ملک کا ۴۳؍ فیصد حصہ ناکافی بارش کی زد پر ہے۔ جن ریاستوں میں کم یا بہت کم بارش ہوئی ہے اُن میں میگھالیہ، آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، بہار، گوا، کرناٹک، کیرالا، آسام، تمل ناڈو، ہریانہ اور تلنگانہ شامل ہے جہاں علی الترتیب ۵۹؍ فیصد، ۴۳؍ فیصد، ۳۵؍ فیصد، ۳۱؍ فیصد، ۲۸؍ فیصد، ۲۶؍ فیصد، ۲۲؍ فیصد اور ۲۱؍ فیصد کم بارش ہوئی ہے۔
ملک کا ۴۳؍ فیصد حصہ ناکافی بارش کی زد پر ہے۔ جن ریاستوں میں کم یا بہت کم بارش ہوئی ہے اُن میں میگھالیہ، آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، بہار، گوا، کرناٹک، کیرالا، آسام، تمل ناڈو، ہریانہ اور تلنگانہ شامل ہے جہاں علی الترتیب ۵۹؍ فیصد، ۴۳؍ فیصد، ۳۵؍ فیصد، ۳۱؍ فیصد، ۲۸؍ فیصد، ۲۶؍ فیصد، ۲۲؍ فیصد اور ۲۱؍ فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ جیسے جیسے پانی کی قلت کا احساس لوگوں میں پیدا ہوگا ویسے ویسے اس کی قدر و قیمت کی فکر پیدا ہوگی۔ یہی المیہ ہے۔ نعمت کی قدر تب ہی کی جاتی ہے جب اُس میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جب وہ خاطرخواہ مقدار میں میسر ہوتی ہے تب اس کی قدر اور حفاظت عوام کی ترجیح نہیں بنتی۔ اس سال ابتداء ہی سے بارش کے تیور مختلف تھے۔ مانسون تاخیر سے آیا، روٹھا روٹھا سا رہا اور زور پکڑنے کے بعد ہی کمزور پڑ گیا۔ دیکھا جائے تو بارش جیسی بارش اس سال ہوئی ہی نہیں۔ نلاشبہ بارش خالق ارض و سماء کی نعمت عظیم ہے۔ رب العالمین جب چاہتا ہے بارش برساتا ہے اور جب چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ اُس کی مرضی و منشاء پر منحصر ہے مگر بسا اوقات انسان خود ہی نعمت سے کھلواڑ کرنے لگتا ہے اور اپنی محرومی کے نقشے خود بناتا ہے۔ سائنس اس خرافاتی رجحان کی توثیق کرتی ہے۔ سائنسداں بارش کی کمی اور زیادتی (کہیں سوکھا کہیں سیلاب) کے سائنسی اسباب پر روشنی ڈالتے رہتے ہیں بلکہ متنبہ کرتے ہیں کہ ماحول سے مذاق بند کیا جانا چاہئے مگر زمین کی تپش میں اضافہ کرنے والی انسانی کارستانیاں رُکتی نہیں ہیں۔ اُن کانفرنسوں کو جانے دیجئے جو تحفظ ِ ماحولیات کیلئے برپا کی جاتی ہیں۔ اُن میں کہنے سننے کیلئے بہت کچھ ہوتا ہے کرنے کیلئے کچھ نہیں ہوتا۔ جو ممالک زمین کی حدت میں اضافے کے ذمہ داروں میں سر فہرست ہیں اُن کو روکا ٹوکا نہیں جاتا۔ نیپال میں سیلاب کی تباہی کے بعد کیا ہوا؟ زمین کی تپش بڑھانے والوں نے نیپال کے مطالبے پر خاموشی اختیار کرلی۔ مطالبہ تھا کہ اُسے امداد نہیں چاہئے، ماحولیاتی ہرجانہ دیا جائے۔ مطالبہ منصفانہ تھا مگر صدا بصحرا ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:یومِ اساتذہ پر روشن مستقبل کے معماروں کو سلام
بارش کی قلت سے فصلوں کا نقصان ہوتا ہے، اشیائے خوردنی کی قلت بڑھتی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت کا چہرا اُتر جاتا ہے۔ اس کیلئے حکومت بارش کے ناکافی ہونے کو مورد الزام ٹھہراتی ہے مگر اس کے اسباب پر ایک لفظ نہیں کہتی۔کوئی اس سے دریافت بھی نہیں کرتا کہ اصل اور بنیادی سوال کیوں پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ملک میں اس سال جون، اگست اور ستمبر میں بارش کے تیور بگڑے ہوئے ہی رہے، صرف جولائی میں معمول سے ایک فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ اس کا مجموعی اثر یہ ہے کہ پورے ملک میں معمول سے ۱۷؍ فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ بھگتنا عوام کو ہوتا ہے، وہی بھگتیں گے اس سال بھی۔
ہرچند کہ اوپر مہاراشٹر کا ذکر نہیں آیا مگر یہاں بھی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ ۲۰؍ اضلاع میں بارش کا ۲۰؍ فیصد سے زیادہ خسارہ ہے۔ کئی علاقوں کا بُرا حال ہے۔ مراٹھواڑہ اور وِدربھ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ستمبر کے بقیہ دنوں میں بھرپائی مشکل ہے۔ ایسے میں تشویش زیادہ ہے، خود کو بہلانے کے اسباب کم۔