جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK