بہار میں ’کھیلا ہوبے‘ کا امکان، تیج پرتاپ یادو نے واضح اشارہ دیا

Updated: April 24, 2022, 2:27 AM IST | patna

رابڑی دیوی کی افطار پارٹی میں نتیش کی شرکت سے پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں کو تیج پرتاپ نے تقویت دی، کہا کہ ’’حکومت سازی پر خفیہ بات چیت ہوئی ہے۔‘‘

Nitish Kumar, Tejsui and Tej Pratap were sitting with Yadav at the Iftar party at Korabari Devi`s residence on Friday. (PTI)
جمعہ کورابڑی دیوی کی رہائش گاہ پر افطارپارٹی کے موقع پر نیتش کمار، تیجسوی اور تیج پرتاپ یادو کے ساتھ بیٹھے تھے۔ (پی ٹی آئی)

  بہار میں جمعہ کو رابڑی دیوری  کی رہائش گاہ پر افطار پارٹی میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی شرکت    کےبعد ریاست میں ’’کھیلا ہوبے‘‘ کے تعلق سے جو قیاس آرائیاں شروع ہوئی ہیں  انہیں لالو یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ نے سنیچر کو یہ کہہ کر تقویت دیدی کہ افطار پارٹی کے دوران بہار میں حکومت سازی کے تعلق  سے خفیہ بات چیت ہوئی ہے۔ دوسری طرف تیجسوی یادو نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ روایتی دعوت تھی جس میں سب کو مدعو کیا گیا تھا۔  بہرحال ان دعوؤں کے بیچ کہ نتیش کمار اس مرتبہ بی جےپی کے ساتھ خوش نہیں ہیں،  جمعہ کو   آر جے ڈی کی افطار پارٹی میں ان کی شرکت کو سیاسی  پس منظر میں دیکھا جارہاہے۔ 
حکومت سازی کیلئے خفیہ بات چیت 
  بہار میں حکومت سازی کیلئے آر جے ڈی اور جے ڈی یو کےا تحاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے  تیج پرتاپ یادو نے کہا ہے کہ ’’ میں  نے پہلے نتیش کمار کیلئے نو انٹری بورڈ لگادیاتھامگر اب میں  نے ’انٹری نتیش چاچاجی ‘ کا بورڈ لگادیاہے۔‘‘ واضح  رہے  کہ  ۲۰۱۷ء میں نتیش کمار  نے جب مہا گٹھ بندھن سے علاحدگی اختیار کرکے بی جےپی کا ہاتھ تھام لیا تھا  تب تیج پرتاپ نے ’’نو انٹری نتیش کمار‘‘ ٹویٹ کیا تھا جبکہ افطار پارٹی سے قبل انہوں نے ’’انٹری نتیش چاچاجی ‘ ‘ کا بورڈ لگادیاتھا۔  خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ’’ میں نے انٹری نتیش چاچاجی کا بورڈ لگایا تبھی تو وہ آئے۔  اب چونکہ وہ آگئے ہیں تو حکومت بھی بنے گی۔ ہم حکومت بنائیں گے، مگر یہ ایک راز ہے۔ میں  نے   خاموشی سے نتیش جی سے گفتگو کی ہے۔‘‘ تیج پرتاپ یادو نے ساتھ ہی نشاندہی کی کہ افطار پارٹی میں نتیش کمار ہی نہیں بلکہ بی جےپی کے شاہنواز حسین، ایل جے پی کے چراغ پاسوان اور دیگر لیڈر بھی شریک ہوئے تھے۔ 
 تیجسوی کا احتیاط کا مظاہرہ 
  دوسری طرف لالو کے دوسرے بیٹے اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے اس ضمن میں  احتیاط کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے  حکومت سازی کے تعلق سے کسی طرح کا دعویٰ کرنے کے بجائے کہا کہ ’’یہ روایت رہی ہے کہ افطار پارٹی میں سب لوگ شرکت کرتے ہیں۔‘‘ خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ ’’ہم نے تمام  لوگوں کو دعوت دی تھی،چاہے وہ بی جےپی کے ہوں  یاجے ڈی یو کے یا پھر ایل جے پی کے۔ یہ روایت رہی ہے کہ افطار پارٹی میں سب شرکت کرتے ہیں۔‘‘
حکمراں محاذ کے رشتوں میں کھٹاس
 جے ڈی یو کے ایک بار پھر پالا بدلنے کی قیاس آرائیاں ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں  جب حکمراں محاذ  کے رشتوں میں کھٹاس واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ بطور خاص بوچاہان  اسمبلی حلقے  کے ضمنی الیکشن میں شکست کےبعد رشتوں  کی یہ کھٹاس مزید واضح طورپر سامنے آگئی ہے۔  یہاں کی ہار کیلئے  جے ڈی یو کے پارلیمانی بورڈ کے صدر اوپیندر کشواہا نے این ڈی اے کے اتحادیوں  کے درمیان رابطہ اور کوآرڈنیشن کی کمی کوبتایا ہے۔  انہوں  نے بی جےپی کی مرکزی قیادت سے معاملے کو دیکھنے اور دونوں پارٹیوں کے درمیان  کو آرڈنیشن کمیٹی بنانے کی ضرورت کا اعادہ بھی کیا۔ 
 افطار پارٹی میں نتیش کی شرکت بے وجہ نہیں
  واضح رہے کہ ۵؍ سال کے بعد پہلی بار نتیش کمار نے آر جے ڈی کی افطار پارٹی میں شرکت کی ہے۔ بہار کے سیاسی مبصرین اسے اس لئے اہمیت دے رہے ہیں کیوں کہ ان کے مطابق نتیش بغیر کسی مقصد کے کچھ نہیں کرتے۔  بی جےپی کے ۲؍ لیڈروں اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے بہار دورہ سے قبل تیجسوی سے نتیش کا قریب آنا بے وجہ نہیں  ہے۔ وہ اس کے ذریعہ بی جےپی کو پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔ سمجھا جارہاہے کہ وہ اس کے ذریعہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو دباؤ میںرکھنا چاہتے ہیں کہ کبھی بھی بی جےپی کا ساتھ چھوڑ کر آر جے ڈی سے اتحاد کرسکتے ہیں۔ 

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK