• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عورت سب سے پہلے خود کی عزت کرنا سیکھے

Updated: September 21, 2026, 3:22 PM IST | Dr. Qamar Sarwar | Mumbai

عورت کی اپنی ذات کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔ اس کے بھی کچھ خواب ہیں جنہیں عمر کی کسی منزل پر صرف اسلئے قر بان نہیں کیا جاسکتا کہ اب اس کی ذمہ داریاں بہت ہیں۔ خواب ہمیشہ بڑے نہیں ہوتے؛ کبھی ایک پُرسکون صبح، اپنی پسند کی کتاب، چند لمحوں کی تنہائی، کسی عزیز سے بے فکری کی گفتگو یا اپنے پسندیدہ کام کیلئے تھوڑا سا وقت بھی اس کیلئے خوشی کا باعث ہوتا ہے۔

Do not neglect yourself amidst household responsibilities, for you, too, have a right to yourself. Photo: INN
گھر کی ذمہ داریوں کے درمیان اپنی ذات کو فراموش نہ کریں کیونکہ آپ کا بھی اپنی ذات پر حق ہے۔ تصویر: آئی این این

عورت کی زندگی رشتوں کے خوبصورت رنگوں سے بنی ہوتی ہے۔ کبھی وہ بیٹی بن کر گھر میں خوشیاں لاتی ہے، کبھی بہن بن کر اپنوں کا سہارا بنتی ہے، کبھی بیوی بن کر زندگی کے سفر میں شریک ہوتی ہے اور کبھی ماں بن کر اپنی پوری دنیا بچوں کے نام کر دیتی ہے۔ اس کے مزاج میں محبت، ایثار اور دوسروں کا خیال رکھنے کی ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ وہ اکثر اپنی ضرورت سے پہلے اپنوں کی ضرورت کو محسوس کر لیتی ہے۔ لیکن اسی خوبی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ بہت سی عورتیں دوسروں کا خیال رکھتے رکھتے اپنی ذات کو بھول جاتی ہیں۔ ان کی صبح گھر والوں کی ضروریات سے شروع ہوتی ہے اور رات بھی انہی کے کام سمیٹتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ برسوں تک وہ اپنی پسند، آرام، صحت اور خواہشات کو یہ سوچ کر مؤخر کرتی رہتی ہیں کہ پہلے گھر، بچے اور دوسرے رشتے، پھر کبھی اپنے بارے میں سوچیں گی۔ مگر وہ ’کبھی‘ اکثر پوری زندگی نہیں آتا۔

ہم نے عورت کیلئے قربانی کو اتنا بڑا معیار بنا دیا ہے کہ بعض اوقات اس کی خاموش تکلیف بھی ہمیں خوبی محسوس ہونے لگتی ہے۔ جو عورت ہر بات سہہ لے، اپنی خواہش چھوڑ دے، تھکن چھپا لے اور کبھی اپنی ضرورت کا ذکر نہ کرے، اسے فوراً ’بہت سمجھدار‘ اور ’بہت اچھی‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ اس خاموشی کے پیچھے اس کا دل کیا کہہ رہا ہے؟ ہر خاموش عورت مطمئن نہیں ہوتی اور ہر مسکراتی ہوئی عورت بے فکری کی زندگی نہیں گزار رہی ہوتی۔

یہ بھی پڑھئے:خاتون گھر کی معیشت کی نگہبان اور بجٹ کی منتظم ہوتی ہے

عورت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے لئے وقت نکالنا خود غرضی نہیں ہے۔ اگر وہ کچھ دیر سکون سے بیٹھنا چاہتی ہے، اپنی پسند کی کتاب پڑھنا چاہتی ہے، کسی سہیلی سے بات کرنا چاہتی ہے، اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے یا کسی ہنر کو سیکھنا چاہتی ہے تو اسے اس خواہش کیلئے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ زندگی صرف ذمہ داریوں کا نام نہیں، اس میں انسان کی اپنی خوشی اور ذہنی آسودگی بھی شامل ہے۔

خاص طور پر گھریلو عورت کی محنت کو معمولی سمجھنا ہمارے معاشرہ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ گھر صاف رکھنا، کھانا بنانا، بچوں کی دیکھ بھال، بزرگوں کی خدمت اور گھر کے ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھنا بظاہر روزمرہ کے کام ہیں، مگر ان کاموں کے پیچھے وقت، توانائی اور مسلسل ذمہ داری شامل ہوتی ہے۔ اس محنت کی کوئی ماہانہ تنخواہ نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی کوئی قدر بھی نہیں۔ ایک عورت اگر دن بھر گھر سنبھالتی ہے تو اسے صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’یہ تو تمہاری ذمہ داری ہے۔‘‘ کبھی اس کی محنت کو محسوس کرنا، اس کا شکریہ ادا کرنا اور اس کے آرام کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ محبت صرف الفاظ سے نہیں، رویوں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’کبھی خود کی بھی فکر کر لیں‘‘ یہ جملہ اپنے آپ سے کہیں

اسی طرح عورت کو بھی ہر ذمہ داری اپنے سر لینے کی عادت بدلنی ہوگی۔ بعض اوقات وہ خود ہی یہ سمجھ لیتی ہے کہ اگر میں نے نہیں کیا تو گھر کیسے چلے گا؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے افراد بھی اس کی محنت کو اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ جہاں کام بانٹا جاسکتا ہو، وہاں کام بانٹنے میں کوئی قباحت نہیں۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ذمہ داریاں دینا اور گھر کے دوسرے افراد سے تعاون لینا عورت کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ گھر کے نظام کو زیادہ متوازن بناتا ہے۔ عورت کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صبر اور اپنی عزتِ نفس کے درمیان فرق سمجھے۔ زندگی کی معمولی تلخیوں، اختلافِ رائے اور ناراضی کو برداشت کرنا الگ بات ہے، جبکہ مسلسل بے عزتی، تحقیر، خوف یا ناانصافی کو خاموشی سے سہتے رہنا الگ معاملہ ہے۔ جہاں مسئلہ ہو وہاں بات کرنا، مدد لینا اور مناسب راستہ تلاش کرنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔

ہمیں اپنی بیٹیوں کی تربیت بھی اس انداز سے کرنی چاہئے کہ انہیں صرف ’اچھی بہو‘ یا ’اچھی بیوی‘ بننے کا سبق نہ دیا جائے، بلکہ ایک اچھی انسان بننے کا شعور بھی دیا جائے۔ انہیں تعلیم، خود اعتمادی، فیصلے کرنے کی صلاحیت اور اپنے حقوق و ذمہ داریوں کا علم بھی دیا جائے۔ ساتھ ہی بیٹوں کو بھی یہ سکھایا جائے کہ عورت کی خدمت کو اس کی کم تری نہ سمجھیں اور گھر کے کام میں ہاتھ بٹانا کسی مرد کی شان کے خلاف نہیں۔ زندگی میں توازن بہت ضروری ہے۔ عورت رشتوں سے منہ نہ موڑے، اپنی ذمہ داریوں سے فرار نہ اختیار کرے اور محبت کو کم نہ کرے لیکن محبت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ اپنی پوری شخصیت مٹا دے۔ دوسروں کیلئے جینا یقیناً خو صورت ہے مگر اپنے وجود کی حفاظت بھی ایک ذمہ داری ہے۔ اپنوں کیلئے جیتی رہئے مگر خود سے بے وفائی نہ کیجئے۔ سب کے دکھ بانٹئے مگر اپنے دل کا دکھ بھی سنئے۔ سب کی خوشیوں کا خیال رکھئے، مگر اپنی خوشی کو بھی زندگی سے بے دخل نہ کیجئے۔ کیونکہ ایک عورت جب خود کو سنبھال کر رکھتی ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی بلکہ اپنے پورے گھر کو مضبوط سہارا دیتی ہے۔ آپ عورت ہیں، صرف ایک رشتہ نہیں۔ آپ کی اپنی ایک پہچان ہے، ایک وجود ہے، ایک دل ہے، ایک زندگی ہے۔ اس زندگی کو دوسروں کے نام کرتے کرتے خود کو اتنا بھی نہ بھولئے کہ آئینے میں نظر آنے والی عورت آپ کو اجنبی لگنے لگے۔ اپنوں کیلئے چراغ بنئے، مگر خود کو جلا کر نہیں، اپنی روشنی بچا کر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK