کلیان ریلوے اسٹیشن کے باہر غیر ذمہ داررکشا ڈرائیوروں کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ

Updated: December 09, 2021, 8:00 AM IST | Ajaz Abdul ghani | Mumbai

:کلیان ریلوے اسٹیشن کے علاقےمیں اسمارٹ سٹی پرو جیکٹ کے تحت ترقیاتی کام زور وشور سے جاری ہے۔

Serious traffic situation near Kalyan station
کلیان اسٹیشن کے قریب ٹریفک کی سنگین صورتحال

کلیان ریلوے اسٹیشن کے علاقےمیں اسمارٹ سٹی پرو جیکٹ کے تحت ترقیاتی کام زور وشور سے جاری ہے۔پرو جیکٹ کے کاموں کے لیے نقل وحمل کے راستے بھی استعمال میں لائے جارہے ہیں، وہیں لاپروا اور غیر ذمہ دار ڈرائیور اپنے رکشے کہیں بھی پارک کردیتے ہیں۔اس وجہ سے ریلوے اسٹیشن کے باہر ٹریفک جام کا مسئلہ سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے۔عام شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دار رکشے ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ 
        واضح رہے کہ کلیان ریلوے اسٹیشن کے باہر اسٹیشن ایریا ٹریفک امپرومنٹ اسکیم( سیٹس) کی تعمیر کاکام زور و شور سے جاری ہے جس کے باعث بیل بازارسے امبیڈ کر گارڈن تک جانے والی سڑک کا فی تنگ ہو چکی ہے۔ وہیں دیپک ہوٹل سے بس ڈپو تک رکشا ڈرائیور کہیں بھی اپنی گاڑیوں کو کھڑی کر کے مسافروں کو بٹھا تے ہوئے نظر آتے ہیں حالانکہ رکشوں کے لئے باقاعدہ اسٹینڈ بنا ہوا ہے۔ لیکن مسافروں کو بٹھانے کی جلد بازی میں سڑ ک کے کنارے رکشے کھڑےکرنے سے ٹر یفک جام ہو رہا ہے۔ علاوہ ازیں دیپک ہوٹل سے سادھنا ہوٹل کے درمیان غیر قانونی پھیری والوں کی وجہ سے بھی گاڑیوں کی نقل وحمل متاثر ہو تی ہے۔ فی الوقت ایس ٹی کی ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے پوری گنجائش کے ساتھ بسیں نہیں چلائی جارہی ہیں ور نہ ٹریفک جام کا مسئلہ اور بھی سنگین ہو جاتا۔گزشتہ شب دیپک ہوٹل کے سامنے کھدائی کے دوران پائپ لائن پھٹنے سے پورے راستے پر پانی بھر گیاتھا جس کی وجہ سے ڈرائیوروں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ترقیاتی کاموں کے پیش نظر ۳؍ منزلہ پارکنگ کو منہدم کر نے سے دوپہیہ گاڑیوں کی پار کنگ کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے لہٰذا سڑ ک کے کنار کھڑی موٹر سائیکلوں کی وجہ سے بھی ٹریفک جام ہوتا ہے۔ بد ھ کو اسمارٹ سٹی پر وجیکٹ کی نگرانی کر نے والے میونسپل افسر سریندر ٹینگڑے نے امبیڈ کر گارڈن پہنچ کر اسمارٹ سٹی کے کاموں کا جائزہ لیا اور ریلوے اسٹیشن کے اطراف ہو نےوالے ٹریفک جام کے مسئلہ کو حل کر نے کیلئےمحکمہ ٹریفک کے ساتھ مختلف متبادل راستوں پر گفتگو کی۔ 

kalyan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK