چین میں سخت لاک ڈاؤن اور پابندیوں سے معیشت متاثر مگر کورونا پرخاص اثر نہیں

Updated: July 18, 2022, 12:45 PM IST | Agency | Beijing

ملک میں مئی کے بعدکورونا کےسب سے زیادہ مریض ملے ، وباکے بڑھتے اثر ات کے پیش نظر اس ہفتے ملک کے کچھ حصوں میں نئی پابندیاں بھی عائد کی گئیں

Corona restrictions are still in force in many Chinese cities..Picture:INN
چین کےکئی شہروں میں اب بھی کورونا پابندیاں نافذ ہیں۔ ۔ تصویر: آئی این این

 چین میں سخت لاک ڈاؤن  نافذ  ہے۔ اس کے باوجود کورونا تھم نہیں رہا ہے۔ سنیچر کو چین میں مئی کے بعد سے سب سے زیادہ کورونامریض ملے جبکہ حکام کی جانب سے مہلک وائرس کے خلاف انتہائی سخت پالیسی کے تحت لاکھوں  افرادلاک ڈاؤن میں رہنے پر مجبور ہیں۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق چین دنیا کی آخری بڑی معیشت ہے جو اب تک سخت لاک ڈاؤن، طویل قرنطینہ اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا استعمال کررہی ہے جبکہ اس حکمت عملی سے معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ چین میں سنیچر کو ۴۵۰؍ افراد کورونا میں مبتلا پائے گئے۔ جو ایک روز قبل سامنے آنے والے۴۳۲؍ کیسز سے زیادہ ہیں۔  زیادہ تر مثبت کیسز ایسے تھے جن میں وائرس کی کوئی علامت سامنے نہیں آئی تھی، کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی لہر کی وجہ سے اس ہفتے ملک کے کچھ حصوں میں نئی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔شمال مغربی گانسو صوبے کے دارالحکومت لانژو میں۴۴؍لاکھ افراد کو گھروں پر رہنے کا حکم دیا گیا جبکہ صوبہ انہوئی کی ایک کاؤنٹی میں جمعہ سے لاک ڈاؤن  ہے۔ادھر جنوبی گوانگسی کے علاقے بیہائی نے سنیچر کو  بھی دو اضلاع کے کچھ حصوں میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا  گیاجہاں۸؍  لاکھ سے زیادہ افراد آباد ہیں۔کورونا کی روک تھام کیلئے پابندیوں کے اعلان سے متعلق حکومتی  بیان میں کہا گیا ہے کہ فی الوقت بیہائی شہر میں وبا کی روک تھام اور کنٹرول کی صورتحال مشکل اور پیچیدہ ہے جبکہ کمیونٹی میں وائرس کی غیر علاماتی منتقلی کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہے۔  رواں ہفتے کے شروع میں وسطی ہینان صوبے میں ووگانگ میں صرف ایک کورونا مریض ملنے ۳؍ روز کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔وائرس کی تیزی سے پھیلنے والی ذیلی قسم اومیکرون چینی حکام کیلئےایک بڑا چیلنج رہا ہے جبکہ حکام کووِڈ۱۹؍ کی پابندیوں سے ہونے والے معاشی نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش رہے ہیں۔  واضح رہےکہ چین میں ابتدائی طور پر کورونا پھیلنے کے بعد سے دوسری سہ ماہی کی سب سے سست شرح نمو رہی جبکہ جی ڈی پی میں سالانہ بنیاد پر صرف۰ء۴؍ فیصد اضافہ ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK