کووڈ سے پہلےکے مقابلے امسال بکروں کی تعداد آدھے سے بھی کم

Updated: July 09, 2022, 9:23 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

تاجر معاشی مندی سے ابھی تک ابھر نہیں سکے،کنہیا لال قتل کے سبب راجستھان کےمخدوش حالات بکرے کم آنے کی اہم وجہ،بارش کے سبب بھی تاجر ہچکچا رہے ہیں

Goats tied to Deonar can be seen
دیونار میں بندھے ہوئے بکرے دیکھے جاسکتے ہیں

 اتوار کوعید قرباں ہے ۔کووڈ سے پہلے جس طرح ۲؍ لاکھ، ڈھائی لاکھ یااس سے بھی زائد تعداد میںبکرے لائےجاتےتھے،اس مرتبہ اس کی نصف تعداد بھی دیونار منڈی میںنہیںلائی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے قیمت اوربھی زیادہ ہے۔خریدار زیادہ ہیں اورمال کم ،جس سے تاجر بھی کافی دام بتاتےہیں،کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ خریداروں کو قربانی کیلئےجانور خریدنا ہی ہے ۔ جمعہ کی سہ پہر خبر لکھے جانےکےوقت تک دیونار منڈی میں ایک لاکھ۵؍ہزار ۹۰۹؍ بکرے لائے گئے تھےجس میں سے ۵۹؍ ہزار ۵۰۰؍ بکرے فروخت ہوئے تھےاور۴۶؍ہزار۴۰۹؍ بکرےمنڈی میںموجود تھے جبکہ ۶۵۰۰؍بڑے جانور لائے گئے تھے۔
مقامی سطح پرخریداری کو ترجیح 
 دوسری جانب تقریباًہرمسلم علاقے میںچھوٹی چھوٹی منڈیاںلگائی گئی ہیںجس سےبہت سے لوگ دیونار نہ جا کراپنے علاقےمیںہی خریداری کوترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہےکہ دیونار جانے میںوقت بھی بہت لگتا ہے ، دوسرےٹرانسپورٹ کا خرچ الگ ہوتا ہے اورتیسرے بارش میں کیچڑ وغیرہ کے سبب دشواری ہوتی ہے۔محمدسلمان عبدالستار شیخ نام کے نوجوان نے بتایاکہ ’’اپنےعلاقے مالونی میںکوشش کےباوجود جب اپنے بجٹ میںپسند کا بکرا نہیںملا تومیںاپنے دوست کے ہمراہ دیونار گیا۔ گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہاں سے بکرا خرید تو لیالیکن اندازہ ہوا کہ اگراپنےعلاقے میںہی لے لیا ہوتا سفرکی دقت اورآٹورکشا کاکرایہ خرچ کرنے سے بچ جاتا، کیونکہ دیونار میںاتنی محنت کےبعدجانور خریدنے کے باوجود اطمینان نہیںہوا اورنہ ہی سستا ملا۔‘‘ 
 گوونڈی میںمقیم حاجی محمدالیاس قادری نے بتایاکہ ’’بکرا توخریدا ہے لیکن یہ صحیح ہے کہ دیونار میںتاجر من مانے انداز میںدام بتاتے ہیں اور جانور کا فی مہنگے ہیں۔ ویسے بھی قربانی کا جانور مہنگاتو ہوتا ہی ہے لیکن اِس وقت کم تعداد میںبکرے لائے جانے کےسبب قیمتیں اوربھی زیادہ ہیں اورتاجر بے غرض ہوکردام بتاتے ہیں۔‘‘
 مولانا مطیع الرحمٰن قاسمی (جوگیشوری ) نے بتایاکہ ’’دیونار منڈی میںجانوروںکی آمد اورخریدوفروخت شروع ہوتےہی چند دن قبل جن لوگوںنے دیونار سے بکرا خرید لیاتھاانہیںمناسب دام پرمل گیا۔اس کے لئے خود انہوں نے اپنا اورایک دوسرے عالم کا حوالہ دیا۔لیکن اس کے بعدجیسےجیسے قربانی کے ایام قریب آتے گئے، دام میں  اضافہ ہوتا گیا اوراب توتاجربے حساب دام بتارہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی درست ہے کہ جانور کم لائے گئے ہیں جس سے قیمتیں اوربھی زیادہ ہیں۔‘‘ 
جانور لائے جارہے ہیںاورفروخت ہورہے ہیں
 دیونار کے جنرل منیجر کلیم پٹھان سے انقلاب کے پوچھنےپربتایاکہ ’’ آہستہ آہستہ بکرے لانے کاسلسلہ جاری ہے اورخریداروں کی زبردست بھیڑہے۔‘‘انہوںنے دیونار میں بنائے گئے انڈیکیٹرکے حوالے سے اعداد وشمار کا اعادہ کیا اوریہ بھی بتایاکہ خریداربڑی تعداد میں دیونار منڈی میںموجود ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر کلیم پٹھان کے مطابق ’’ تاجروں، خریداروں کی سہولت اورجانوروں کی دیکھ ریکھ کے لئے ڈاکٹروں کی ٹیم اپنی اپنی ذمہ داری میں مصروف ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ کوئی بدنظمی نہ ہو

deonar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK