تاریخی اہمیت کی حامل آیا صوفیا دوبارہ مسجد میں تبدیل، ۲۴؍ جولائی سے نماز کی ادائیگی

Updated: July 12, 2020, 8:03 AM IST | Agency | Ankara

سال ۱۹۳۴ء کے بعد پہلی مرتبہ یہاں سے اذان کی آواز بلند ہوگی

Hagia Sofia Mosque - Pic : MidDay
آیا صوفیا مسجد ۔ تصویر : مڈ ڈے

ترک صدر رجب طیب اردگان نے تاریخی اہمیت  کے حامل اور یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل میوزیم آیا صوفیا کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں   ۲۴؍جولائی سے یہاں نماز کی باقاعدہ ادائیگی کا بھی اعلان کردیا ہے۔ ترکی کی اعلیٰ عدالت کونسل آف اسٹیٹ کی جانب سے آیا صوفیا کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ آتے ہی ترک صدر نے میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کے لئے صدارتی فرمان پر دستخط کردیئے۔صدارتی حکم پر دستخط کے بعد صدر طیب اردگان نے اعلان کیا کہ ۲۴؍ جولائی کو میوزیم میں نماز کی ادائیگی شروع ہو جائے گی، میوزیم کا کنٹرول محکمہ مذہبی امور نے سنبھال لیا ہے۔ واضح رہے کہ ۱۹۳۴ء کے بعد پہلی مرتبہ   میوزیم میں  دوبارہ اذان کی صدائیں گونجیں گی اور نماز ادا کی جائے گی۔
 قبل ازیں ترکی کی اعلیٰ عدلیہ نے مسجد کی بحالی کے فیصلے میں آیا صوفیہ کو سلطان فاتح محمد ٹرسٹ کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ۲۴؍ نومبر۱۹۳۴ء کا حکومتی فیصلہ ملکی قانون سے میل نہیں کھاتا۔ اس فیصلے سے عمارت کی مسجد کی حیثیت ختم کرکے اسے میوزیم بنا دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ کے دور میں بنائی گئی تھی اور ایک ہزار سال تک یہ عمارت دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کے طور پر استعمال ہوتی رہی تھی تاہم۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطنت عثمانیہ نے اسے مسجد میں تبدیل کردیا تھا اور لگ بھگ  ۵۰۰؍ سال تک مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی تاہم ۱۹۳۴ءمیں مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور میں اسے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

  آیا صوفیا کو مسجد میں بدلنے کے فیصلے کے بعد جمعہ کو وہاں اذان بھی  دی گئی جسے ترک چینلوں نے براہ راست نشر کیا۔ آیا صوفیا کو ۱۵۰۰؍ سال پہلے بازنطینی عہد میں گرجاگھر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ ۹۰۰؍سال بعد سلطنت عثمانیہ کی فوج نے استنبول پر قبضہ کیا اور اسے مسجد میں بدل دیا گیا۔ ۸۰؍سال قبل خلافت عثمانیہ ختم ہوئی تو اسے عجائب گھر بنادیا گیا تھا۔
  آیا صوفیا کا بڑا گنبد استنبول کے منظر کا لازمی حصہ ہے جہاں ہر سال ۳۰؍لاکھ سیاح آتے ہیں۔ اگرچہ اسے مسجد میں بدلنے سے سیاحوں کو آنے سے نہیں روکا جائے گا لیکن  اردگان اور ترکی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ  اس کی نوعیت میں تبدیلی سے اس کی کشش میں کمی آئے گی۔ امریکہ اور یونان نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
  امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے  ترک حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ آیا صوفیا کو عجائب گھر کے طور پر برقرار رکھے تاکہ وہ ترکی میں مذہبی روایات کے احترام اور متنوع تاریخ کی مثال کے طور پر قائم رہے اور سب کے لیے اس تک رسائی یقینی ہو۔یونانی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ آیا صوفیا کو مسجد میں بدلنے سے ترکی اور دنیا بھر کے مسیحیوں میں ایک عظیم جذباتی خلیج پیدا ہوگی جبکہ ترکی نے ان دونوں پر واضح کردیا تھا کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے اور پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ اسے دوبارہ مسجد میں تبدیل کردیا جائے۔ 
  ادھرعالمی ثقافتی ورثے کی دیکھ بھال سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے بھی شر انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس  فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ترک حکام سے کہا ہے کہ وہ بلاتاخیر اس بارے میں گفت و شنید کرے لیکن اردگان نے اس کا مطالبہ بھی ٹھکرادیا ہے۔ جہاں تک بات ہے ترک عوام کی تو گزشتہ ۸۵؍ سال سے اپنے ہی ملک میں  اپنے مذہب  پر عمل کرنے  سے قاصر ترکی باشندے   وقت کی اس  اہم تبدیلی کو  قدرت کا ایک عطیہ سمجھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ رجب طیب اردگان کا  ایک انتخابی وعدہ تھا  جو انہوں نے پورا کرکے دکھا دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK