حکومت قرضوں کی تنظیم نو کیلئے ریزرو بینک کے ساتھ رابطے میں ہے: نرملا سیتارمن

Updated: August 01, 2020, 3:08 AM IST | New Delhi

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کو کہا کہ حکومت کورونا وائرس کی وجہ سے قرضوں کی تنظیم نو کے لئے صنعت کی ضروریات کے مدنظر ریزرو بینک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

Nirmala Sitahaaman. Photo: INN
نرملا سیتا رمن۔ تصویر: آئی این این

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کو کہا کہ حکومت کورونا وائرس کی وجہ سے قرضوں کی تنظیم نو کے لئے صنعت کی ضروریات کے مدنظر ریزرو بینک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ قومی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی توجہ تنظیم نو پر مرکوز ہے۔ وزارت خزانہ اس پر مرکزی بینک کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر تنظیم نو کی ضرورت ہو تو، اسے بہتر طریقے سے کرنا چاہئے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنارہی ہے کہ کوئی بھی قدم ناکام نہ ہو کیونکہ اس کے لئے ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ جو اقدامات کئے گئے ہیں ، انہیں یہ بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ ان کے اثرات زمینی سطح پر دیکھے۔حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ایمرجینسی کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے تحت قرض کے بارے میں ایم ایس ایم ای کی مشکلات ایف آئی سی سی آئی کے ممبروں کی طرف اٹھائے جانے پر ، سیتارامن نے کہا کہ بینک اس اسکیم کے تحت قرض دینے سے انکار نہیں کرسکتے ہیں ۔ اگر انکار کرتے ہیں تو، اس سے آگاہ کیا جانا چاہئے۔ وزارت خزانہ اس معاملے پر غور کرے گی۔
  انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنانس انسٹی ٹیوشن میں کام جاری ہے۔ جلد ہی اس کا سائز کیا ہوگا جلد بتادیا جائے گا؟تجارتی معاہدوں میں لین دین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایسے معاہدات ان ممالک کے ساتھ کئے جاتے ہیں جن کے ساتھ بازار کھولے گئے ہیں ۔ تجارتی معاہدے میں یہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ صحت کی دیکھ بھال اور دیگر مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح کو کم کرنے کا فیصلہ جی ایس ٹی کونسل نے کیا ہے۔ وزارت خزانہ صحت کے شعبے کے مطالبے پر ریزرو بینک کے ساتھ رابطے میں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK