کورونا سے نمٹنے میں حکومت اپنی غلطیاں دُہرا رہی ہے

Updated: April 08, 2021, 2:09 PM IST | Agency | New Delhi

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت منصوبہ بند طریقے سے کام نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے کوروناانفیکشن کوکنٹرول کرنا مشکل ہوگیا ہے اور وبا کی یہ لہر ہماری لاپروائی کی وجہ سے کب سونامی بن جائے گی اس کا کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا

Narendra Modi.Picture:INN
نریندر مودی۔تصویر :آئی این این

: کانگریس نے کہا ہے کہ کورونا سے لڑنے کے سلسلے میں حکومت منصوبہ بند طریقے سے کام نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے اسے کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا ہے اور وبا کی یہ لہر ہماری لاپروائی کی وجہ سے کب سونامی بن جائے گی  اس کا کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ پچھلے سال جب کورونا پھیل رہا تھا تو حکومت تب بھی اسے روکنے میں ناکام ہی رہی اور یہ کہتے ہوئے بچنے کی کوشش کرتی رہی کہ پہلی بار بیماری آئی ہے اس لئے حالات سے نمٹنے میں دقت آرہی ہے لیکن اس بار جب ملک کورونا کی دوسری لہر کی زد میں ہے پھر وہی غلطیاں دہرائی جارہی ہیں۔
  کانگریس ترجمان نے کہا کہ ہمارے سائنس دانوں نے ہی کورونا کی ٹیکے کو ایجاد کیا ہے لیکن ٹیکہ کاری میں ہم دیگر ملکوں سے بہت پیچھے چل رہے ہیں۔حکومت نے کورونا سے نمٹنے کی تیاری ٹھیک طرح سے نہیں کی اور ٹیکہ کاری میں لاپروائی ہورہی ہے جس کی وجہ سے ٹیکے کی بربادی ہورہی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ویکسین کا ۶؍ فیصد برباد ہورہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے یہ تجزیہ نہیں کیا کہ ٹیکوں کی کتنی ضرورت ہوگی۔
 ترجمان نے کہا کہ ہمارے یہاں ٹیکہ کاری کی تعداد دنیا کے دیگر کئی ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ٹیکہ کتنا چاہئے اور ہمیں کہاں کتنی ویکسین کی ضروری ہے اس کا حساب کتاب حکومت کے پاس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ٹیکہ کاری میں پچھڑے ہیں جبکہ برطانیہ میں تقریباً۵۵؍فیصد،امریکہ میں تقریباً۵۰؍ فیصد،جرمنی میں۱۷؍فیصد سے زیادہ اور برازیل میں۱۰؍ فیصد سے زیادہ آبادی کی ٹیکہ کاری کی جا چکی ہے لیکن ہندوستان میں ابھی۵ء۲؍ فیصد آبادی کی ہی ٹیکہ کاری کی جا سکی ہے۔
 پون کھیڑا نے کہا کہ کانگریس اس لڑائی میں حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے ۔ حکومت کو اس میں جو بھی ضرورت ہے اس میں پارٹی   اسے تعاون دینا چاہتی ہے لیکن حکومت کو اس کےلئے آگے آکر کورونا سے لڑنے کی خاطر جارحانہ حکمت عملی بنانی ہوگی۔ انتخابی ریلیاں ہورہی ہیں لیکن وہاں کورونا کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔
’’حکومت کے پاس عوام کے سوالوں کا جواب نہیں‘‘
 انہوں نے کہا کہ خود حکومت کہتی ہے کہ ٹیکے کے سلسلے میں عوام میں خوف کا ماحول ہے۔ ٹیکہ کاری کے سلسلے میں حکومت عوام کے سوالوں کا جواب نہیں دے پارہی ہے ،اس لئے لوگوں میں ڈر ہے۔ حکومت یہ بھی نہیں بتا پارہی ہے کہ ٹیکے کا اثرکتنے وقت تک رہےگا۔ کئی لوگوں کو ٹیکہ لگانے کے بعد بھی کورونا انفیکشن ہورہا ہے، حکومت کے پاس ان سب سوالوں کا جواب نہیں ہے۔ترجمان نے کہا کہ انتخابی ریلیوں میں کورونا اصولوں پر عمل کیا جانا چاہئے اور ملک کے ہر شہری کو کورونا سے نمٹنے کےلئے طے شدہ اصولوں پر عمل کرنا چاہئے۔ کانگریس پارٹی اس وبا سے نمٹنے کےلئے حکومت کے ہر قدم کے ساتھ کھڑی ہے لیکن اسے اصول کے مطابق منصوبہ بند طریقے سے اس بیماری کو ہرانے کےلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
صحت سیکریٹری پرتنقید
 پارٹی ترجمان نے الزام لگایا کہ کورونا کی لڑائی میں جب اشارے اچھے ہوتے ہیں تو حکومت کے  لیڈران آگے آتے ہیں اور جب وبا تیز ہوتی ہے اور حالات قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں تو سرکار افسروں کو آگے کردیتی ہے۔انہوں نے صحت سیکریٹری کے گزشتہ روز دیئے گئے ایک بیان کو غیر حساس بتایا اور کہا کہ افسروں کو ذمہ داری کے ساتھ اور سبھی لوگوں کی دقتوں کو توجہ میں رکھتے ہوئے اپنی بات کرنی چاہئے۔
وزیر اعظم کی عوام سے کورونا ضوابط پر عمل کی اپیل
  وزیر اعظم مودی نے بدھ کے روز کورونا وبا سے لڑنے کیلئے عوام سے کووِڈکی حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کی اپیل کی ہے۔ مودی نے کہا کہ ماسک پہننے، با ضابطہ طور پر ہاتھ دھونے اور دیگر احتیاط سمیت تمام ممکنہ حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔عالمی یوم صحت کے موقع پر  وزیر اعظم مودی نے ٹویٹ کیا کہ صحت کے عالمی دن کے موقع پر آیئے ہم سب چہرے پر ماسک لگا کر، مستقل ہاتھ دھو کر اور دیگر ضابطوں پر عمل کرنے سمیت تمام ممکنہ احتیاط کرکے کووڈ۱۹؍ کے خلاف جنگ پر توجہ دیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ فٹ رہنے اور ٹیکہ لگوانے کے عمل کو مضبوط کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔انہوں نےکہا کہ ہندوستان کووڈ۱۹؍ کے خلاف اپنی جنگ کو مستحکم کرنے کیلئے  دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم بھی چلا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK