اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر گر چکی ہے، جس کے نتیجے میں آئی پی او کے بعد ہونے والے تمام منافع ختم ہو گئے ہیں ۔
EPAPER
Updated: June 23, 2026, 5:32 PM IST | New York
اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر گر چکی ہے، جس کے نتیجے میں آئی پی او کے بعد ہونے والے تمام منافع ختم ہو گئے ہیں ۔
اسپیس ایکس کی شاندار اسٹاک مارکیٹ شروعات اب اپنی رفتار گنواتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پیر کو کمپنی کے حصص مسلسل تیسرے دن بھی گرے، جس کے باعث ایلون مسک کی دولت اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے۳۰۰؍ ارب ڈالرس سے زیادہ کم ہو گئی اور لسٹنگ کے بعد حاصل ہونے والے تمام منافع ختم ہو گئے۔ فوربز کے اندازوں کے مطابق اس فروخت کے دباؤ نے ۱۶؍ جون کی بلند ترین سطح کے بعد اسپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی کمی کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان:کروز سیاحت میں نوجوانوں کی دلچسپی، کورڈیلیا مسافروں کی اوسط عمر ۳۴؍ سال
اسپیس ایکس کے حصص ابتدائی اختتامی قیمت سے نیچے آ گئے
پیرکو اسپیس ایکس کے حصص۴ء۱۶؍ فیصد گر کر۱۵۵؍ ڈالر سے نیچے آ گئے، جو کمپنی کی ابتدائی اختتامی قیمت ۱۶۰؍ ڈالر سے بھی کم ہے۔۱۶؍ جون کو حصص ۶۴ء۲۲۵؍ ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچے تھے، لیکن اب وہ ۳۱؍ فیصد سے زیادہ گر چکے ہیں۔ اس شدید گراوٹ نے ایلون مسک کی دولت پر بھی بڑا اثر ڈالا ہے۔ فوربز کے مطابق ان کی مجموعی دولت ریکارڈ ۴۵ء۱؍ ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر۱ء۱؍ ٹریلین ڈالر سے بھی نیچے آ گئی ہے۔ صرف پیر کے دن ہی ان کی دولت میں ۱۵۲؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوئی۔
مسک اب بھی اسپیس ایکس کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں۔ ان کے پاس تقریباً ۳۸؍ فیصد حصص ہیں، جن میں ۸ء۴؍ ارب شیئرز اور۳۵۰؍ ملین اسٹاک آپشنز شامل ہیں، جن کی خریداری قیمت۴۰ء۸؍ ڈالر فی شیئر ہے۔
اسپیس ایکس کی ویلیو سے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر ختم
فوربز کے اعداد و شمار کے مطابق فروخت کے اس دباؤ نے اسپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔۱۶؍ جون کو کمپنی کی مالیت تقریباً ۹۹ء۲؍ ٹریلین ڈالر تھی، جو پیر تک کم ہو کر تقریباً ۲؍ ٹریلین ڈالر رہ گئی۔ اس طرح صرف چند دنوں میں تقریباً ۹۲۸؍ ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو ختم ہو گئی۔ اس گراوٹ نے دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں اسپیس ایکس کی پوزیشن بھی متاثر کی ہے۔ کمپنی نے کچھ عرصے کے لیے امیزون اور مائیکروسافٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی بڑی کمپنی کا مقام حاصل کر لیا تھا، لیکن اب وہ ساتویں نمبر پر آ گئی ہے اور اس سے آگےٹی ایس ایم سی موجود ہے، جس کی مالیت تقریباً ۴۲ء۲؍ ٹریلین ڈالر ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ:گولڈن بوٹ کیلئے جنگ،۷۰؍ سال بعد نیا ریکارڈ قائم
اربوں ڈالر کے اے آئی معاہدہ پرتوجہ مرکوز
اگرچہ حالیہ دنوں میں اسپیس ایکس کے حصص دباؤ میں رہے ہیں، لیکن کمپنی نے مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے متعلق ایک بڑا معاہدہ حاصل کیا ہے۔ اسپیس ایکس نے اے آئی اسٹارٹ اپ ری فلیکشن اے آئی کے ساتھ ایک کمپیوٹنگ معاہدہ کیا ہے، جس کی مالیت ۳ء۶؍ ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔