رکی پونٹنگ نے ٹی۔ ۲۰؍ورلڈ کپ میں کامیابی کی سب سے بڑی وجہ سنجو کی شمولیت کو قرار دیا۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 10:33 AM IST | New Delhi
رکی پونٹنگ نے ٹی۔ ۲۰؍ورلڈ کپ میں کامیابی کی سب سے بڑی وجہ سنجو کی شمولیت کو قرار دیا۔
آسٹریلیا کے عظیم کرکٹر رکی پونٹنگ نے کہا ہے کہ ٹی۔ ۲۰؍ ورلڈ کپ میں ہندوستان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ وکٹ کیپر بلے باز سنجو سیمسن کو بیٹنگ آرڈر میں اوپر برقرار رکھنے کا جرأت مندانہ فیصلہ تھا۔ پونٹنگ کے مطابق کپتان سوریہ کمار یادو اور کوچنگ اسٹاف نے سیمسن پر جو بھروسہ ظاہر کیا، وہی بڑے میچوں میں جیت کی بنیاد بنا۔
سنجو سیمسن کے لئے ٹورنامنٹ کا آغاز اچھا نہیں تھا۔ گروپ اسٹیج میں انہیں نمیبیا کے خلاف موقع تب ملا جب ابھیشیک شرما پیٹ کے انفیکشن کی وجہ سے دستیاب نہیں تھے۔ تاہم زمبابوے کے خلاف سپر۔ ۸؍ مرحلے میں واپسی کے بعد سیمسن نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف (کولکاتا)۹۷؍ رنوں کی ناقابلِ شکست جارحانہ اننگز، انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل (ممبئی) میں ۸۹؍ رنوں کی شاندار بلے بازی اور فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف (احمد آباد) ۴۶؍ گیندوں پر ۸۹؍رنوں کی یادگار اننگز کی بدولت ٹیم انڈیا نے خطاب پر قبضہ جمایا۔ سیمسن نے پورے ٹورنامنٹ کی ۵؍ اننگز میں مجموعی طور پر ۳۲۱؍ رن بنائے، جو کسی بھی ہندوستانی بلے باز کی جانب سے ایک ورلڈ کپ ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنوں کا ریکارڈ ہے۔ اسی غیر معمولی کارکردگی پر انہیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: روہت، وراٹ کی مقبولیت کا اثر، ون ڈے میچوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے
دی آئی سی سی ریویو شو میں گفتگو کرتے ہوئے رکی پونٹنگ نے کہا ’سیمسن کو ٹاپ آرڈر میں کھلانا ایک بڑا اور دلیرانہ فیصلہ تھا جو درست ثابت ہوا۔ جب کپتان اور کوچ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہیں تو اس کا مثبت اثر پڑتا ہے۔ ایک چھوٹا سا حوصلہ افزا لفظ بھی کھلاڑی کا اعتماد بلندیوں پر پہنچا سکتا ہے۔ ‘‘
رکی پونٹنگ نے کپتان سوریہ کمار یادو کی قیادت کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے دوران سوریہ کا اپنا فارم اوپر نیچے ہوتارہا لیکن انہوں نے ٹیم کو بہترین طریقے سے لیڈ کیا۔ پونٹنگ نے مزید کہا کہ جب آپ خود اچھے فارم میں نہ ہوں تو ٹیم کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے، لیکن سوریہ اس امتحان میں کامیاب رہے۔ اس کے علاوہ رکی پونٹنگ نے نوجوان بلے باز ابھیشیک شرما کا بھی ذکر کیا جنہوں نے فائنل میں محض ۲۱؍ گیندوں پر ۵۲؍ رن بنا کر ہندوستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔