امریکی صدر نے یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران کی فوجی طاقت تقریباً ختم ہوچکی ہے مگر چین ، جاپان ،فرانس، برطانیہ، جنوبی کوریا سے تہران کیخلاف جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل بھی کی۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 11:03 AM IST | Washington
امریکی صدر نے یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران کی فوجی طاقت تقریباً ختم ہوچکی ہے مگر چین ، جاپان ،فرانس، برطانیہ، جنوبی کوریا سے تہران کیخلاف جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل بھی کی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جہاں یہ دعویٰ دہرایاہے کہ امریکہ اوراسرائیل کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد ایران کی فوجی طاقت تقریباً ختم ہوچکی وہیں وہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف دنیا بھر سے مدد بھی مانگ رہے ہیں۔ سنیچر کو انہوں نے چین، جاپان، برطانیہ، فرانس، جنوبی کوریا اور اُن دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز کومحفوظ بنانے کیلئے مدد کی اپیل کی جن کے ہاں ایندھن کی سپلائی ایران کے ذریعہ ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے متاثرہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کے نئے ویڈیو سے سوشل میڈیا پر ابہام
ہرمز کے نام پر اتحادیوں کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش
برطانیہ،فرانس اور جرمنی جیسے کئی ممالک ایران پر تھوپی گئی امریکہ کی جنگ میں شریک ہونے سے انکار کرچکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے نام پر انہیں ایک بار پھر ساتھ آنے کی ٹرمپ کی دعوت دراصل انہیں کسی اور بہانے سے اپنے ساتھ ایران کے خلاف جنگ میں شریک کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جارہی ہے۔ سنیچر کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنےوالے جہازوں کو سیکوریٹی فراہم کرنے والا ہے۔ انہوں نےد یگر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کیلئے اپنے جہاز بھیجیں۔ واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی تیل کی سپلائی کے اس اہم راستے میں شدید خلل پیدا ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل ‘‘پر امید ظاہر کی ہے کہ’’بہت سے ممالک، خاص طور پر وہ جو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی کوشش سے متاثر ہو رہے ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر اس آبنائے کو کھلا اور محفوظ رکھنے کیلئے جنگی جہاز بھیجیں گے۔‘‘ امریکی صدر نے مزید کہاکہ ’’امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک، جو اس مصنوعی رکاوٹ سے متاثر ہو رہے ہیں، اس علاقے میں اپنے جہاز بھیجیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’امریکی فوجی اڈے بند کرو یا حملوں کیلئے تیار رہو‘‘
ایران کی طاقت کا اعتراف
ایران کے انتباہ کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت تقریباً رک چکی ہے۔عام حالات میں دنیا کو سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس آبنائے کی چوڑائی اپنے تنگ ترین مقام پر صرف۵۴؍ کلومیٹر ہے۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ یااس کے کسی بھی اتحادی ملک کا جہاز اس آبنائے سے نہیں گزرنے دےگا۔ تہران نے صرف چین اوربنگلہ دیش کو اس آبنائے سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ اس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میںغیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہوگیاہے۔ جمعہ کو ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ امریکی بحریہ کب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرنا شروع کرے گی توان کا جواب تھا کہ ’’یہ جلد ہوگا، بہت جلد۔‘‘تاہم سنیچر کو انہوں نے دنیا بھر سے اس کیلئے مدد مانگنی شروع کردی۔ سنیچر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے تاہم یہ بھی تسلیم بھی کیا کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمزکو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے لکھاکہ’’ہم ایران کی فوجی صلاحیت کا ۱۰۰؍ فیصد تباہ کر چکے ہیں لیکن ان کیلئے یہ آسان ہے کہ وہ ایک یا دو ڈرون بھیج دیں، بارودی سرنگیں بچھا دیں یا اس آبی راستے کے آس پاس کہیں قریب فاصلے تک مار کرنے والا میزائل داغ دیں، چاہے وہ کتنے ہی بری طرح شکست کھا چکے ہوں۔‘‘دیگر ممالک سے جہاز بھیجنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ ساحلی علاقوں پر شدید بمباری کرے گا اور ایرانی کشتیوں اور جہازوں کو مسلسل نشانہ بنا کر سمندر میں ڈبو دے گا۔ کسی نہ کسی طرح ہم جلد آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور آزاد بنا دیں گے۔‘‘