آسام کے مسلمانوں پر اب ’سیلابی جہاد‘ کا الزام

Updated: August 06, 2022, 11:35 AM IST | Agency | Guwahati

سیلاب کے وقت ندیوں میں پشتے باندھنے والے سرکاری کارندے نذیر حسین کو پولیس نے اس الزام میں گرفتار کیا کہ وہ پشتے توڑ کر سیلاب کا پانی گائوں کی طرف موڑنا چاہتے تھے۔ ان کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا اور ٹی وی پر ہر طرف ان کے نام سے ’فلڈ جہاد‘ کی خبریں اور پیغام وائرل ہونے لگے

Even during such dire conditions of Assam, people did not stop from communalism.Picture:INN
آسام کے ایسے سنگین حالات کے دوران بھی لوگ فرقہ پرستی سے باز نہیں آئے ۔ تصویر:آئی این این

’لوجہاد‘ اور ’کورونا جہاد‘ جیسے لغو الزامات کے بعد اب سوشل میڈیا پر ’ فلڈ جہاد‘ یا ’سیلاب جہاد‘ جیسا بچکانہ الزام گردش کر رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس کیلئے ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو بے چارے سرکاری محکمے کی طرف سے سیلاب روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔  حال ہی میں بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں مظلوم نذیرحسین کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ 
  رپورٹ کے مطابق حال ہی میں آسام میں سیلاب آیا تو سوشل میڈیا پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس کے ذمہ دار مسلمان ہیں جو ’فلڈ جہاد‘ کر رہے ہیں۔  اتنا ہی نہیں ۳؍ جولائی کو علی الصباح پولیس نے نذیر حسین لاسکر کو اس بچکانے الزام میں گرفتار بھی کر لیا۔  وہ ریاست میں کئی برسوں سیلاب کو روکنے کیلئے حفاظتی پُشتے بنانے کا کام کرتے تھے۔مگر جس پولیس والے نے انھیں گرفتار کیا اس نے نذیر حسین پر ’سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے‘ کا الزام لگایا، خاص کر ایک سیلابی پانی کو آبادی میں گھسنے سے روکنے والے پشتے کو توڑنے کا الزام۔ نذیر حسین کہتے رہے کہ ’’  میں ۱۶؍ سال سے گورنمنٹ  کیلئے پشتے بنانے کا کام کر رہا ہوں،میں انھیں نقصان کیوں پہنچاؤں گا؟‘‘ مگر انہیں اس واہیات الزام میں ۲۰؍ دن جیل میں گزارنے پڑے جب تک کہ ان کی ضمانت نہیں ہوگئی۔عدالت میں  ان کے خلاف اس الزام کا کوئی ثبوت نہیں ملا، مگر اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک طوفان آگیا ۔
’مجھے خود پر حملے کا ڈر تھا‘
  یاد رہے کہ مئی اور جون میں آسام میں دو سیلابی ریلے آئے جن میں مجموعی طور پر ۱۹۲؍ افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ ریاست میں ہر سال سیلاب آتا ہے، مگر اس بار یہ وقت سے پہلے آگیا اور بارش بھی زیادہ زوردار تھی ۔مگر سوشل میڈیا کے صارفین کے خیال میں اس آفت کے پیچھے کسی کا ہاتھ تھا۔  انھوں نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے جان بوجھ کر ہندو اکثریت والے شہر سلچر کے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچایا ہے۔  نذیر حسین سمیت ۳؍ مسلمانوں کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹ کا انبار لگ گیا جس میں ان پر’  سیلابی جہاد‘ شروع کرنے کا الزام  لگا یا گیا  ۔یہ پوسٹ ہزاروں مرتبہ شیئر کی گئیں اور کئی  ویریفائڈ  اکائونٹ سے بھی  انہیں شیئر کیا گیا۔ نذیر حسین کو حالات کی سنگینی کا اندازہ جیل کے اندر ا  ہوا جب ایک نیوز چینل نے ان کا نام نشر کرتے ہوئے ان پر ’فلڈ جہاد‘   کا الزام لگایا۔’ انہوں نے کہا’’میں بہت خوفزدہ تھا اور اس رات سو نہیں سکا۔ دوسرے قیدی میرے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہیں وہ مجھ پر حملہ نہ کر دیں۔‘‘
  یاد رہے کہ آسام کے گرد ۲۵۰۰؍ میل لمبے حفاظتی پشتے یا بند بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پرانے ہیں اور پچھلی چھ سات دہائی کے دوران کمزور ہو چکے ہیں۔ ۲۳؍ مئی کو شمال مشرقی ریاستوں اور مشرقی بنگلہ دیش میں بہنے والے دریائے بارک پر بنے ایک بند کو نقصان پہنچا۔یہ شگاف بیتھوکنڈی کے مسلم اکثریتی علاقے میں پڑا، اور ہندو اکثریت والے علاقے سِلچر میں آنے والے شدید سیلاب کے دیگر اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا۔سلچر کی سپر نٹنڈنٹ  آف پولیس رامندیپ کور کا کہنا ہے کہ ’دوسری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ شگاف بھی تھا۔ مگر علاقے میں صرف اسی مقام سے پانی داخل نہیں ہوا تھا۔البتہ  یہی وہ واقعہ ہے جس کی وجہ سے نزید حسین اور تین دوسرے مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔ بعد میں ایک پانچویں شخص کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے کسی کا بھی اس شگاف سے کسی طرح کے تعلق کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔سپر نٹنڈنٹ  کور کہتی ہیں، ’’فلڈ جہاد‘ نامی کوئی چیز نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں میں انتظامیہ خود سیلابی پانی کو نکالنے کیلئے بند میں شگاف ڈالتی رہی ہے۔ اس برس ایسا نہیں ہوا تو بعض لوگوں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے۔‘ ٹاٹا اسکول آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ (ممبئی) کے پروفیسر چوہدری کا کہنا ہے’ ’اس طرح کا دعویٰ (’فلڈ جہاد‘) فرار کا آسان راستہ ہے۔ یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے، اور میرے خیال میں اس کا حل زیادہ سوجھ بوجھ سے نکالنا چاہئے۔‘‘
’مجھ پر مسلمان ہونے کی وجہ سے الزام لگایا گیا‘ادھر جیل سے رہائی کے بعد نذیر حسین خوف  میں جی رہے ہیں۔’ ان کا کہنا ہے ’’مجھے اور میرے گھروالوں کو اب بھی گھر سے نکلتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ میرے بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں۔ اگر مجھے گھر سے نکلنا ہی پڑے تو میں اپنا چہرہ چھپانے کیلئے ہیلمٹ پہن لیتا ہوں۔  ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی ہجوم مجھے جان سے نہ مار ڈالے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK