Inquilab Logo Happiest Places to Work

جین زی مظاہرین کی ستائش کا سلسلہ دراز

Updated: August 06, 2026, 7:49 AM IST | New Delhi

مشہور سماجی کارکنان اور مصنفین ہرش مندر ، سنجے جھا ا ور اروندھتی رائے متفق ہیں کہ ’’ نئی نسل نے ہفتے بھر میں وہ کردکھایا جو ہم ۱۲؍ سال میں نہیں کرپائے‘‘

Abhijeet Deepke, Neha Bora and others led the demonstration successfully. (File Photo)
ابھیجیت دپکے، نیہا بورااور دیگر جن کی قیادت متں کامیاب مظاہرہ ہوا ۔(فائل فوٹو)

 جین زی مظاہرین، جنہوںنے مودی حکومت کو نہ صرف اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کیا بلکہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کردیا، کی  سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی حلقوں میں بھرپور ستائش ہو رہی ہے۔ یہ سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے کیوں کہ اب اس میںملک کے مشہور سماجی کارکنان اور حقوق انسانی کی علمبردارشخصیات بھی شامل ہو گئی ہیں۔ ان میں مشہور سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر،کانگریس پارٹی کے سابق ترجمان اور سیاسی تجزیہ کار سنجے جھا اور عالمی شہرت یافتہ مصنفہ اور مشہور سماجی کارکن اروندھتی رائے بھی شامل ہو گئی ہیں۔
ہرش مندر نے کیا کہا ؟
  مشہور سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر نے ملک کی بدلتی تصویر کے پیش نظر کہا ہے کہ یہ ’’بدلتا ہندوستان‘‘ ہے جس کیلئے نئی نسل نے ہفتے بھر میں وہ کردکھایا جو ہم ۱۲؍ سال میں نہیں کرسکے تھے۔ ہرش مندر یہاں ’’ستیہ گرہ بائے انسٹا گرام جنریشن‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سمینار میں اظہار خیال کررہے تھے۔ اس موقع پر ہرش مندَر نے نئی نسل، جسے جنریشن زیڈ یا جین زی کہا جاتا ہے، کی ستائش کی اور جنتر منتر نیز دیگر شہروں کے مظاہروں کی بنیاد پر کہا کہ اس نسل کو جو کامیابی ملی ہے وہ اس کے حوصلہ، توانائی اور عزم کی مرہون منت ہے۔ہرش مندر کے بقول ملازمتوں کے حصول کیلئے تعلیم ضروری ہے لیکن بار بار کے پیپر لیک ہونے کی وجہ سے طلبہ اپنی پسند کے روزگار کی جانب بڑھنے یا اسے حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ انہوں نے جنتر منتر کے مظاہرہ کی بابت کہا کہ اس میں شریک ہونے والے نوجوان الگ الگ معاشی اور سماجی پس منظر سے آئے تھے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے اپنے مظاہرہ کو پُرامن اور منظم رکھانیز اسے ’’احتجاج کا میلہ‘‘ میں تبدیل کردیا تھا۔
 بقول ہرش مندر ’’اس احتجاج میں عدم تشدد کے گاندھیائی اُصول کی چمک دکھائی دی، طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں اور طنز و مزاح کی رنگ آمیزی بھی قابل ذکر تھی۔‘‘ انہوں نے وسیع تر سماج سے اپیل کی کہ (حالات کی مثبت تبدیلی کیلئے) صرف طلبہ سے اُمید وابستہ کرنا ٹھیک نہیں (پیش رو نسل کو بھی اپنی سی کوشش کرتے رہنا چاہئے)۔ ہرش مندر نے کہا کہ ’’اس احتجاج میں ایسے طلبہ بھی شریک ہوئے جن کے والدین بی جے پی کی حمایت کرتے آئے ہیں مگر ان نوجوانوں میں مسلم مخالف جذبات نہیں تھے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون  نفرت کے پرچار کا ذریعہ بن گئے ہیں مگر ان نوجوانوں نے اس کا بہت مثبت استعمال کیا‘‘۔ بہرحال انہوں نے اس نسل سے اُمیدیں وابستہ کیں اور کہا کہ اس کے ذریعہ چھیڑی گئی تحریک کا جاری رہنا ضروری ہے۔یہ سمینار سٹیزن فورم فار منگلور ڈیولپمنٹ نے منعقد کیا تھا۔ 
سنجے جھا کا تجزیہ 
  دریں اثناء ایک یو ٹیوب چینل (ستیہ ہندی) میں پروفیسر مکیش کمار سے بات چیت کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اور کانگریس کے سابق ترجمان سنجے جھا نے ملک کے حالات، جنتر منتر کا مظاہرہ، دیگر شہروں کے مظاہرے اور حالیہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی ہار اور چڑھاوا چوری کے پیش نظر کہا کہ ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اثرورسوخ کم ہوگیا ہے اور اگر آج لوک سبھا الیکشن کروائے جائیں اور بیلٹ پیپر پر ہوں تو بی جے پی کو پچاس سیٹوں پر محدود ہونا پڑے گا۔  نئی نسل کی بابت انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ۶۵؍ فیصد لوگ وہ ہیں جو ۳۵؍ سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس نئی پیڑھی کی سوچ الگ ہے، اس کا نظریہ الگ ہے، یہ جانتے ہیں کہ آپ نے بارہ سال میں ان کے ساتھ کیا کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK