Updated: April 16, 2026, 9:07 PM IST
| West Bank
مغربی کنارے کے گاؤں ام الخیر میں اسرائیلی روڈ بلاک کے باعث درجنوں فلسطینی طلبہ اسکول نہ پہنچ سکے تو انہوں نے سڑکوں پر ہی کلاس شروع کر دی۔ مقامی افراد کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے راستہ بند کیا جبکہ طلبہ کے احتجاج کو آنسو گیس سے منتشر کیا گیا، جسے تعلیم کے حق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے میں واقع گاؤں ام الخیر میں ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب درجنوں فلسطینی طلبہ نے اسکول جانے سے روکے جانے کے بعد گلیوں میں ہی کلاسیں منعقد کر لیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے پیر کو گاؤں تک رسائی کو بند کر دیا اور اس مرکزی سڑک کو بلاک کر دیا جو طلبہ کے اسکول جانے کا واحد راستہ تھی۔ اس اقدام کے نتیجے میں کم از کم ۵۵؍ طلبہ اسکول جانے سے محروم ہو گئے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مغربی کنارے میں تشدد اور کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سرکاری فلسطینی دیوار اور آبادکاری مزاحمتی کمیشن کے مطابق، صرف ۲۸؍ فروری سے ۲۸؍ مارچ کے درمیان فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف ۴۴۳؍ حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان حملوں میں ۱۰؍ افراد ہلاک ہوئے جبکہ زمینوں، فصلوں اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی کا مطالبہ: اسرائیل کو اقوام متحدہ سے معطل کیا جائے، نعمان قرطلمش کا سخت بیان
مقامی استاد اور کارکن طارق الحثلین نے صورت حال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے پولیس کو بلایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہم نے احتجاج کیا مگر کچھ نہیں بدلا۔ یہ سڑک بند کرنا ہمارے بنیادی حق، یعنی تعلیم کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جو کچھ ہو رہا ہے وہ روزمرہ کے حملوں کا صرف ایک حصہ ہے، یہ ہمیں ہماری زمین چھوڑنے پر مجبور کرنے کی ایک حکمت عملی ہے۔‘‘ روڈ بلاک کے خلاف طلبہ اور والدین نے احتجاج کیا، تاہم عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس سے بچوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اس کے باوجود طلبہ نے ہمت نہ ہاری اور سڑک پر ہی بیٹھ کر تعلیم جاری رکھی۔ چھٹی جماعت کی طالبہ سارہ نے بتایا کہ ’’ہم اسکول جانے کے لیے تیار تھے، لیکن سڑک بند تھی۔ ہم نے دھرنا دیا، مگر انہوں نے ہم پر آنسو گیس پھینکی، اس لیے ہم نے وہیں بیٹھ کر پڑھائی شروع کر دی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’باقی دنیا کے بچوں کی طرح، ہم بھی سیکھنا اور امن سے رہنا چاہتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍فیصدامریکی اسرائیل اور نیتن یاہو کوناپسند کرتے ہیں
یہ واقعہ اس وسیع تر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس میں فلسطینی طلبہ کو مسلسل تعلیمی رکاوٹوں کا سامنا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں سیکوریٹی اقدامات اور تصادم روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے مغربی کنارے میں ۱۱۴۸؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق، تقریباً ۱۱۷۵۰؍ زخمی اور ۲۲؍ ہزار کے قریب افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف بچوں کی تعلیم بلکہ ان کی ذہنی صحت اور مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔