Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولینڈ: غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت، یوکرین پر سخت مؤقف برقرار

Updated: April 16, 2026, 9:53 PM IST | Warsaw

پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسواف سیکورسکی نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ’’فاسٹ ٹریک‘‘ امکان کو بھی مسترد کیا اور روس، ہنگری اور یورپی سیاست پر اہم بیانات دیے۔

Polish Foreign Minister Radoslaw Sikorski. Photo: X
پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوف سیکورسکی۔ تصویر: ایکس

پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوف سیکورسکی نے ایک اہم بیان میں غزہ کی صورتحال پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ نشریاتی ادارے آر ایم ایف ایف ایم کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ’’اسرائیل غزہ میں بدسلوکی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ہم نہ صرف اس کی مذمت کرتے ہیں بلکہ ہم آبادکاری کی سرگرمیوں پر بھی تنقید کرتے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے فنڈز فراہم کرتے ہیں، اور اقوام متحدہ میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مذاکرات کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر حملے

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش دیکھی جا رہی ہے اور کئی ممالک اسرائیلی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سیکورسکی نے یورپی سیاست کے ایک اور اہم پہلو پر بات کرتے ہوئے یوکرین کی ممکنہ یورپی یونین رکنیت کے حوالے سے ’’فاسٹ ٹریک‘‘ طریقہ کار کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسا نہیں ہوگا۔ ہمارا ماننا ہے کہ یوکرین کو تمام شرائط پوری کرنا ہوں گی، جیسے ہمیں کرنا پڑا تھا۔ خاص طور پر زراعت اور ٹرانسپورٹ جیسے پیچیدہ شعبے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین میں شمولیت ایک سخت اور مرحلہ وار عمل ہے جس میں کسی بھی ملک کو رعایت نہیں دی جا سکتی، چاہے وہ یوکرین جیسا اہم اتحادی ہی کیوں نہ ہو۔
روس یوکرین جنگ کے تناظر میں، سیکورسکی نے روسی معیشت کے حوالے سے بھی اہم تبصرہ کیا۔ ان کے مطابق ’’یہ کسی بھی معقول شخص کو لگتا ہے کہ پوتن کو اس منصوبے سے دستبردار ہونا چاہیے، لیکن آمر اس طرح کام نہیں کرتے۔‘‘ یہ بیان براہ راست ولادیمیر پوتن کی قیادت پر تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ روسی قیادت حقیقت پسندانہ فیصلے لینے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین اپنی فوجی صلاحیتوں میں بہتری لا رہا ہے اور ’’زیادہ درستگی اور طویل فاصلے‘‘ تک حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جو جنگ کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍فیصدامریکی اسرائیل اور نیتن یاہو کوناپسند کرتے ہیں

ہنگری کے حوالے سے بھی سیکورسکی نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ ملک ’’آمرانہ نظریات کی افزائش گاہ‘‘ بننا چھوڑ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مقصد یہ ہے کہ ہنگری ترقی کی راہ پر واپس آئے، بدعنوانی چھوڑے، اور یورپی یونین کا ایک ذمہ دار رکن بنے، نہ کہ ایسا ملک جو فیصلوں کو روکے۔‘‘ یہ بیان یورپی یونین کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں کچھ ممالک پالیسی معاملات پر اختلافات کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK