• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

پیاز اور ٹماٹرکی قیمتوں میں ایک ماہ تک کمی کی امید نہیں!

Updated: November 25, 2023, 11:46 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

شہری فکرمند۔اے پی ایم سی مارکیٹ میںپیاز اورٹماٹر کے مہنگے ہونے کی مختلف وجوہات بتائی گئیں۔ کچھ تاجروں نے ذخیرہ اندوزی کوبھی مہنگائی کا سبب بتایا۔

As tomatoes and onions become expensive, the business of vegetable vendors is also affected. Photo: Inquilab
ٹماٹر اور پیاز مہنگے ہونے سے سبزی فروشوں کا کاروبار بھی متاثر ہورہا ہے۔ تصویر:انقلاب

پیازاورٹماٹرکی قیمتیں بڑھنے سے لوگ مہنگائی کی مزیدمار جھیلنے پرمجبور ہیں۔ ایک ماہ تک اِن دونوں اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی امید نہیں ہے۔ عام شہریوں کے لئے کہیں سے راحت کی خبر نہیں مل رہی ہے ، ضروری اشیاء لانا بھی مسئلہ بن گیا ہے اوران کی جیب پرخاصا بوجھ پڑرہا ہے۔پیاز اورٹماٹر مہنگے ہونے کی مختلف وجوہات بتائی گئی ہیں۔ کچھ تاجروں نے ذخیرہ اندوزی کوبھی اس کی ایک اہم وجہ بتائی ہے۔
شہریو ں کی زبانی 
عقیلہ ایس اے خان(خاتون خانہ) نے پیازاورٹماٹر مہنگے ہونے پرکہاکہ ’’ کوئی چیز سستی ہونے کی بھی خبرملے۔ پیاز اورٹماٹر ایسی اشیاء ہیں کہ ہر امیر غریب کے کچن کا لازمی جزو ہیں ، لیکن مہنگائی کے سبب لوگ یہ چیزیں خریدنے کیلئے سوچنے پر مجبور ہیں۔ سمجھ ہی میں نہیں آتا ہے کہ کب قیمت آسمان پرچلی جاتی ہے اورحکومت کیا کرتی ہے۔‘‘ایک دوسری خاتون رقیہ عبدالرحمٰن خان نے کہاکہ ’’ ۶۰، ۷۰؍روپے فی کلو پیازکا دام ہے، کیا حکومت غریب آدمی کی تھالی سے پیازاورٹماٹرچھین لینا چاہتی ہے ۔ چندماہ قبل پیاز۱۲، ۱۵؍روپے فی کلو فروخت ہورہی تھی ،اب ۵؍سے ۶؍گنا دام بڑھ گئے ہیں۔ یہی حال ٹماٹر کا ہے۔ ۱۰؍ دن پہلے ٹماٹرفی کلو ۱۵؍روپے میں فروخت ہورہا تھا، اب ۴۰؍ اور۵۰؍روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔ کیا اسی طرح حکومت غریب آدمی کا خیال رکھ رہی ہے کہ اس سے پیازتک چھین لینا چاہتی ہے۔‘‘
عبدالعظیم انصاری نے کہاکہ’’ بازار جانے پراندازہ ہوتا ہے کہ سبزی ترکاری کس قدر مہنگی ہے ،پیاز اورٹماٹرکے دام تو آسمان پر ہیں لیکن ہر شخص مجبور ہے کہ کسی طرح کم ہی سہی ، خریدے کیونکہ اس کے بغیرکچن چل ہی نہیں سکتا۔ بازارجانے کے بعد مہنگائی کے سبب جو کچھ گھر سے سوچ کرچلتے ہیں ،وہ ترتیب مہنگائی کے سبب مجبوراً بدلنی پڑتی ہے۔دوسری طرف حکومت لمبے چوڑے دعوے اورضروری اشیاء کی وافر مقدار میں فراہمی کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتی ہے۔ ‘‘
چھوٹے تاجروں کی زبانی اوران کے مسائل 
سبزی ترکاری ،ٹماٹراورپیازفروشوں کے الگ مسائل ہیں ۔ مہنگے داموں پر پیازا ورٹماٹرفروخت کرنے پران کی الگ دلیلیں ہیں۔ سریش گپتا نامی معذور سبزی فروش نے کہاکہ ’’ہم لوگ چھوٹا موٹا کاروبار کرکے گزراوقات کرتے ہیں ، جب ہمیں مہنگا ملتا ہے توہم بھی مہنگا بیچتے ہیں ،آخر بچوں کاپیٹ کیسے بھرےگا۔‘‘ انہوں نے مہنگے داموں فروخت کرنے کی ۵؍الگ الگ وجوہات بتائیں۔ اوّل یہ کہ ہمیں مہنگا ملتا ہے ، دوسرے ہول سیل مارکیٹ میں جس قیمت پرملتا ہے ،اس پرٹرانسپورٹ کا خرچ ہمیں گھرتک لانے کیلئے اپنے طور پردینا پڑتا ہے، تیسرے پیازہو یا ٹماٹریا دیگرسبزی ، جب ہول سیل میں خریدی جاتی ہے اوراسے ایک کلو آدھا کلوکرکے بیچناہوتا ہے تو وزن مزیدکم ہوجاتا ہے ، چوتھے گھرلاکر کھولنے کےبعد ایک آدھ کلو پیازاور ٹماٹرخراب یا دبا ہوا نکلتا ہےاوراس میں بوری کا وزن بھی شامل ہوتا ہے اورپانچویں ہمیں صاف کرکے گاہک کودینے کے وقت اسے تھیلی بھی دینی پڑتی ہےاورکچھ منافع بھی کمانا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہول سیل اورریٹیل کےدام میں فرق رہتا ہے اور یہ فرق رہے گا ۔لیکن ان کی جانب کوئی دھیان نہیں دیتا۔‘‘
 کرانہ اسٹور چلانے والے مہتاب انصاری نے بتایا کہ ’’پیازاورٹماٹر کے دام بڑھنے پرکچھ گاہک کم ضرور ہوئے ہیں لیکن یہ ایسی اشیاء ہیں کہ آدمی چھوڑنہیں کرسکتا ،کم کرسکتا ہے چنانچہ پیاز اورٹماٹر کی فروخت میں کچھ کمی آئی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مہنگائی کی وجہ ہمیں اس لئے معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم لوگ کم مال خریدکر کر بیچتے ہیں ،اس لئے وجہ جاننے کےلئے زیادہ کوشش بھی نہیں کرتے۔‘‘
’’گاہک کو مطمئن کرنا آسان نہیں ‘‘
سید ظہیرجو پیشے سے میکینک ہیں لیکن سبزی فروخت کرتے ہیں، کاکہنا ہے کہ’’ پیازاورٹماٹر کے دام میں اچانک اضافہ ہونے سے ہم لوگ بھی حیران ہیں کیونکہ گاہک کومطمئن کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ دوسرے نقصان کابھی اندیشہ رہتا ہے کیونکہ ان اشیاء کوبہت زیادہ وقت تک نہیں رکھا جاسکتا، خاص طور پرٹماٹر کوتوبالکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ٹماٹر ۴۰؍ روپے ،۳۰؍روپے اورسب سے ہلکی کوالیٹی کا ۲۰؍ تا ۲۵؍ روپے میں فروخت ہورہا ہے۔‘‘ 
’’ابھی ایک مہینے تک پیازاورٹماٹرسستانہیں ہوگا ‘‘
اے پی ایم سی مارکیٹ ، واشی کے ڈائریکٹر شنکرپنگلے نے بتایاکہ ’’ ٹماٹر کی کھیتی کم ہوئی ہے اوردوسری ریاستوں گجرات وغیرہ سےٹماٹران دنوں نہیں آرہا ہے اس لئے قیمت بڑھی ہوئی ہے۔اے پی ایم سی مارکیٹ میں ۳۵؍ اور۲۵؍روپے کلو ٹماٹر فروخت ہورہا ہے۔پیازکی قیمت ۱۵؍دن پہلے ۶۰؍روپے تھی ، اب ۴۰؍ روپے میں ہول سیل فروخت کی جارہی ہے اوردسمبر کے اخیرتک جب تک مہاراشٹر کے الگ الگ حصوں سے نئی پیازنہیں آئے گی تب تک دام میں کمی کی امیدنہیں ہے ۔اس کے علاوہ ایکسپورٹ بھی ہورہی ہے اس لئے دام ۳۰؍روپے تک آنے کی امید ہےمگر ایک ماہ بعد۔‘‘
اے پی ایم سی مارکیٹ میں پیازکے ہول سیلر تاجر کیتن جسانی نے کہا کہ ’’ پیازکے دام میں اضافہ کی وجہ ڈیمانڈ اورسپلائی کا فر ق ہے ۔ جب تک نئی پیاز کی کھیپ نہیں آجاتی ہے تب تک دام میں مزید کمی کی امید نہیں ہے۔ اس وقت مہاراشٹر کے الگ الگ ہول سیل مارکیٹ میں بھی پہلے جیسا ذخیرہ نہیں ہے اورنہ ہی دوسری ریاستو ں سے پہلے کی بہ نسبت سپلائی کی جارہی ہے جس سے دسمبر کے اخیر تک یہ صورتحال برقرار ہنے کا امکان ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK